احتساب کون کرے گا

احتساب کون کرے گا
 احتساب کون کرے گا

  


پاکستان اور سری لنکا کے مابین کھیلی جانیوالی ٹی ٹوئنٹی سیریز میں،عالمی رینکنگ میں آٹھ نمبر پر موجود ٹیم نے عرصہ دراز سے مختصر فارمیٹ میں عالمی نمبر ایک کی حکمرانی کا تاج سر پر سجائے بیٹھی پاکستان کو اس فارمیٹ میں انتہائی ذلیل و رسواء کر کے شکست سے دوچار کیا۔حالانکہ سری لنکا کی ٹیم نو آموز کھلاڑیوں پر مشتمل تھی اور ان کے سینئرز نے پاکستان آکر کھیلنے سے انکار کر دیا تھا۔اس کے باوجود سری لنکا کی نئی ٹیم نے جس پر فارمنس کا مظاہرہ کیا اس سے سری لنکا کو مستقبل میں اچھے اور ورلڈ کلاس کھلاڑی ملنے کی امید ہے جو آنے والے کل کے سٹارز کھلاڑیوں میں شامل ہو جائیں گے۔

ان کے تابناک مستقبل کی مثال آپ اس سیریز سے لے سکتے ہیں جس میں ان کے ان کھلاڑیوں نے قومی ٹیم کے ہر کھلاڑی سے بہتر پرفارمنس پیش کی، جس کے باعث ایک وقت میں تو یوں محسوس ہوتا تھا کہ لنکن کھلاڑی ہمارے ملک کی پچوں کے اتنے عادی ہیں کہ ہمار ی قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو ان سے سبق لینے کی ضرورت محسوس ہوتی نظر آرہی تھی۔ میری اپنی ذاتی سوچ یہ کہتی ہے کہ ہم یہ سیریز ہارے نہیں بلکہ ایک ٹیسٹ میچ کے عوض اس سیریز کا سودا کیا گیا ہے کیونکہ دوسرے میچ سے قبل سری لنکن بورڈ اس بات کا فیصلہ کر چکا تھا کہ آئی لینڈرز ایک ٹیسٹ میچ کے لیے کراچی میں کھیلنے پر آمادہ ہے اور عرب امارات میں شیڈول ٹیسٹ سیریز کا ایک میچ پاکستان کے شہر کراچی میں کھیلنے کے لیے تیار ہے۔

اب چونکہ قومی ٹیم مختصر فارمیٹ کی اس سیریز میں وائٹ واش کی خفت سے دوچار ہو چکی ہے اور اب ٹیم کے تمام کھلاڑی قومی ٹی ٹوئنٹی میں اپنی اپنی ٹیموں کی نمائندگی کرتے نظر آئے گے جہاں ان کے بلے رنز بھی اُگلیں گے اور وکٹیں ہواؤں میں اُڑتی نظر بھی آئیں گی فیلڈرز پلک جھپکتے ہی کیچ بھی تھا میں گے اور وکٹ کیپرز کی ڈائیو بھی قابلِ دید ہو گی۔یہ سب اور بہت کچھ ہم سب کل سے شروع ہونے والے اس قومی ٹورنامنٹ میں بآسانی دیکھ سکیں گے لیکن اختتام پر جب بہترین ٹیلنٹ کو سامنے لانے کی بات ہو گی تو پھر وہی کھلاڑی منظر عام پر آئیں گے جو گزشتہ کئی برسوں سے قومی ٹیم کو ہمیشہ کے لیے دستیاب رہتے ہیں۔

کیونکہ یہی ہمارے ملک میں ہوتا چلا آیا ہے اور آنے والے وقتوں میں بھی یہی ہو گا۔جہاں تک رہ گئی بات نئے ٹیلنٹ کی تو کراچی سے لے کر خیبر تک بیش بہا ٹیلنٹ موجود ہونے کے باوجود بھی ہم اس ٹیلنٹ سے استعفادہ کرنے سے محروم ہیں۔اس کی ایک بڑی وجہ ڈیپارٹمنٹل ٹیموں کو ختم کر کے ان کے کھلاڑیوں کو بے روز گار کرنا بھی ہے کیونکہ ان کو ماہانہ وظیفوں کی مد میں یا ڈیپارٹمنٹ کی جانب سے ملنے والی تنخواہیں پی سی بی میں موجود اعلیٰ عہدوں پر براجمان لوگوں کو کھٹکتی تھیں جس کے باعث تمام ڈیپارٹمنٹ کو ختم کر کے 6 ٹیموں پر مشتمل کر دیا گیا جس سے نظر آنے والا ٹیلنٹ منظر عام سے غائب ہو گیا اور کپتان سرفراز احمد جیسا ٹیلنٹ قومی ٹیم کی نمائندگی کرنے کے لیے اہل ہو گیا۔

آخر کار ان تمام ڈیپارٹمنٹ کا قصور کیا تھا،کیا یہ تما م ڈیپارٹمنٹ ملک کو اچھے اور باصلاحیت کرکٹر فراہم کرنے سے محروم تھے یا انہیں کرکٹ کی الف ب سے نا آشنائی کے باعث اس فیصلے کی بھینٹ چڑھایا گیا۔ٹورنامنٹ پر کروڑوں کی رقم خرچ کرنے کے بعد اگر اس طرح کے نتائج ہی لینے ہیں تو پھر ان ڈیپارٹمنٹس کو ختم کرنے کا کیا فائدہ؟کیا کوئی ہے جو سرفراز احمد کا احتساب کرے گا؟کیا کوئی کوچ و چیف سلیکٹر کا احتساب کرے گا؟کوئی ہے جو کھلاڑیوں کی ناقص پرفارمنس کا احتساب کرے گا؟ اگر یہ سب ممکن نہیں تو پھر پی سی بی میں موجود اعلیٰ عہدیداروں کا بھی کوئی فائدہ نہیں جن کو ملنے والی بھاری بھر کم تنخواہیں قومی خزانے پربوجھ بن رہی ہیں۔

کپتان سرفراز احمد اب قومی ٹیم کے لیے بوجھ بنتے جا رہے ہیں ان کی اپنی ذاتی پرفارمنس تو دیکھنے کے قابل ہے نہیں اوپر سے قومی ٹیم کو بھی اس نہج تک پہنچا دیا ہے کہ اسے سری لنکا کے نوآموز کھلاڑی بھی شکست  دے کر اپنے آپ کو حقیقی ٹائیگر سمجھنے لگے ہیں۔سمجھ سے باہر ہے کہ ایسا کون سا با با ہے جو سرفراز احمد کو ٹیم سے چند ماہ یا سال کے لیے باہر نہیں ہونے دیتا حالانکہ محمد رضوان کی ان سے پرفارمنس کئی گنا بہتر ہے اس کے باوجود انہیں باہر بٹھا کر رکھا ہوا ہے۔ایسی ہی صورتحال کا سامنا وہاب ریاض،شاداب خان،آصف علی،فخر زمان،اما م الحق و دیگر اور کھلاڑیوں کو بھی ہے اتنے عرصے سے قومی ٹیم کی نمائندگی کر رہے ہیں لیکن ہر مرتبہ یہ لوگ دل جیتنے کے بعد ایسی شرمناک پرفارمنس دیتے ہیں کہ ساری کری کرائی پر پانی پھر جاتا ہے اور ملک و قوم کی عزت کا جنازہ بڑے دھوم دھام سے نکلتاہے۔

ہماری سلیکشن کمیٹی کا میعار بھی ابھی تک نہیں بدلا جو انہوں نے اتنے عرصہ سے قومی ٹیم کو دستیاب نا ہونے والے کھلاڑی احمد شہزاد اور عمر اکمل کو یک دم قومی ٹیم میں کھیلنے کا اہل بنا لیا۔عمر اکمل کی فٹنس اس قابل ہی نہیں تھی کہ انہیں اس سیریز کے لیے کھلایا جاتا،لیکن اگر وہ نا کھیلتے تو چیف سلیکٹر صاحب کی عزت داؤ پر لگ جاتی حالانکہ ان کی سلیکشن کے باعث ملک کی عزت داؤ پر لگ گئی۔

اگر وہ چاہتے تو اس سیریز میں بھی نیا خون شامل کر سکتے تھے لیکن مجال ہے کہ انہوں نے اس جانب کان دھرا ہو یا ان کاذہن گیا ہو۔سری لنکا نے ایک بہتر تجربہ کیا اور نئے کھلاڑیوں کو ٹیم میں شامل کر کے انہیں ملک کی نمائندگی کرنے دوسرے ملک بھیج دیا کیا ہم اس سیریز میں کوئی نیا خون نہیں آزما سکتے تھے؟جو آگے جا کر آسٹریلیا میں کام آجاتا۔صرف شکست کے بعد اپنی خامیوں پر بات کرنے سے کچھ نہیں ہو گا اس کے لیے چیف سلیکٹر،کوچ و کپتان کو مل بیٹھ کر سوچنا ہو گا کیونکہ ان کا ابھی ٹیم سے استعفیٰ دینے کا کوئی ارادہ نہیں۔ ٭٭

مزید : رائے /کالم


loading...