عقل مند غلام

عقل مند غلام

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک کے بادشاہ کا ایک غلام موقع پا کربھاگ گیا۔ بادشاہ کو اس کے فرار ہونے پر بہت غصہ آیا۔ اس نے اس کی تلاش کا حکم دے دیا۔ بادشاہ کے ہرکاروں نے بہت جلد پتا لگا لایا کہ وہ کہاں ہے اوراسے گرفتار کر کے بادشاہ کے پاس لے آئے۔ اسی بادشاہ کا ایک وزیر بھاگے ہوئے غلام سے بہت ناراض تھا۔ جب اسے غلام کے بھاگنے اور گرفتار ہونے کے متعلق معلوم ہوا تو غلام کو سزا دلوانے اور سبق سکھانے کا موقع مل گیا۔ اس نے بادشاہ سے کہا کہ بادشاہ سلامت اس غلام نے یہاں سے بھاگ کر سنگین جرم کیا ہے۔ اگر اس گستاخ غلام کو سزا نہیں دی گئی تو دوسرے غلاموں کے بھی حوصلے بڑھیں گے اور وہ بھی بھاگنے لگیں گے۔ بادشاہ کو اس بات کی سن کر سوچ میں پڑ گیا۔ اوراسے سوچتا ہوا دیکھ کر غلام پریشان ہو گیا۔ غلام نے جب وزیر کی یہ بات سنی تو وہ اسی وقت سمجھ گیا کہ وزیر یہ بات دشمنی کی وجہ سے کہہ رہا ہے۔ غلام نے بادشاہ سے کہا کہ جہاں پناہ یہ سوال سچ ہے کہ میں بھاگ گیا مگر میرا بھاگنا آپ کے کسی ظلم کی وجہ سے نہیں تھا بلکہ میں تو دنیا دیکھنے کی چاہت میں یہاں سے بھاگا تھا۔ اگرچہ میں اس محل میں نہیں تھا۔ میں آپ سے دور تھا اس کے باوجود میرے دل میں آپ کی محبت اور خیر خواہی کم نہ ہوئی۔ اور اگر آپ مجھے قتل ہی کرانا چاہتے ہیں تو پہلے اس کا جواز پیدا کر لیں کہ بلاوجہ میرا خون اپنے سر نہ لیں کہ قیامت کے دن اللہ تعالیٰ آپ سے میرے بارے میں پوچھے گا اور آپ جواب نہ دے سکیں گے۔ بادشاہ نے کہا کہ میں جواز کیسے پیدا کروں۔ غلام نے فوراً کہا کہ اگر اجازت ہو تو میں اس وزیر کو قتل کر دوں پھر آپ مجھے اس کے قتل کے بدلے قتل کر دیں۔یوں کوئی بھی آپ کو الزام نہیں دے سکے گا۔

بادشاہ جو ان دونوں کی آپس کی دشمنی کے بارے میں جانتا تھا یہ بات سن کر اس کی چالاکی بھانپ گیا اور زور سے ہنسا۔ کافی دیر تک ہنستے رہنے کے بعد اس نے اپنے وزیر سے پوچھا کہ کہو اب تمہارا کیا خیال ہے، اس کو سزا دی جائے یا نہیں۔ وزیر نے خوف سے کانپتے ہوئے کہا کہ اس کو بزرگوں کے صدقے میں آزاد ہی کر دیں تو اچھا ہے کہیں یہ میرے لیے مسئلہ نہ بن جائے۔

بادشاہ غلام کی عقل مندی پر بہت خوش ہوا اور اسے اپنے خاص مصاحبوں میں شامل کر لیا۔ اس نے وزیر کو سو کوڑے لگانے کی سزا سنائی۔ہمیں بھی چاہیے کہ ہم کسی سے بے جا دشمنی نہ کریں اور کبھی کسی سے حسد نہ کریں۔ اس کا انجام ہمیشہ برا ہی ہوتا ہے۔

مزید : ایڈیشن 1


loading...