ڈاکٹر عادل خان کی شہادت

 ڈاکٹر عادل خان کی شہادت

  

وزیراعظم نے جامعہ فاروقیہ شاہ فیصل کالونی کراچی کے مہتمم مولانا عادل خان کے قتل کی مذمت کی اور کہا کہ بھارت پاکستان میں فرقہ وارانہ فسادات کرانے کی سازش کر رہا ہے،انہوں نے یقین دلایا کہ اس سازش کو کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا، ڈاکٹر عادل خان کے قاتلوں کو جلد گرفتار کر کے عوام کے سامنے لایا جائے گا،ڈاکٹر عادل خان کی کار فیصل کالونی مارکیٹ میں ایک مٹھائی والی دکان کے سامنے کھڑی ہوئی اور ایک فرد مٹھائی لینے گیا،اسی اثناء میں ایک موٹر سائیکل پر سوار دو نامعلوم افراد نے اندھا دھند فائرنگ کی اور فرار ہو گئے۔مولانا اور ان کا ڈرائیور زخمی ہوئے اور جب وہ ہسپتال پہنچائے گئے تو اُس وقت تک ان کا انتقال ہو چکا تھا۔ڈاکٹر عادل خان، جامعہ فاروقیہ کے بانی مولانا سلیم خان کے صاحبزادے تھے۔انہوں نے علوم اسلامیہ میں پی ایچ ڈی کی اور ملائشیا میں پڑھاتے بھی رہے تھے، اپنے والد کے انتقال کے بعد وہ کراچی آ گئے اور یہاں جامعہ فاروقیہ کا انتظام سنبھال لیا تھا،وہ ایک ماہر اسلامی علوم تھے اور اعتدال پسندی پر عمل پیرا تھے، ان کے قتل سے اس شبے کو تقویت ملتی ہے کہ یہاں فرقہ وارانہ فسادات کی سازش ہو رہی ہے۔ ڈاکٹر عادل خان کو سپردِخاک کر دیا گیا، ان کے مقلدین میں اشتعال پایا جاتا ہے اور شہر میں خوف کی لہر دوڑ گئی ہے۔

ملک میں فرقہ واریت کے زہر کی مسلسل نشاندہی کی جا رہی تھی، خود وزیر ریلوے شیخ رشید نے بھی سازش کا انکشاف کیا اور اب تعزیت کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے بھی نشاندہی کی اور یہی کہا ہے۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ حکمران اگر خود باخبر ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں، تو اس سازش کو ناکام بنانے اور سازشی عناصر کو منظر عام پر لانے کے لئے کیا کِیا گیا۔کیا دینی معززین کے اجلاس سازش کو ناکام بنا سکتے ہیں۔ ایسے اجتماعات مذہبی ہم آہنگی کے لئے تو درست ہو سکتے ہیں،لیکن سازش کو تلاش کر کے ناکام نہیں بنا سکتے،اس کے لئے انٹیلی جنس کی ضرورت ہے اور ہمارے ملک کو یہ وسائل حاصل ہیں،اِس لئے ضروری ہے کہ بیانات سے آگے اقدام ہو اور سازشی بے نقاب ہو کر گرفتار ہوں۔

مزید :

رائے -اداریہ -