جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا! گوانتا نا موبے یا کالے پانیوں کو بھی بھجوا دیں سر نہیں جھاؤں گا: نواز شریف 

جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا! گوانتا نا موبے یا کالے پانیوں کو بھی بھجوا دیں سر ...

لاہور(نامہ نگار،کر ائم رپو رٹر)احتساب عدالت کے جج چودھری امیرخان نے چودھری شوگر ملز کیس میں سابق وزیراعظم نواز شریف کو 14روزہ جسمانی ریمانڈپر نیب کے حوالے کردیاہے۔ عدالتی سماعت کے موقع پر نواز شریف نے کہا کہ گوانتا ناموبے یاکالے پانیوں کو بھجوانا چاہتے ہیں بھجوا دیں مگر سر نہیں جھکاؤں گا۔عدالتی سماعت کے موقع پر کارکنوں اور مسلم لیگ(ن) کے وکلا ء کی طرف سے نعرے بازی کی جاتی رہی جبکہ دھکم پیل کی وجہ سے عدالت میں رکھی میز بھی ٹوٹ گئی۔گزشتہ روز نواز شریف کو نیب نے سخت سکیورٹی میں کوٹ لکھپت جیل سے لاکراحتساب عدالت میں پیش کیا، کیس کی سماعت شروع ہوئی توعدالتی حکم پرنوازشریف روسٹرم پرپیش ہوئے، نیب کے تفتیشی افسرنے 15 روزہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ نواز شریف منی لانڈرنگ میں ملوث رہے جس کی تفتیش باقی ہے،آف شور کمپنی بنا کر رقوم چودھری شوگر ملز کے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر ہوئیں،میاں نواز شریف ملک کے وزیراعظم تھے جب چودھری شوگر ملز قائم ہوئی،انہوں نے اختیارات کاناجائزاستعمال کیا، سابق وزیر اعظم نواز شریف نے عدالت میں کہا کہ انہیں راستے سے ہٹانے کیلئے جھوٹے کیس بنائے گئے،یہ چاہتے ہیں کہ ان کے سامنے جھک جاؤں، میں نے کب نیب سے تعاون نہیں کیا؟جو معلوم تھا انہیں بتا دیا،ان کے پاس میرے خلاف کوئی ثبوت نہیں،آجا کرہمارے کاروبار اوراثاثوں کی چھان کرتے ہیں، اگرمجھے کالا پانی یا گوانتا ناموبے لے جانا چاہتے ہیں لے جائیں،میں توپہلے ہی قید کاٹ رہا ہوں، ہم ڈٹے اور کھڑے ہیں، جم کر مقابلہ کریں گے،اگر یہ سمجھتے ہیں کہ مسلم لیگ (ن)کو دیوار سے لگا دیں گے تو یہ ان کی بھول ہے،نواز شریف کے اس بیان پرکمرہ عدالت نعروں سے گونج اٹھاجس پر عدالت نے ناراضی کا اظہار کیا۔نیب کی جانب سے عدالت میں موقف اختیار کیاگیا کہ میاں نواز شریف چودھری شوگر مل کے شیئر ہولڈر تھے،ان کے اکاؤنٹ میں بیرون ملک سے ایک کروڑ 55لاکھ روپے کی رقم ایک کمپنی نے بھجوائی،اسی طرح کافی رقم آنے کی اطلاعات ہیں، اس حوالے سے مزید تفتیش درکارہے،عدالت سے استدعاہے کہ نواز شریف کا 15روزہ جسمانی ریمانڈ دیا جائے،میاں نواز شریف کے وکیل امجد پرویز ملک نے جسمانی ریمانڈ کی مخالفت کرتے ہوئے کہاکہ نیب کے پاس تمام ریکارڈ موجود ہے،نیب سیاسی انتقام کا نشانہ بنا رہا ہے،جے آئی ٹی پاناما کیس کے دوران تفتیش کرچکی ہے،شیئرز کی منتقلی کی تمام باتیں بے بنیاد ہیں،نوازشریف نے عدالت میں کہا ایک دمڑی کی کرپشن نہیں کی،دوران سماعت میاں نوازشریف نے بیان دیا کہ نیب ان پر جو الزام لگا رہاہے کہ ان سے تعاون نہیں کیا،جو معلوم تھا وہ سب بتا دیا ہے،جہاں مرضی لے جائیں ایک پیسہ بھی کرپشن کا ثابت نہیں کرسکتے،میاں نواز شریف کا کہنا تھا ان کاسرجھکایا نہیں جا سکتا۔ عدالتی سماعت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے میاں محمدنواز شریف نے کہا کہ جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا!اللہ کے فضل سے کوئی ہماراسر نہیں جھکا انہوں نے مزید کہا کہ ووٹ کو عزت دو پر پہلے بھی ڈٹا تھا اور اب بھی قائم ہوں،کرپشن نہیں بلکہ ووٹ کو عزت دو کے نعرہ کی وجہ سے آج اس جگہ پر ہوں، دنیا میں عزت کمانے کیلئے ووٹ کو عزت دینا ہو گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہا کہ وہ دھرنے کی مکمل حمایت کرتے ہیں، عام انتخابات کے بعدمولانا نے اسمبلیوں سے استعفے دینے اور احتجاج کا کہا،اب سمجھتا ہوں ان کی بات کو رد کرنا بالکل غلط تھا، میاں شہباز شریف کو خط میں سب کچھ لکھ کر بھیجا ہے۔عدالتی پیشی کے موقع پر مسلم لیگ (ن) کے راہنما ؤں کی بڑی تعداد اپنے قائد کے اظہار یکجہتی کیلئے احتساب عدالت موجود تھی،عدالتی سماعت کے موقع پر سکیورٹی کے سخت انتظامات کئے گئے تھے، پولیس کی بھاری نفری عدالت کے اندر اور باہر تعینات کی گئی تھی،عدالت جانے والے راستوں کو خار دار تاریں اورکنٹینرزلگا کر بن کردیاگیاجس سے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامناکرنا پڑا۔اس کیس کی مزید سماعت 25اکتوبرکوہوگی۔ نوازشریف کیلئے نیب ڈے کیئر سینٹر کو سب جیل کا درجہ دیا جائے گا جبکہ سکیورٹی کیلئے اضافی نفری تعینات رہے گی۔نواز شریف کو احتساب عدالت سے سب جیل پہنچاتے ہی ان کا تفصیلی طبی معائنہ کیا گیا۔ جس میں نواز شریف کے بلڈ پریشر اور کولیسٹرول کو چیک کیا گیا۔ 

نوازشریف

مزید : صفحہ اول


loading...