نئے ڈی پی او مبشر میکن شیخوپورہ کے سنگین جرائم پر قابو پا لیں گے؟

نئے ڈی پی او مبشر میکن شیخوپورہ کے سنگین جرائم پر قابو پا لیں گے؟

  

قتل،ڈکیتی کے واقعات اور پولیس کے خلاف عوامی شکایات کا اذالہ ممکن بنایا جانا بڑا چیلنج ہے

(شیخوپورہ سے محمد ارشد شیخ   )

 شیخوپورہ کے انتظامی حالات اور جرائم کی صورتحال  کے پیش نظر ڈی پی او غازی صلاح الدین کو تبدیل کرکے ان کی جگہ غلام مبشر میکن کو تعینات کردیا گیا ہے جن کی محکمانہ شہرت کیسی ہے ایمانداری کا سرٹیفکیٹ کہاں کہاں سے حاصل کیا ہے یا ان کے ریکارڈ پر کتنے پولیس مقابلے ہیں اور یہ کہ جرائم کے خاتمہ کے حوالے سے ان کی اب تک کی کارکردگی کس قدر متاثر کن ہے قطعی مقصود بیاں نہیں اصل وجہ تحریر یہ ہے کہ شیخوپورہ جیسے جرائم کی لسٹ میں ٹاپ ٹین اضلاع میں شامل یہ ضلع کس طرح جرائم میں کمی کے باعث امن و امان کا حقیقی معنوں میں گہوارہ بن سکتا ہے، ہوتا آیا ہے کہ ہر نوتعینات ڈی پی او جرائم کی بیخ کنی اور مجرما ن کے قلع قمع کی خاطر بڑی بڑی باتیں اور عزم شبیری کا اظہار کرتا ہے مگرچند ہی دنوں میں وہ بھی اسی ڈگر پر دکھائی دیتا ہے جو اس سے قبل تعینات افسران نے اپنائے رکھی، جرائم کی وارداتوں کا نہ دلچسپی سے نوٹس لیا جاتا ہے نہ تھانوں کے غیر تسلی بخش حالات پر توجہ مرکوز رہتی ہے خصوصاً پولیس کے خلاف عوامی شکایات کا اذالہ ممکن نہیں رہتا حالانکہ اس غرض سے کھلی کچہریاں تک لگائی جاتی ہیں جن کا واحد مقصد متاثرہ شہریوں کی براہ راست شکایات سننا اورداد رسی کی راہ میں حائل رکاوٹوں کا خاتمہ ہوگا ہے مگر نہ شکایات کے اذالہ کی کاروائیاں زیادہ دیر تک سنجیدگی سے جاری رکھی جاتی ہیں نہ پولیس کا قبلہ درست ہوتا ہے جس کی کلیدی وجہ وہ پولیس افسران و ملازمین ہیں جو مذکورہ واقعہ کے ریچھ کی مانند ہیں وہ اول تو اس قابل نہیں ہوتے کہ انکے ٹریک ریکارڈ کو دیکھتے ہوئے جرائم کے خاتمہ کی جدوجہد میں کارکردگی دکھانے کے قابل ہوں اور دوسرا یہ کہہ مخلص بھی ہوں مگر ذہنی صلاحیت اس قابل نہ ہو کہ انہیں شہریوں کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کی ذمہ داری سونپی جاسکے ایسے افسران و ملازمین نہ صرف کلیدی افسران کیلئے وبال جان ثابت ہوتے ہیں بلکہ اپنی نااہلی و نالائقی سے توجہ ہٹانے کی خاطر افسران کو مس لیڈ کرتے ہیں جس میں انکی مہارت اتنی ہے کہ جلد یا تاخیر سے سہی مگر ہر بار یہ افسران کو اپنی ڈگر پر لانے میں کامیاب ہوتے دکھائی دیئے ہیں نوتعینات ڈی پی او غلام مبشر میکن کیلئے بھی یہ صورتحال کسی چیلنج سے کم نہ ہے انہیں جہاں جرائم کے خاتمہ کی جدوجہد انجام دینی ہے وہاں ضلع پولیس کو بھی مستعد کرنا ہے کیونکہ جرائم کی بڑھتی شرح کے حوالے سے ضلع شیخوپورہ شدید ابتری کا شکار ہے، ڈکیتی چوری و راہزنی کی وارداتیں تھمنا درکنا ر کم ہونے کانام نہیں لے رہی گزشتہ ماہ میں تو حالت اتنی بدتر رہی کہ فقط ایک ہی روز میں 50سے زائد وارداتیں رپورٹ ہوئی جبکہ روزانہ ڈکیتی چوری راہزنی و نقب زنی کی درجنوں وارداتیں معمول کی بات رہی ڈاکوؤں کی طرف سے ڈکیتی میں مزاحمت پر درجنوں افراد کو فائرنگ اور تشدد کا نشانہ بنایا گیا خونیں ڈکیتی و راہزنی کی وارداتوں میں کئی ایک شہری جان سے گئے جن کے ورثاء آج بھی انصاف کے منتظر اور پولیس کارکردگی ملزمان کی گرفتاری کے دعووں تک محدود ہے حد یہ ہے کہ خوش بختی یا خود ساختہ کاروائی سے کسی واردات کے ملزم پکڑے گئے تو یوں دھول اڑائی گئی کہ جیسے اس گرفتاری کے بعد پولیس پر عائد دیگر ملزمان کی گرفتاریوں کی ذمہ داری جاتی رہی اور ان سب متاثرین کو انصاف مل گیا جنہیں ڈاکوؤں اور رہزنوں کے ہاتھوں جان سے ہاتھ دھونے پڑے یا زندگی بھر کی جمع پونچی و قیمتی سامان کے چھن یا چرالئے جانے کا نقصان اٹھانا پڑا، دیگر جرائم کی بات کریں تو منشیات فروشی رک سکی نہ توقع کی جاسکتی ہے کیونکہ منشیات فروشوں کے ہاتھ پولیس سے بھی لمبے محسوس ہورہے ہیں جو بار بار پولیس کاروائیوں کے باوجود اپنا دھندہ چلارہے ہیں منشیات فروش آگاہ ہیں کہ وہ اپنا یہ سماج دشمن عمل کیسے جاری رکھ سکتے ہیں اور کس کس کی مٹھی گرم کرنے کے بعد پولیس قانون کی نہیں انکی رکھوالی یقینی بنائے گی پولیس دعوؤں کو دیکھا جائے تو سابق ڈی ای او کا دور ہی نہیں اس سے قبل بھی  مختلف تھانوں کے حوالے سے آئے روز منشیات فروشوں کی گرفتاریوں کی اطلاعات ملتی رہیں اور بھاری مقدار منشیات قبضے میں لئے جانے کے دعوے پولیس کی طرف سے کئے جاتے رہے مگر آج بھی منشیات فروشی عروج پر ہے ضلع میں منشیات کے اڈوں کی بھرمار ہے ہر طرح کا نشہ دستیاب بلکہ ہمہ وقت باسہولت و آسانی دستیاب ہے جس کی بنیادی وجہ معاشرے کو اس لعنت سے مکمل پاک کرنا پولیس کی ترجیحات میں شامل نہ ہونا محسوس ہوتی ہے اور یہ کہ وہ ناجائز کمائی ہے جو منشیات فروشوں کو آشیر باد فراہم کرنے کے عوض میسر آتی ہے، ایسا ہرگز نہیں کہ اس مذموم فعل میں سبھی افسران و ملازمین ملوث اور منشیات فروشوں کے بھتہ کی کمائی کی بہتی گنگا میں سبھی ہاتھ دھو رہے ہیں یقینا بعض ایسے پولیس افسران و ملازمین بھی محکمہ پولیس کا فخر اور اعزاز ہیں جو جرائم پیشہ عناصر کیلئے ننگی تلوار کی مانند ہیں اور منشیات فروشوں کو رنگے ہاتھوں دھر لئے جانے کی کاروائیاں بھی انہیں کی مرہون منت ہیں تاہم ان فرض شناس و ایماندار افسران و ملازمین کی تعداد شاید مٹھی بھر ہے، اسی طرح اغواء برائے تاوان جیسے سنگین جرم کی بات کریں تو قطعی ایسا نہیں کہ پولیس کاروائیوں کے خوف سے اس جرم کا ارتکاب کرنے کی کسی نے جرات نہ کی ہو وقفے وقفے سے یا یوں کہئے کہ موقع ملنے پرجرائم پیشہ عناصر نے قطعی گریز نہیں برتا عمومی واقعات میں بچے اور خواتین جبکہ اکا دکا واقعات میں مختلف عمر کے مرد حضرات بھی نشانہ بنے جنہیں اغواء کیا اور تاوان وصولا گیا بعض واقعات کو پولیس نے ٹریس کیا اور ملزمان کی گرفتاری و مغوی کی بازیابی عمل میں لائی گئی بعض دلخراش واقعات میں تاوان میں تاخیر یا نہ ملنے کے باعث ملزمان کے ہاتھوں مغوی قتل بھی ہوئے، ناجائز اسلحہ کے خلاف مہم کی بات کریں تو گزشتہ برس میں بعض ملزمان کی گرفتاریوں کی اطلاعات ملیں مگر کتنوں کو اور کیا کیا سزائیں ہوئیں کچھ سامنے نہ آسکا نہ اہل صحافت کی کوششوں کے باوجود پولیس نے اس حوالے سے کبھی ریکارڈ فراہم کیا البتہ ناجائز اسلحہ رکھنے کے جرم میں ملزمان کو پکڑے گئے کی خبروں کی تمنا بارہا کی گئی جو صحافتی ذمہ داری سمجھتے ہوئے پولیس کارکردگی کے طور پر میڈیا نے نشر کرکے پولیس کی حوصلہ افزائی کی آج تک اس طرف توجہ نہیں دی گئی کہ ایک مربوط پلان کے تحت ہر خاص و عام شہری کے پاس کسی طرح کا جائز ناجائز اسلحہ موجود ہونے کے حوالے سے سرچ آپریشن عمل میں لایا جائے، اسی طرح دیگر نوعیت کے جرائم کی وارداتوں، سوشل کرائم، ڈومیسٹک کرائم سمیت دیرینہ و خاندانی دشمنیوں میں آئے روز لوگوں کے بھینٹ چڑھنے کے واقعات کوبھی سنجیدہ نہیں لیا گیا اور حالت یہ ہے کہ آئے روز کوئی نہ کوئی فریق ایک دوسرے پر حملہ آور ہو کر جان کے درپے رہتا ہے او ر موقع ملنے پر ملزمان کو کامیابی بھی ملتی رہی ہے ضرورت اس امر کی تھی کہ پولیس دیرینہ دشمنیوں کے واقعات کا ریکارڈ جمع کرکے موثر لائحہ عمل مرتب کرتی اور تمام دشمن داروں کی فوری صلح ممکن بنانا نہ سہی انہیں مانیٹر کرنے سمیت آگاہ تو کرتی کہ ان پر مکمل نظررکھی گئی ہے آئندہ ایک دوسرے پر حملہ آور ہونے کی کوشش کی تو پولیس کا سامنا کرنا پڑے گا تاہم نہایت دلخراش امر اشتہاری قرار دیئے گئے ملزمان کی گرفتاریاں عمل میں نہ لایا جانا ہے جن کا کھلا گھومنا معاشرے کیلئے کسی طور سود مندنہیں یہ ریکارڈ یافتہ ملزمان نہ صرف قتل و اقدام قتل، اغواء برائے تاون، ڈکیتی و راہزنی و خواتین کی عصمت دری جیسے سنگین جرائم کا ارتکاب جاری رکھے ہوئے ہیں بلکہ انکے خلاف مقدمات میں گواہ متاثرہ گھرانوں کے افراد کی زندگیاں بھی مسلسل خطرات کا شکار رہتی ہیں لاتعداد لوگ ان کے ڈر سے نقل مکانی کرچکے اور بعض تو گواہیاں تبدیل کرنے اور مقدمات واپس لیتے تک مجبور پائے گئے ہیں لہذاٰلمحہ فکریہ ہے کہ ضلع شیخوپورہ کے مختلف دیہی و شہری علاقوں سے تعلق رکھنے والے اشتہاری و مفرور قرار دیئے گئے مجرمان و ملزمان کی تعداد ہزاروں میں ہے مگر انکی اس بڑی تعداد کو فوری پابند سلاسل کرنا تو درکنار انکے خوف کو کم کرنے کیلئے بھی خاطر خواہ اقدامات اٹھائے نہیں جاسکے جب تک ضلع پولیس حقیقی معنوں میں جرائم کے خاتمہ کیلئے کمر بستہ نہیں ہوتی اور ضلع پولیس کو نااہل و کام چور اور کرپٹ و رشوت خور ملازمین سے پاک نہیں کیا جاتا جرائم کی شرح میں واضح کمی اور اہلیان شیخوپورہ کے جان و مال اور عزت و آبرو کے تحفظ کا خواب شرمندہ تعبیر نہیں ہوسکتا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید :

ایڈیشن 1 -