موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے قابل تحسین دو سال مکمل

موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے قابل تحسین دو سال مکمل

10 اکتوبر 2017وہ پر مسرت دن تھا جس میں پاکستان کی پہلی موٹر بائیک ایمبولینس سروس کا باقاعدہ آغازصوبہ پنجاب کے دارلحکومت لاہور سے کیا گیاتاکہ بڑی شاہراہوں پر پیش آنے والے روڈ ٹریفک حادثات کے ساتھ ساتھ گنجان آباد علاقوں اور تنگ گلیوں والی آبادیوں میں پیش آنے والے حادثات کے متاثرین کو بروقت ریسکیو سروسز فراہم کرتے ہوئے شہریوں کی قیمتی جانیں بچائی جا سکیں کیونکہ گنجان آبادیوں کی گلیاں تنگ ہونے کی وجہ سے ایمرجنسی ایمبولینسز کا جائے حادثہ و مریض تک پہنچنا جوئے شیر لانے کے مترادف تھا۔

اس منصوبے کاابتدائی خاکہ برطانیہ،جاپان اور ترکی میں قائم موٹر بائیک ایمبولینس سروسز کے ماڈلز سے ماخوذ کیا گیا۔اس سلسلے میں پہلی معنی خیز گفتگو17ستمبر 2017 کو ترکی کے تاریخی شہر میں دو برادراسلامی ممالک کے درمیان ہونے والے اجلاس میں ہوئی جب سابقہ وزیراعلیٰ پنجاب نے ڈپٹی پرائم منسٹررجب اکدغان سے ترکش موٹر بائیک ایمبولینس کی طرز پر پاکستان کے سب سے بڑے صوبہ پنجاب میں ترکش وزارت صحت کے باہمی تعاون سے سروس شروع کرنے کی خواہش ظاہر کی۔ترکی کے ڈپٹی پرائم منسٹررجب اکدغان نے آمادگی ظاہر کی اور تاریخی الفاظ میں کہا کہ " یہ ہمارا فرض اولیں ہے کہ ہم اپنے پاکستانی بھائیوں کو مشکل کی اس گھڑی میں ہر ممکن مدد فراہم کریں "۔

اس عوامی فلاحی منصوبے کااہم مقصد گنجان اور تنگ گلیوں والے علاقہ جات میں حادثات کے متاثرین کو بروقت ایمرجنسی سروسز فراہم کرناتھاجہاں چار پہیوں والی ایمرجنسی ایمبولینس کی رسائی ممکن نہ تھی۔موٹر بائیک ایمبولینس سروس باآسانی تنگ گلیوں چھوٹے راستوں یا ناقابلِ رسائی علاقوں میں پہنچ کر متاثرین کو موقع پر ہی طبی امداد فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ شدید زخمیوں اور تشویشناک حالت والے مریضوں کو مرکزی راستوں تک منتقل کرے گی جبکہ وہاں موجود چار پہیوں والی ایمرجنسی ایمبولینسان مریضوں کو متعقلہ ہسپتالوں میں مزید علاج کی غرض سے منتقل کریں گی۔

اس سلسلے میں موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے منصوبے کوجلد عملی جامہ پہنانے کیلئے 842ملین روپے کی خطیررقم پنجاب کے 9ڈویژنل ہیڈ کواٹرز میں سروس کے قیام کیلئے مختص کرتے ہوئے یہ ذمہ داری قابل قدر ڈی جی ریسکیو پنجاب ڈاکٹر رضوان نصیر کو سونپی گئی۔جنہوں نے موٹر بائیک ایمبولینس سروس جوکہ حکومت پنجاب کا ایک تخیل تھا کے قیام کو ممکن بنانے کیلئے مختص کی گئی رقم میں سے 65فیصد رقم بچاتے ہوئے اسے کامیابی سے پایا تکمیل تک پہنچایا۔

آخر کار 10اکتوبر 2017کو پنجاب کے مرکزی اور بڑے شہر لاہور سے 100موٹربائیک ایمبولینسز اور ایمرجنسی میڈیکل ٹیکنیشنز کے ساتھ باقاعدہ آغاز کر دیاگیا۔یہ منصوبہ بڑے شہروں میں ٹریفک جام اور گنجان آباد علاقوں میں شہریوں کو بروقت مدد کی فراہمی اور متاثرین کی جانیں بچانے میں مؤ ثر اور کلیدی کردار کا حامل ہے۔پنجاب ایمرجنسی سروس کے بانی ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر رضوان نصیر کی باصلاحیت قیادت کی بدولت قلیل مدت میں اس منصوبے کو صوبہ کے باقی آٹھ ڈویژنل ہیڈ کوآٹرز جن میں راولپنڈی،ملتان، گوجرانوالہ،بہاولپور،فیصل آباد،ڈیری غازی خان،سرگودھا اور ساہیوال میں موٹر بائیک ایمبولینس سروس کا قیام عمل میں لایا گیا۔

موٹر بائیک ایمبولینس سروس ناصرف بیماروں اور متاثرین کو طبی سہولیات فراہم کر رہی ہے بلکہ اس سروس کے قیام کی بدولت پیرامیڈیک گریجوایٹ900بیروزگار نوجوان بھی اب برسرروزگارہیں جنہیں تھرڈی پارٹی نیشنل ٹیسٹنگ سروس(این ٹی ایس) کے شفاف بھرتی نظام کے ذریعے تحریری،جسمانی،نفسیاتی اور مہارت کے امتحان پاس کرنے کے بعد میرٹ پربھرتی کیا گیا۔حکومت پنجاب کی طرف سے 900سے زائد موٹر سائیکلز خریدنے کی منظوری دی جوکہ اوپن ٹینڈر کے ذریعے پبلک پروکیورمنٹ ریگولیٹری اتھارٹی کے قواعد کے مطابق خریدی گئیں

موٹر بائیک ایمبولینس سروس کیلئے بھرتی کئے گئے سٹاف کو ایمرجنسی سروسز اکیڈمی میں چھ ماہ پر مشتمل تربیتی کورس کے کٹھن اور صبرآزما تربیتی مراحل سے گزار کر زندگی بچانے والی بنیادی مہارتوں، منہدم عمارتوں کے ملبے تلے دبے افراد کی تلاش،بلندی و گہرائی اور پانی میں ڈوبنے سے ریسکیو کرنے، فائر فائٹنگ کی عملی تربیت دی گئی۔علاوہ ازیں حادثات و ایمرجنسیزکو رسپانڈ کرنے کے حوالے سے انکی استعداد کار میں اضافہ کیلئےUSAIDکے PEERپروگرام کے تحت میڈیکل فرسٹ رسپانڈر (MFR)،کلیپسڈ سٹرکچر سرچ (CSSR)،ٹریننگ برائے انسٹرکٹرز (TFI) اور کمیونٹی ایکشن برائے ڈزاسٹر رسپانس (CADRE)کورسز بھی کروائے گئے۔

اسی طرح موٹر سائیکلوں کو ایمبولینس کی طرز پربرطانوی اورترکی کے ایمرجنسی سروسز اور صحت کے ماہرین کی مدد سے ڈیزائین کیا گی اور ایک ایمرجنسی ایمبولینس کی طرح طبی امداد کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے موٹر بائیک ایمبولینس کو بھی جدید آلات بشمول،بلڈ پریشر مانیٹر، لائف سیونگ میڈیسن،گلوکو میٹر، پلس آکسیمیٹر، قابل ترسیل آکسیجن سلنڈر، سروائیکل کالر، ائیر وے، برن کٹ، ٹرامہ کٹ، سپلنٹس اورآٹومیٹیڈ ایکسٹرنل ڈیفیبرلیٹر سے لیس کیا گیا ہے تاکہ گنجان آباد اور تنگ راستوں والے علاقوں میں رہنے والے شہریوں کو بھی ایمرجنسی کی صورت میں فوری اور بروقت ریسکیو سروسز کی فراہمی کو یقینی بنایا جاسکے۔

یہاں یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ موٹر بائیکل ایمبولینس سروس کے منصبوبے کو 9ڈویژنل ہیڈکوآٹرز میں آپریشنل کرنے پر مختص شدہ رقم میں سے صرف55فیصد خرچ ہوئی جوکہ میرٹ اور شفافیت کی اپنی مثال آپ ہے۔حادثات کے اعدادوشمارکا جائزہ لینے سے پتہ چلتا ہے کہ پنجاب کے 9ڈویژنز میں روزانہ کی بنیاد پر ہونے والے کل حادثات میں سے65فیصد حادثات پر موٹربائیک ایمبولینس رسپانڈ کر رہی ہے جس کی وجہ سے بڑی گاڑیوں کی بلاضرورت موومنٹ ناہونے کی وجہ سے فیول کی مد میں ایک خطیر رقم کی بچت ہورہی ہے۔موٹر بائیک ایمبولینس سروس قیام سے واضح طور پر بڑی ایمبولینس گاڑیوں پر غیرضروری موومنٹ کی وجہ سے پڑنے والے بوجھ میں بھی کمی آئی ہے جبکہ حادثات میں معمولی نوعیت کے زخمیوں کوموٹر بائیک ایمبولینس سروس کا تربیت یافتہ عملہ پیشہ وارانہ طریقے سے ابتدائی طبی امداد فراہم کرتا ہے جس کی وجہ سے ناصرف ہسپتالوں کی ایمرجنسی پر غیر ضروری مریضوں کا بوجھ کم ہوا ہے بلکہ ایمرجنسی اخراجات میں بھی واضح کمی آئی ہے۔یہ سروس پنجاب کے ۹ ڈویژن ل ہیڈ کوآٹرز میں ہر طرح کی ایمرجنسیز کو4منٹ کے اوسط رسپانس ٹائم کیساتھ رسپانڈ کر رہی ہے جوکہ ابتک ایک ریکارڈ ہے۔

ترک ایمبولینس سروس ماڈل کا خواب شرمندہ تعبیر ہوگیاکیونکہ موٹر بائیک ایمبولینس سروس اپنے قیام سے ابتک 3,87,000 ایمرجنسیزمیں 4منٹ کے اوسط رسپانس ٹائم کے ساتھ پنجاب کے 9ڈویژنل ہیڈ کوآٹرز میں متاثرین کو سروسز فراہم کر چکی ہے ان ایمرجنسیز میں 195106روڈ ٹریفک حادثات، 152408میڈیکل ایمرجنسیز،8150بلندی سے ہونے والے حادثات، 11648کام کے دوران پیش آنے والے حادثات،

8773الیکٹرک شاک، ڈیلیوری اور انیمل ریسکیو، 109ڈوبنے کے واقعات، 6462جرائم کی وجہ سے ہونے والے حادثات، 4533آگ کے حادثات،195عمارتیں منہدم ہونے کے حادثات اوردیگر ایمرجنسیز پر ریسکیو سروس فراہم کی۔ ڈائریکٹر جنرل پنجاب ایمرجنسی سروس ڈاکٹر رضوان نصیر نے موٹربائیک ایمبولینس سروس کی کامیابی کے دو سال مکمل ہونے پرمبارکباد دی اور موٹر بائیک ایمبولینس سروس کے سٹاف اور افسران کو خراج تحسین پیش کیا۔ میں موٹربائیک ایمبولینس سروس کی دوسری سالگرہ کے موقع پر تمام ریسکیورز کو خراج تحسین پیش کرتا ہوں جنہوں نے سروس کے استحکام و کامیابی کے اس سنگ میل کے حصول کیلئے اپنا حصہ ڈالا۔

مزید : رائے /کالم


loading...