حکومت تاجروں کو بند گلی میں دھکیلنے سے باز رہے ورنہ تاریخی احتجاج ہوگا‘ سلیمان صدیقی

  حکومت تاجروں کو بند گلی میں دھکیلنے سے باز رہے ورنہ تاریخی احتجاج ہوگا‘ ...

ملتان (نیوز رپورٹر) تاجر برادری کے نمائندہ رہنماوں نے ایف بی آر کی جانب سے چھوٹے دکانداروں کے لئیے 50 ہزار روپے کی خریداری پر شناختی کارڈ کی شرط اور ایک کروڑ روپے سالانہ سیلز پر انکم ٹیکس کی ادائیگی سمیت ڈیڑھ فی صد سیلز ٹیکس لاگو کرنے کے عمل کو احمقانہ قرار دیا ہے اور حکومت کی ٹیکس پالیسی کو زمینی حقائق کے منافی قرار دیتے ہوئے سختی سے مسترد کردیا ہے ان خیالات کا اظہار (بقیہ نمبر12صفحہ12پر)

روزنامہ پاکستان ملتان میں منعقدہ تاجر فورم سے مرکزی چئیرمین تنظیم تاجران پاکستان خواجہ سلیمان صدیقی، سینئیر وائس چیئرمین شیخ محمد اکرم حکیم، صدر جنوبی پنجاب شیخ جاوید اختر، صدر ملتان سٹی خالد محمود قریشی اور جنرل سیکرٹری ملتان سٹی مرزا محمد نعیم بیگ نے گفتگو کرتے ہوئے کیا خواجہ سلیمان صدیقی نے کہا کہ پچھلے تین ماہ سے تاجر برادری سراپا احتجاج ہے ایف بی آر کے اعلی حکام سے متعدد ملاقاتیں اور مذاکرات ہوچکے ہیں لیکن بے سود ثابت ہوئے ہیں صرف زبانی باتیں کی جارہی ہیں لیکن عملدرآمد نہیں ہورہا شائد ان کے پاس اختیارات نہیں ہیں اور آئی ایم ایف کے ایجنڈے کی تکمیل کے لئیے تاجر برادری کو تختہء مشق بنانے کو تلے ہوئے ہیں انہوں نے کہا کہ حکومت کی خوف و ہراس پر مبنی پالیسی کا نتیجہ یہ برآمد ہوا ہے کہ لوگوں نے 711 ارب روپے بینکوں سے نکال لئیے ہیں اگر ایف بی آر حکام اپنی ہٹ دھرمی سے باز نہ آئے تو معیشت کا مزید بیڑہ غرق ہونے کا اندیشہ ہے چھوٹے تاجروں کو ڈبل ٹیکسیشن کا شکار کسی صورت نہیں ہونے دیں گے ایف بی آر نے 1990ء سے جی ایس ٹی کا شور مچانا شروع کیا آج 29 سال گزرنے کے باوجود انہیں یہ بات بآور نہیں ہوسکی کہ ان کے ملک میں شرح خواندگی کی صورتحال کیا ہے چھوٹے تاجر جو پہلے ہی بحران کا شکار ہیں ان پر مزید دستاویزی ٹیکس نظام مسلط کرنا مزید بوجھ ڈالنے کے مترادف ہے ہم نے بارہا آفر کی ہے کہ ایف بی آر کی اسسمنٹ اگر 2 ارب روپے ہے تو تاجر برادری 4 ارب روپے دینے کو تیار ہے لیکن ہمیں ایف بی آر کے کرپٹ ملازمین کے لیئے چارہ بننا ہرگز گوارہ نہیں حکومت بڑے کاروباری مراکز کو سیلز ٹیکس میں لائیں چھوٹے تاجر جو پہلے ہی بحران کا شکار ہیں ان کے کاروبار ٹھپ ہوچکے ہیں وہ منشی رکھنے کے متحمل نہیں ہوسکتے تاجر رہنما شیخ محمد اکرم حکیم، شیخ جاوید اختر نے کہا کہ ایف بی آر کو ان سے ٹیکس وصول کرنا چاہئیے جو انڈر انوائسز کے ذریعے ٹیکس چوری کررہے ہیں اس ٹیکس کی لیکج کو روکا جائے جبکہ حکومت ائی ایم ایف کے ایماء پر مقرر کردہ غیر متوقع ٹیکس ہدف 55 ہزار ارب روپے کے حصول کو یقینی بنانے کے جنون میں مبتلا ہوکر چھوٹے تاجروں کا روز گار تباہ کرنے پر تلی ہے حکومت یہ تاثر دے رہی ہے کہ دکاندار سیلز ٹیکس وصول کرلیتا ہے لیکن خزانے میں جمع نہیں کراتا اور یہ سارا کھیل حکومت سیلز ٹیکس کے لیئے کھیل رہی ہے تاجر رہنما خالد محمود قریشی اور مرزا نعیم بیگ نے کہا کہ ایف بی آر کی شرائط پر پورا اترنا سے مراد ایسے ہی ہے اپنی زندگی بھر کی جمع پونجی تاجر برادری ایف بی آر کے حوالے کرکے خالی ہاتھ گھروں کو لوٹ آئیں انہوں نے کہا بجلی کے کمرشل کنکشن کا 6 لاکھ روپے سالانہ بل ہونے پر سیلز ٹیکس میں شامل کیا جارہا ہے جبکہ تاجروں کا مطالبہ ہے کہ اسے بڑھا کر 12 لاکھ روپے کیا جائے اگر گوشوارہ جمع کروانے میں معمولی سی کوتاہی ہونے پر نوٹس کرنے کی بجائے ڈائریکٹ ایف ائی آر کا اندراج کیا جانا سمجھ سے بالاتر ہے حکومت سے کہیں گے کہ وہ ہوش کے ناخن لے اور تاجروں کو بند گلی میں دھکیلنے سے باز رہے صنعت کار پہلے ہی ملک سے بھاگ رہا ہے اور معیشت کا پیہہ تقریبآ جام ہوچکا ہے اس پر ایف بی آر کی جانب سے 55 ہزار ارب روپے کے ٹیکس اہداف کی وصولی کیونکر ممکن ہوگی جب بزنس کمیونٹی میں ٹیکسز بارے تحفظات پائے جارہے ہوں انہوں نے کہا کہ ہمارے سیاسی عزائم نہیں ہیں ہمارا احتجاج فقط تاجر برادری پر ڈبل ٹیکسیشن کے خلاف ہے اگر حکومت نے ہمارے مطالبات کو سنجیدگی سے نہ لیا تو ہم اپنی بقاء کی جنگ تاجروں کے پلیٹ فارم پر لڑیں گے اور گرفتاریوں سے بھی نہیں ڈریں گے۔۔

سلیمان صدیقی

مزید : ملتان صفحہ آخر


loading...