پولیس کی سرپرستی میں بلیک میلر گروہ کا انکشاف

پولیس کی سرپرستی میں بلیک میلر گروہ کا انکشاف

  

لڑکیوں کے ذریعے سادہ لوح افراد کو پھنسا کر برہنہ ویڈیو بنالی جاتی ہے

واقف تھانیداروں کو درخواست دیکر ملی بھگت سے بھتہ خوری کا سلسلہ جاری ہے

گروہ میں شامل پولیس اہلکاروں، خواتین سمیت دیگر کے خلاف مقدمات درج کر لئے گئے

کرائم سٹوری

سرگودھاسے سجاد اکرم

پنجاب پولیس جس میں جہاں ایماندار، دیانتدار، کرائم فائٹر اور جراتمند ملازمین، افسران کی اکثریت ہے جو مظلوم کو انصاف فراہم کرنا اپنا فرض اور عبادت سمجھتے ہیں، اس محکمہ میں مٹھی بھر کرپٹ عناسر جو عوام کی نظر میں رشوت لے کر یا اختیارات سے تجاوز کر کے پورے محکمہ کیلئے بدنامی کا باعث بنتے ہیں۔ راقم اس سے کچھ ہٹ کر انکشاف کرنے جا رہا ہے، کچھ سال قبل انکشاف ہوا کہ پولیس میں کچھ ایسی ”کالی بھیڑیں“ بھی ہیں جنہوں نے لڑکیوں کے گینگ بنا رکھے ہیں اور وہ لڑکیوں کو استعمال کر کے سرمایہ دار شرفاء کو بلیک میل کر کے لاکھوں روپیہ بھتہ بٹورتے ہیں، جس پر راقم نے کھوج شروع کر دیا تو انکشاف ہوا کہ سرگودھا، لاہور، بہاؤالپور، فیصل آباد سمیت پنجاب کے مختلف اضلاع میں بعض پولیس اہلکاروں کی سرپرستی میں یہ گروہ کام کر رہے ہیں، جن کا طریقہ واردات کچھ یوں ہے کہ یہ گروہ پہلے متعلقہ تھانوں میں کسی پولیس اہلکار سے معاملہ طے کرتے ہیں، پھر اس تھانے کی حدود میں کسی شریف آدمی کو لڑکی ٹیلیفون کال کر کے پھنساتی ہے اور مخصوص مقام پر بلوالیتی ہے، جہاں پہلے سے موجود مسلح افراد سادہ لوح شہری کو برہنہ کر کے لڑکی کے ساتھ بٹھا کر اس کی ویڈیو بناتے ہیں اور جو رقم موقع پر موجود ہو وہ چھین کر شہری کو چلتا کرتے ہیں اور بعد ازاں اس ویڈیو کا ناجائز فائدہ اٹھاتے ہوئے شریف شہری کیخلاف درخواست اپنے تعلق دار تھانیدار کو دے کر اس سے خوفزدہ، ہراساں کر کے لاکھوں روپے بھتہ بٹورتے ہیں۔ اس نوعیت کے واقعات کے 99 فیصد مقدمات درج نہیں کروائے جاتے بلکہ پولیس اور بھتہ خور گینگ مل کر درخواست پر ہی رقم وصول کر معاملہ طے ہو جاتا ہے، ایک فیصد مقدمات درج کروا کے شرفاء سے بھاری مال بٹورا جاتا ہے۔ یوں تو یہ مکروہ دھندہ پنجاب سمیت دیگر صوبوں میں بھی مختلف طریقوں سے ہو رہا ہے سردست راقم سرگودھا کے کچھ گروہوں کا لگایا جانے والا کھوج بیان کر رہا ہے، جنہیں لینے کے دینے پڑ گئے، 2019 میں ”کھوج“ کی نشاندہی پر اس وقت کے ڈی پی او حسن مشتاق سکھیرہ کے حکم پر سیٹلائٹ ٹاؤن پولیس نے اسی نوعیت کے ایک گینگ کو گرفتار کیا جس میں ایک وکیل، تین خواتین شاہدہ، سمیرا، ثناء، رمضان چدھڑ اور اس کے ساتھیوں نے دودہ کے تنویر اور 91 شمالی کے امجد قریشی کو لڑکیوں کے ذریعے اپنے دام میں پھنسا کر انکی ویڈیو بنائی اور پھر بلیک میل کر کے ان سے لاکھوں روپے ہتھیائے، حسن مشتاق سکھیرا کے حکم پر دودہ کے تنویر کی مدعیت میں زیر دفعہ 386, 383, 355, 395, 365 ت پ و دیگر دفعات کے تحت تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں مقدمہ نمبر 299/19 درج ہوا جبکہ انہی سے ملتی جلتی دفعات کے تحت امجد علی شاہ کی مدعیت میں مقدمہ نمبر 311/19 اسی تھانہ میں درج ہوا۔ ملزمان چالان ہو کر جیل چلے گئے، اس گینگ کے ہاتھ بڑے لمبے تھے کیونکہ اس گینگ کے پیچھے ایک سب انسپکٹر اور پولیس اہلکار پشت پناہی کر رہے تھے، جبکہ شہر کے بعض شرفاء بھی اس گینگ کو بچانے کیلئے متحرک ہوئے جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ دونوں مقدموں کے مدعیوں اور ملزموں میں ڈیل ہو گئی اور عدالت میں گواہ منحرف ہو گئے، جس پر انسداد دہشتگردی عدالت کے پراسیکیوٹر میاں رضوان کی جانب سے دونوں مقدموں کے گواہوں و مدعیوں کیخلاف تھانہ کینٹ میں زیر دفعہ 213 مقدمات درج کروائے گئے؟ جنکا نتیجہ کیا نکلا یہ بیان کرنا سول کورٹ کی توہین ہوگی۔ تاہم تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن کے ان مقدمات کی تفتیش کے دوران عندیہ کھلا کہ اس گینگ کے پیچھے پولیس کا ایک سب انسپکٹر اور ایک کانسٹیبل شامل ہے، مگر ڈی پی او حسن مشتاق سکھیرا کا تبادلہ ہونے کے باعث سب انسپکٹر اور کانسٹیبل بچ نکلے۔

2019 میں ہی ثناء شاہ نامی خاتون کی وساطت سے سرگودھا کے ایک بڑے ٹرانسپورٹر کو اپنے جال میں پھنسا کر ایک بھتہ خور گینگ نے ٹرانسپورٹر کیخلاف حدود آرڈیننس کے تحت مقدمہ نمبر 218/19 تھانہ ساجد شہید میں درج کروایا اور پھر بھاری معاوضہ لے کر عدالت میں گواہ منحرف ہو گئے، جس پر تھانہ ساجد شہید پولیس کے سب انسپکٹر اشتیاق کی مدعیت میں مقدمہ کی مدعیہ ثناء شاہ اور گواہان کیخلاف مبینہ ملزم سے بھاری رقم وصول کر کے عدالت میں اپنے بیان سے منحرف ہونے پر مقدمہ نمبر 403/19 درج کروایا، جس کا بھی سول کورٹ میں کیا نتیجہ نکلا یہ ایک الگ داستان ہے۔ تا ہم اس گروہ کی پشت پناہی ایک حاضر سروس ڈی ایس پی اور پولیس اہلکار کرتے رہے۔ 2019 اور جون 2020 تک راقم کی معلومات کے مطابق درجنوں شرفاء سے اس نوعیت کے مختلف گینگز نے مختلف تھانوں میں درخواستیں جو براہ راست ڈیل شدہ تھانیداروں کو دے کر لاکھوں روپے ہتھیائے، جو سادہ لوح لوگ اس گینگ کا شکار بنے وہ عزت کے مارے خاموش رہے۔ یہاں قابل توجہ امر یہ ہے کہ اس نوعیت کی درخواستیں براہ راست اس تھانیدار کو دی جاتی ہیں جن کا گینگ سے معاملہ طے ہوتا ہے، کمپیوٹر سیکشن پر درخواست نہیں دی جاتی تا کہ ریکارڈ پر نہ آ جائے،

اسی گینگ نے اگست 2020 کے اوائل میں تھانہ جھاوریاں میں وسیم نامی شخص کو ٹارگٹ کر کے اس سے رقم ہتھیانے کا فیصلہ کیا جس کیلئے بھتہ خوروں کے اس گینگ نے تھانہ جھاوریاں کے سب انسپکٹر بلال، اور کانسٹیبل امتیاز کو اپنا ہم نوا بنایا اور ایک منصوبہ بندی کے تحت اس گینگ نے 14 اگست کو ایک دن کیلئے جھاوریاں میں مکان کرایہ پر حاصل کیا، اسی روز منصوبہ بندی کے تحت مہوش عرف عائشہ بلوچ نامی لڑکی وسیم کے کلینک پر اپنی ساتھی ثناء شاہ جو کہ تھانہ ساجد شہید سمیت کئی تھانوں کے علاقوں میں واردات کر چکی ہے کے ہمراہ پہنچی، مہوش عرف عائشہ بلوچ نے چیک اپ کروا کر دوائی حاصل کی، تھوڑی دیر بعد ثناء شاہ کلینک پر آئی اور کہا کہ آپ کی دوائی مہوش کو ری ایکشن کر گئی ہے، جس پر جونہی طبیب وسیم فرضی نام مہوش  اصل عائشہ بلوچ کو چیک کرنے کیلئے کمرے میں پہنچا تو ظفر عرف محسن، گلزار اور حق نواز نے اسلحہ تان لیا، برہنہ کر کے عائشہ بلوچ کے ساتھ اس کی ویڈیو بنائی اور 20 ہزار روپے موقعہ پر چھین کر وسیم کو بھجوا دیا، حسب معمول تھوڑی دیر بعد سب انسپکٹر بلال اور کانسٹیبل امتیاز کلینک پر پہنچ گئے اور وسیم کو تھانے بلوایا، مختلف ایام میں 12 لاکھ روپے نقد، 10 لاکھ روپے کا چیک وسیم سے بھتہ کی صورت میں حاصل کر کے اسی پر اکتفا نہ کیا بلکہ کانسٹیبل امتیاز نے دھمکی دی کہ اگر 3 لاکھ بلال اور 2 لاکھ مجھے (امتیاز) کو نہ دیا تو تمہارا (وسیم) کا انجام اچھا نہ ہو گا۔ جس پر وسیم پریشان ہو گیا اور اس نے خود کشی کی ٹھان لی کہ اس کے دوست نور محمد نے پریشان دیکھ کر وسیم سے معاملہ پوچھا تو وسیم نے سب کچھ اپنے دوست کو بتایا جس پر میاں نور محمد نے اپنے ایک دوست سے رابطہ کیا، تینوں نے مل کر سب انسپکٹر، کانسٹیبل اور اس گروہ کیخلاف جہاد کرنے کا بیڑا اٹھایا اور فیصلہ کیا کہ جو ہو گا دیکھا جائے گا، انہوں نے شاہد نذیر خان ایڈووکیٹ جو کہ قبل ازیں تھانہ سیٹلائٹ ٹاؤن میں درج ہونے والے مقدمات جن کے مدعی تنویر اور امجد قریشی تھے کے وکیل رہ چکے تھے رابطہ کر کے تحریری درخواست لکھوائی اور 14 نومبر کو ایس پی انویسٹی گیشن سرگودھا کو اس گینگ کے بارے میں آگاہ کیا، ایس پی انویسٹی گیشن عباس شاہ نے بلا تاخیر ڈی پی او سرگودھا فیصل گلزار سے مشاورت کر کے ذرائع کے مطابق ڈی ایس پی صدر سرکل اختر وینس کی سربراہی میں ایک اعلی سطحی پولیس ٹیم تشکیل دے کر اسی وقت جھاوریاں روانہ کی جس نے سب انسپکٹر بلال اور کانسٹیبل امتیاز سے تفتیش کر کے سارا معاملہ اگلوا لیا، جس کی فوری رپورٹ پر ڈی پی او سرگودھا فیصل گلزار کے حکم پر سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز (فرضی نام مہوش اصل نام عائشہ بلوچ، فرضی نام ظفر اصل نام محسن) سمیت 7 افراد کیخلاف تھانہ جھاوریاں میں مقدمہ نمبر 295/20 بجرم 386, 387, 395, 506-II, 55/PPC ت پ و دیگر دفعات کے تحت درج کر کے سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز، محسن عرف ظفر، لڑکی ثناء کو گرفتار کیا گیا، ثناء سے بھتہ کی رقم برآمدگی کر کے اسے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھجوا دیا گیا ہے، سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز، محسن عرف ظفر انسداد دہشتگردی سرگودھا کی عدالت سے ریمانڈ پر ہیں، جبکہ گلزار، حق نواز اور عائشہ عرف مہوش انسداد دہشتگردی کی عدالت سے 6 اکتوبر کو عبوری ضمانت خارج ہو چکی ہے، اور ملزمہ عائشہ عرف مہوش کو راہداری ریمانڈ پر جیل منتقل کر دیا گیا ہے،  مقدمہ کی تفتیش انویسٹی گیشن انسپکٹر ستار گل کر رہے ہیں جس کی نگرانی براہ راست ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر سرگودھا فیصل گلزار، ایس پی انویسٹی گیشن سید عباس شاہ اور ڈی ایس پی شاہ پور غلام جعفر چھینہ کر رہے ہیں، ملزمان کے ورثاء کی جانب سے مدعی پر صلح کیلئے سخت دباؤ ڈالا جا رہا ہے، اور مسلح افراد کی طرف سے اسے دھمکیاں بھی دی جا چکی ہیں، جس کا الگ سے مقدمہ تھانہ جھاوریاں میں درج ہو چکا ہے، مقدمہ انسداد دہشتگردی کی عدالت میں چل رہا ہے، دو خواتین ملزمان جیل میں ہیں جبکہ باقی ملزمان جن میں سب انسپکٹر بلال، کانسٹیبل امتیاز و دیگر شامل ہیں، ریمانڈ پر پولیس حراست میں ہیں جن سے بھتہ کی 80 فیصد سے زائد رقم وصول ہو چکی ہے باقی رقم برآمد کرنے کیلئے پولیس تحرک کر رہی ہے، نام نہاد شرفاء جن میں سیاسی شخصیات بھی شامل ہیں ملزمان کو بچانے اورمدعی کو صلح پر مجبور کرنے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگا رہی ہیں؟ مدعی مقدمہ کی طرف سے کانسٹیبل امتیاز کے بھائی محمد ریاض اور دیگر 3 رشتہ داروں سمیت پانچ افراد کیخلاف درج مقدمہ میں ملزمان نے عبوری ضمانت کرا لی ہے، ایڈیشنل سیشن جج شاہپور سکندر حیات 10 اکتوبر کو اس کی سماعت کریں گے۔

تصاویر:

سابق ڈی پی او حسن مشتاق سکھیرا

ڈی پی او سرگودھا فیصل گلزار

ایس پی انویسٹی گیشن سید عباس شاہ

ڈی ایس پی شاہپور غلام جعفر چھینہ

مزید :

ایڈیشن 1 -