27اکتوبر کو کسی سیاسی ورکر پر تشدد ہول یا راستی روکا گیا جواب صوبائی حکومت سے لیں گے: اسفند یارولی 

    27اکتوبر کو کسی سیاسی ورکر پر تشدد ہول یا راستی روکا گیا جواب صوبائی حکومت ...

پشاور(این این آئی)عوامی نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر اسفندیار ولی خان نے کہا ہے کہ اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے اور صوبائی تنظیمیں طریقہ کار وضع کریں کہ کس طرح ہم جے یو آئی سے تعاون کرسکتے ہیں،مولانا کا لانگ مارچ جب اسلام آباد پہنچ جائیگا تو میں بذات خود اُس میں شرکت کرونگا، وزیراعلیٰ نے سیاسی کارکنان کے ساتھ کچھ کیا تو پھر اے این پی سلیکٹڈ وزیراعلیٰ سے حساب لے گی۔باچا خان مرکز پشاور میں اے این پی کے صوبائی کونسل سے خطاب کرتے ہوئے اسفندیار ولی خان نے کہا کہ اے این پی مولانا کے آزادی مارچ کی حمایت کرتی ہے اور طریقہ کار وضع کررہے ہیں کہ کس حد تک مولانا کے ساتھ تعاون کیا جائے،یہ فیصلہ ہوچکا کہ میں مولانا کے لانگ مارچ میں شرکت کرونگا اور پارٹی کارکنان سے مجھے اُمید ہے کہ وہ بھی میرے ساتھ ہونگے۔اسفندیار ولی خان نے وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا پر بھی واضح کیا کہ اگر 27اکتوبر کو کسی بھی سیاسی ورکر پر تشدد کیا گیا یا اُن کا راستہ روکا گیا تو اُس کا جواب صوبائی حکومت سے اے این پی لے گی اور اسکے بعد میں بھی اپنے کارکنان کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دونگا۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلیٰ کو اتنا سوچنا چاہیے کہ وہ کب تک وزیراعلیٰ رہینگے،پھر اُس کو اپنے آبائی گاؤں مٹہ سوات میں بھی پناہ نہیں ملے گی،جب ایک حکومت اپنے عوام پر آئینی اور جمہوری احتجاج کا راستہ بند کرتی ہے تو پھر عوام کو مجبوری میں غیرآئینی اور غیر جمہوری راستے کا انتخاب کرنا پڑتا ہے۔انہوں نے کہا کہ اپوزیشن سلیکٹڈ حکومت کا خاتمہ اور شفاف انتخابات چاہتی ہے جس میں تمام ادارے اپنے آئینی حدود میں اندر رہتے ہوئے کام کرینگے،فوج پولنگ سٹیشنز میں اندر اور باہر ہونے کے بجائے الیکشن میں سڑکوں پر ڈیوٹیاں دیگی۔اسفندیار ولی خان نے اپنے خطاب میں ایکشن ان ایڈ سول آرڈیننس کو مارشل لاء کے مترادف قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ آرڈیننس کھلم کھلا آئین کی خلاف ورزی ہے،یہ قانون ملک کے کسی دوسرے صوبے میں لاگو نہیں کیا گیا ہے صرف خیبرپختونخوا وہ بدقسمت صوبہ ہے جہاں پر ایسے قوانین لاگو کیے جاتے ہیں،انہوں نے اس اُمید کا اظہار کیا کہ اس آرڈیننس کے حوالے سے معاملہ عدالت میں ہے اور اُمید ہے کہ عدالت انصاف پر مبنی فیصلہ کریگی۔اسفندیار ولی خان نے کہا کہ آج ملک پر مسلط کردہ سلیکٹڈ وزیراعظم کے ذریعے کوشش کی جارہی ہے کہ اٹھارویں آئینی ترمیم کو رول بیک کیا جائے،این ایف سی ایوارڈ کا اجراء نہیں کیا جارہا ہے کیونکہ نئے این ایف سی ایوارڈ کے رو سے وفاق کا حصہ کم اور صوبوں کا حصہ بڑھ جائیگا جو سلیکٹڈ اور سلیکٹرز کو قابل قبول نہیں ہے،انہوں نے کہا کہ مسئلہ کشمیر پر اے این پی کا موقف بہت واضح ہے،اے این پی کے نزدیک وہ لوگ دہشتگرد ہیں جو کسی پر بزور بندوق اپنے نظریات مسلط کرنا چاہتے ہیں،آج کشمیر میں بھارت اپنے نظریات بزور بندوق کشمیریوں پر مسلط کرنا چاہتا ہے جو اے این پی کے نزدیک دہشتگردی ہے، اے این پی مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کے قراردادوں کی روشنی میں حل کرنا چاہتی ہے۔

اسفند یار

مزید : صفحہ آخر


loading...