جلسے اور ریلیاں …… میدان ہر کسی کے لئے ہموار  ہونا چاہئے

 جلسے اور ریلیاں …… میدان ہر کسی کے لئے ہموار  ہونا چاہئے

  

وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے کہا ہے کہ اپوزیشن کے جلسے ملک میں کورونا کو ہوا دیں گے،جلسے جلوس سیاست کا حصہ ہیں،لیکن اپوزیشن اپنا احتجاج موخر کر دے،وفاقی وزیر منصوبہ بندی اسد عمر نے اپوزیشن جماعتوں سے اپیل کی ہے کہ وہ احتجاجی جلسے نہ کریں، حکومت کورونا وائرس کے خلاف صوبوں کے تعاون سے کام کر رہی ہے،بڑے بڑے اجتماعات کے حوالے سے کورونا ایس او پیز پہلے ہی طے ہو چکے ہیں، سائنس اور ٹیکنالوجی کے وفاقی وزیر فواد چودھری نے کہا ہے کہ اپوزیشن اپنی ریلیاں اور دھرنے اگلے سال تک ملتوی کر دے۔ وزیر ریلوے شیخ رشید احمد نے کہا کہ قومی اداروں کے خلاف اپوزیشن کی تحریک ناکام ہو گی،جلسے کرنا اپوزیشن کا حق ہے،لیکن شرپسندانہ حرکتوں کے خلاف قانون حرکت میں آئے گا،اگلے چند ماہ میں دہشت گردی اور کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے امکانات کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ وزیر داخلہ بریگیڈیئر(ر) اعجاز شاہ نے کہا کہ جمہوریت میں جلسے اور ریلیاں معمول کی بات ہیں،لیکن کوئی شہری کسی ایسی ریلی میں شرکت کا تصور نہیں کر سکتا، جو قومی اداروں کے خلاف نکالی جا رہی ہو۔

اوپر وفاقی وزراء کے جن بیانات کا لب ِ لباب درج کیا گیا ہے یہ ایک ہی روز جاری ہوئے ہیں ان میں مشترک نکتہ یہ ہے کہ جلسے اپوزیشن کا حق ہیں، لیکن…… جو جلسے وہ کرنے جا رہی ہے وہ ملتوی کر دیئے جائیں، بعض وزراء نے تو اس کی وجہ کورونا وائرس کے پھیلاؤ کا خدشہ بتایا ہے، ایک وزیر کو دہشت گردی کا خطرہ بھی لاحق ہے،ایک صاحب کا فرمان ہے کہ پاکستان کا کوئی شہری کسی ایسی ریلی میں شرکت کا تصور بھی نہیں کر سکتا جو قومی اداروں کے خلاف نکالی جائے،گویا ابھی سے قبل از وقت یہ فرض کر لیا گیا ہے کہ کوئی ریلی یا جلسہ قومی اداروں کے خلاف بھی کیا جا رہا ہے،حالانکہ جب تک کسی جلسے کا انعقاد نہ ہو جائے اور اس میں کئے جانے والا اظہارِ خیال سامنے نہ آ جائے اُس وقت تک مفروضے کی بنیاد پر کوئی فیصلہ کیسے کیا جا سکتا ہے۔

ابھی گزشتہ روز ہی لیاقت باغ راولپنڈی میں تحریک انصاف کے عہدیداروں کی حلف برداری کی ایک تقریب ہوئی، کسی کو اس تقریب کے انعقاد پر اس بنیاد پر کوئی اعتراض نہیں تھا کہ اس سے کورونا پھیل سکتا ہے یا یہ تقریب کسی دہشت گردی کی زد میں آ سکتی ہے۔سوال یہ ہے کہ اگر حکمران جماعت کی کسی تقریب سے کورونا نہیں پھیلتا اور اس بنیاد پر دارالحکومت کے جڑواں شہر کی انتظامیہ اس تقریب کو روکنے کی کوئی کوشش نہیں کرتی،  نہ تقریب کے منتظمین کو خبردار کرتی ہے، کہ آپ جو تقریب منعقد کرنے جا رہے ہیں وہ کورونا کے پھیلاؤ کا باعث بن جائے گی، تو پھر حکومتی اداروں کے پاس کیا اخلاقی جواز رہ جاتا ہے کہ وہ اپوزیشن سے کہیں کہ وہ جلسہ نہ کرے،کیونکہ کورونا پھیلے گا، کیا انہوں نے کورونا سے کوئی ضمانت لی ہوئی ہے کہ وہ راولپنڈی کی تقریب کے ذریعے نہیں پھیلے گا، لیکن گوجرانوالہ میں جلسہ ہوا تو وہ پھیلاؤ روکنے کا ذمہ دار نہیں،خود سائنس اور ٹیکنالوجی کے وزیر نے گزشتہ روز ہی سیالکوٹ میں ایک تقریب سے خطاب کیا اور وہاں انکشاف کیا کہ مسلم لیگ(ن) کے پندرہ بیس سے زیادہ ایم این اے استعفا نہیں دیں گے، جناب فواد چودھری سے سوال ہے کہ کیا وہ کہیں سے یہ ضمانت لے کر گئے تھے کہ کورونا اُن کی تقریب پر حملہ آور نہیں ہو گا؟ ویسے بھی یہ انکشاف وہ اپنے اس ٹویٹ کے ذریعے بھی کر سکتے تھے، جس میں انہوں نے اپوزیشن سے کہا کہ وہ اپنی تحریک اگلے سال تک ملتوی کر دے،انہوں نے اگر ایک انکشاف کرنے کے لئے ایک تقریب کا اہتمام کرایا اور وہاں جانا ضروری سمجھا تو کیا اپوزیشن کا یہ حق نہیں کہ وہ بھی کسی ایسے ہی جھوٹے سچے انکشاف کے لئے کسی جلسے کا اہتمام کرے، وزراء جو خود نہیں کرتے اس کی تلقین دوسروں کو کیوں کرتے ہیں؟

اپوزیشن کو اعتراض ہے کہ وزیراعظم خود تو تقریبات میں جاتے ہیں اور وہاں اپوزیشن کے خلاف ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہیں،جن میں کچھ بھی نیا نہیں ہوتا، وہی چور ڈاکو کی تکرار، وہی این آرا و نہ دینے کا عزم، کرپشن کا وہی گھسا پٹہ بیانیہ جس کا کوئی سر پیر آج تک سامنے نہیں آیا، اب البتہ چند دِنوں سے انہوں نے آئی ایس آئی کا تذکرہ بھی اپنے انٹرویوز اور اپنی تقریروں میں شروع کر رکھا ہے، وہ تو وزیراعظم ہیں جو چاہے کہہ سکتے ہیں،لیکن اگر کسی نے اُن کی تقریر میں آنے والے حوالے سے اِس کا جواب دینے کی جسارت کر ڈالی تو غدار قرار پائے گا، اور کہا جائے گا کہ قومی ادارے کی توہین کی جا رہی ہے،حالانکہ بہتر اور دانش مندانہ طرزِ فکر یہی ہے کہ وزیراعظم بھی قومی اداروں کے اس کردار کا تذکرہ برسر عام نہ کریں جو ”خفیہ“ کے ذیل میں آتا ہے۔2014ء میں اگر کسی جرنیل نے نواز شریف سے استعفا مانگا تھا، تو امرِ واقعہ یہ ہے کہ وہ اس کے حصول میں ناکام ہو گیا تھا، استعفے کا غلغلہ اُس وقت اُٹھا تھا جب عمران خان اور طاہر القادری نے ڈی چوک میں دھرنا دے رکھا تھا اور وزیراعظم ہاؤس میں اہم ملاقات ہو رہی تھی اور چینلوں پر استعفے کی ڈس انفارمیشن چل رہی تھی،اب تو یہ سب تاریخ ہے۔ استعفا مانگنے والوں نے مانگا ہو گا،لیکن دیا کسی نے نہیں، نہ  وہ لے سکے، استعفے کا آپشن کامیاب ہو گیا ہوتا تو تاریخ مختلف ہوتی۔2014ء کا گنیز بُک میں ریکارڈ یافتہ دھرنا ناکام نہ ہوتا،نواز شریف اُسی وقت حکومت سے باہر ہو جاتے،حکومت کا نیا ڈھانچہ تشکیل پا جاتا،جو استعفا مانگ رہے تھے اُنہیں شاید نئے ڈھانچے میں نئے انداز سے ایڈجسٹ کر لیا جاتا،یہ سب کچھ ہو گیا ہوتا تو کوئی پانامہ ہوتا نہ اقامہ، شاید الیکشن بھی2018ء سے پہلے ہی ہو جاتے اور ان میں بھی وہ سب کچھ نہ  ہوتا جن کا آج تذکرہ ہوتا ہے، شاید نتیجہ بھی نہ روکنا پڑتا،اِس لئے ملک و قوم اور اداروں کے احترام کا تقاضہ ہے کہ متنازع باتیں نہ چھیڑی جائیں اگر حکومت نے ہی یہ راگ الاپنا ہے تو دوسروں کو کیسے روکا جائے گا کہ وہ بھی اِس سُر میں تال نہ ملائیں، یک طرفہ انکشاف نہ کوئی مانتا ہے نہ ان کی کوئی حیثیت ہوتی ہے اگر ایسا کوئی مصرع طرح سامنے آئے گا تو اس پر غزل تو کہی جائے گی، بلکہ  آگے بڑھ کر دو غزلے اور سہ غزلے بھی کہے جائیں گے۔

مزید :

رائے -اداریہ -