باب العلم

باب العلم

ایک شخص نے امیر المومنین حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہو کر علمی سوال کیا۔ آپ بہ فرمان رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم شہر علم کے دروازہ کی حیثیت رکھتے ہیں۔ اس کے سوال کا جواب مرحمت فرمایا۔

اس وقت مجلس میں بیٹھے ہوئے کسی شخص نے عرض کیا۔" یا امیر المومنین! آپ کا ارشاد بالکل درست ہے لیکن اس سوال کا اس سے بہتر جواب بھی دیا جا سکتا ہے۔"

حضرت علی رضی اللہ عنہ نے انتہائی کمال شفقت اور تحمل سے اس کی یہ بات سنی اور جواباً فرمایا۔" اگر کوئی بہتر جواب ہے تو بیان کرو۔"

چنانچہ اس شخص نے اس مسئلہ پر اپنا اظہار خیال کیا اور شیرخدا نے اس جواب کو بہت پسند فرمایا اور ارشاد فرمایا۔

"تمہارا جواب واقعی بہتر ہے۔ عالم تو صرف اللہ پاک کی ذات مبارکہ ہی ہے۔"

شیخ سعدی فرماتے ہیں۔

"اگر آپ کی جگہ کوئی دنیاوی بادشاہ ہوتا تو اس شخص کے بولنے کو گستاخی قرار دے کر اسے سزا دیتا۔ عام دنیاوی لحاظ سے بزرگوں کے سامنے بولنے کو گستاخی قرار دیا جاتا ہے لیکن حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ناراض ہونے کی بجائے اس کی توصیف و تعریف فرمائی۔ اگر دل میں غرور ہو تو ایسا بندہ بھلائی سے دور رہتا ہے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ سخت پتھر پر کتنی بھی بارش برسے، اس پر پھول نہیں اگتے۔ پھول صرف نرم زمین پر ہی اگتے ہیں۔"

حاصل کلام

اعلیٰ اخلاق کی یہی خوبی ہے کہ کسی کے منہ سے اچھی بات سن کر بہتر مان لینا چاہیے۔ اپنی بات پر بے جا ضد انسان کو نقصان ہی پہنچاتی ہے۔ ایسی غلطی سے اجتناب کرنا ہی انسان کے لیے بہتر ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...