آرمینیا کی آذر بائیجان کے شہر پر گالہ باری، 7شہید،ترک سپیشل فورسز نگورونو کاراباخ میں داخل:آرمینیائی دعویٰ

آرمینیا کی آذر بائیجان کے شہر پر گالہ باری، 7شہید،ترک سپیشل فورسز نگورونو ...

  

 انقرہ(مانیٹرنگ ڈیسک،این این آئی) ترک سپیشل فورسز کا ایک یونٹ متنازعہ علاقے ناگورنو کاراباخ خطے میں واقع ھادروت نامی قصبے میں داخل ہو گیا آرمینیا دعویی کیا ہے کہ اس نے اس یونٹ کو شہر سے پسپا کر دیا ہے تاہم اازاد زرائع سے اس کی ابھی تک تصد یق نہیں ہو سکی ۔آرمینیائی میڈیا نے دعویٰ کیا کہ ترک اسپیشل فورسز نے کالی رنگ کی وردی پہن رکھی تھی اور ان کا ہدف ھادروت کے مقام پر آذر بائیجان کے صدر الہام علیوف کے دعوے کی روشنی میں وہاں پر آذر بائیجان کا پرچم لہرانا تھا۔آذربائیجان نے اعلان کیا کہ وہ فرانس کو غیر جانبدار فریق سمجھتے ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ وہ آرمینیا کے ساتھ جاری تنازع میں مذاکرات کے لیے ترکی کو بھی شامل کرنا چاہتے ہیں۔دریں اثناآرمینیا نے جنگ بندی کے چند ہی گھنٹوں بعد آذربائیجان کے رہائشی علاقے پر گولہ باری کی جس کے نتیجے میں 7افراد جاں بحق اور متعدد زخمی ہوگئے۔عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق آذربائیجان اور آرمینیا نے روسی وزیر خارجہ کی سربراہی میں ہونے والے مذاکرات کے نتیجے میں جنگ بندی کا اعلان کیا تھا تاہم چند گھنٹوں بعد ہی سیز فائر کی خلاف ورزیوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔آذربائیجان کا کہنا ہے کہ آرمینیائی فوج نے شہری علاقے میں میزائل داغے جس کے نتیجے میں 7 افراد جاں بحق اور 33 زخمی ہوگئے تاہم آرمینیا کا موقف ہے کہ سیز فائر کی خلاف ورزی نہیں کی بلکہ آذربائیجان پر جوابی کارروائی کی ہے۔دوسری طرف  آذر بائیجان کے صدر نے کہا ہے کہ آرمینیا کے ساتھ مل کر سیاسی حل کی تلاش شروع کردی ہے لیکن جنگ جاری رہے گی اور اپنا حق حاصل کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔  برطانوی خبر رساں ادارے سے گفتگو کرتے ہوئے آذربائیجان کے وزیر اعظم الہام علیوف نے کہا ہے کہ اگرچہ دونوں ممالک سیاسی حل کی کوششیں شروع کرچکے ہیں تاہم جنگ جاری رہے گی۔ انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ ہم اپنا حق حاصل کرنے کے لیے آخری حد تک جائیں گے۔ آرمینیا کی وزارت دفاع کی جانب سے جاری کردی بیان میں کہا گیا ہے کہ آذربائیجان نے جنگ بندی کے اعلان کے پانچ منٹ بعد ہی حملے شروع کردیے تھے۔ جب کہ آذر بائیجان نے الزام عائد کیا کہ قرہ باخ میں موجود دشمن فوجیں اس کی حدود میں گولا باری  کررہی ہیں۔ باکو میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے آذر بائیجان کے وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ ریڈ کراس کی جانب سے لاشوں کے تبادلے کا انتظام مکمل ہونے تک  جنگ بندی برقرار رہے گی۔

آرمینیا

مزید :

صفحہ اول -