ہم اکیسویں صدی میں بھی سول مقدمات میں پھنسے ہوہے ہیں: جسٹس شاہد بلال

ہم اکیسویں صدی میں بھی سول مقدمات میں پھنسے ہوہے ہیں: جسٹس شاہد بلال

لاہور(نامہ نگارخصوصی)مصالحتی مراکزکے نگران لاہور ہائی کورٹ کے مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن نے کہاہے کہ لوگوں کو انصاف کی فراہمی ہمارا بنیادی فریضہ ہے. ہم اکیسویں صدی میں بھی سول مقدمات میں پھنسے ہوئے ہیں،وہ گزشتہ روز پنجاب جوڈیشل اکیڈمی میں پنجاب بھر میں قائم مصالحتی مراکز(اے ڈی آر سنٹرز) کی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لئے ہونے والے اجلاس سے خطاب کررہے تھے جبکہ اس موقع پر خطاب کرتے ہوئے مسٹر جسٹس چودھری محمد مسعود جہانگیر نے کہا کہ بدقسمتی سے جج اعدادوشمار بڑھانے کی غرض سے عام سے مقدمات نمٹانے کوترجیح دیتے ہیں اور مرکزی مقدمات کو پس پشت ڈال دیاجاتاہے،مسٹر جسٹس شاہد بلال حسن نے مزید کہا کہ سول مقدمات کو نمٹانے کا واحد حل میڈی ایشن ہے، اس کے لئے ہمیں اے ڈی آر سنٹرز پر خاص توجہ دینے کی ضرورت ہے؛ اطمینان بخش نتائج آنے میں وقت لگے گا. ان کا کہنا تھا کہ سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ منصور علی شاہ نے اے ڈی آر سنٹرز کو تحریک دی اور لوگوں کو میڈی ایشن کے بارے میں بتایا. ہم جانتے ہیں کہ سول عدالتوں میں زیر التواء مقدمات کو نمٹانا ممکن نہیں ہے لیکن ہمیں فخر ہے کہ تمام تر مشکلات کے باوجود ہمارے ججز بھرپور انداز میں کام کررہے ہیں. فاضل جج کا کہنا تھا کہ ناخواندگی اور کرپشن ہمارے معاشرے کی تنزلی کی بڑی وجوہات ہیں. ہمارے ہاں ہر چیز میں بدعنوانی اور ملاوٹ ہے، ہم اس معاشرے میں رہتے ہیں جہاں پانی بھی خالص دستیاب نہیں ہیں. لیکن عوام کا عدالتوں پر آج بھی اعتماد برقرار ہے، تمام تر مشکلات کے باوجود بھی لوگ اپنے مسائل کے حل کے لئے عدالتوں میں آتے ہیں، انہوں نے کہا کہ مقدمے کو تمام فریقین کو مطمئن کرنا ہمارا فرض ہے، جج کا انصاف پر مبنی ایک فیصلہ ہزاروں سال کی عبادت سے بڑھ کر ہے، ہم سب جانتے ہیں کہ ہم اپنے ایک ایک عمل کیلئے اللہ تعالیٰ کے حضور جوابدہ ہیں۔ اجلاس کے شرکاء سے اظہار خیال کرتے ہوئے جسٹس چودھری محمد مسعود جہانگیر نے کہاکہ یہ امر قابل افسوس ہے کہ ابھی تک مصالحتی مراکز سے مطلوبہ نتائج حاصل نہیں کرسکے، انہوں نے کہا کہ ہم اپنی موجودہ عدالتوں میں بھی میڈی ایشن کر سکتے ہیں، اے ڈی آر سنٹرز سے آنے والے اعدادوشمار حوصلہ افزاء ہیں لیکن قابلِ اطمینان نہیں ہیں، لوگوں کو اے ڈی آر کے حوالے سے تعلیم دینے کی ضرورت ہے، ان کا کہنا تھا کہ جرائم ہر معاشرے میں ہیں لیکن جس معاشرے میں انصاف ہوتا ہے وہی معاشرہ مہذب ہوتا ہے، ناانصافی معاشرے کے بگاڑ کی بنیادی وجہ ہے، ہماری بدقسمتی ہے کہ ہم مرکزی مقدمات کو سائیڈ پر رکھ کر عام سے مقدمات کو نمٹا کر اعدادوشمار بڑھا لیتے ہیں، جج کوشش کریں بڑے مقدمات میں میڈی ایشن کریں تاکہ لوگوں کا میڈی ایشن پر اعتماد بڑھے۔ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج لاہور قیصر نذیر بٹ نے کہا کہ اے ڈی آر سنٹرز کو مزید موثر بنانے کی ضرورت ہے. لوگوں کوثالثی کی جانب راغب کرنا وقت کا اہم تقاضا ہے، میڈی ایشن کے ذریعے عدالتوں میں زیرالتواء لاکھوں مقدمات کا بوجھ کم کیا جاسکتا ہے، انہوں نے لاہور میں کام کرنے والے اے ڈی آر سنٹرز پر مکمل بریفنگ بھی دی. بعدازاں سینئر ایڈووکیٹ احمد وحید خان، ممبر اے ڈی آر کمیٹی نے کہا کہ ہمارے ہاں فریقین مقدمات کو انا کا مسئلہ بنا لیتے ہیں جو کہ بہت گھمبیر صورتحال پیدا کرتا ہے، عدالتوں میں موجود جج صاحبان فریقین کو صلح کا راستہ اپنانے کی ترغیب دیں، فریقین کو بتایا جائے کہ میڈی ایشن سے وقت اور پیسہ بچایا جاسکتا ہے، انہوں نے کہا کہ ہمارے وکلاء پر بھی اس حوالے سے بھاری ذمہ داری عائد ہوتی ہے، معاشرے کو سدھارنا ہے تو اپنے ذاتی مفادات کو پسِ پشت ڈالنا ہو گا، اللہ تبارک و تعالیٰ بھی ہمیں لوگوں کے مابین صلح کروانے کا حکم دیتا ہے، لوگوں کے مابین معاملات کو طے کروانا اجرِ عظیم ہے، اجلاس سے ڈی جی پنجاب جوڈیشل اکیڈمی حبیب اللہ عامر نے بھی خیالات کا اظہار کیاجبکہ ایڈووکیٹ جنرل پنجاب جمال احمد سکھیرانے بھی اجلاس میں شرکت کی، اجلاس میں پنجاب بھر کے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج اور اے ڈی آرسنٹرز کے میڈی ایٹرز بھی موجود تھے۔

جسٹس شاہد بلال

مزید : صفحہ آخر


loading...