”میں“جمہوریت ہوں 

”میں“جمہوریت ہوں 
”میں“جمہوریت ہوں 

  

وزیر اعظم عمران خان نے انصاف لائرز فورم کے جلسہ میں خطاب کرتے ہوئے کہا،”میں جمہوریت ہوں“۔ اس جلسہ کے میزبان بیرسٹر علی ظفر نے زمین اور آسمان کے قلابے ملاتے ہوئے کہا کہ عمران خان میں قائد اعظم محمد علی جناح کی تمام خصوصیات ہیں۔ ایک جمہوری ملک میں جمہوری طریقہ سے منتخب ہونے والاوزیر اعظم اگر اپنے آپ کو جمہوریت کہے تو یہ خوشی کی بات ہے کہ ملک کا نظام جمہوری خطوط پر استوار ہے۔ لیکن ٹھہرئیے، یہ ان کے کہے گئے جملے کا پہلا حصہ ہے۔ ان کا پورا جملہ تھا، ”میں جمہوریت ہوں اور اپوزیشن ڈاکو ہے“۔ اس جملہ کا دوسرا حصہ یقینا جمہوری عمل کے لئے نقصان دہ ہے کیونکہ جمہوریت اپوزیشن کو بلڈوز کر دینے سے نہیں چلتی۔ ایسا مطلق العنانیت میں ہوتا ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو بھی اپنے آپ کو جمہوری منتخب وزیر اعظم کہتے تھے لیکن ان کا طرز عمل سیاسی مخالفین کے لئے آمرانہ تھا اور انہیں بلڈوز کرنے کی کوشش کی جاتی تھی۔ کئی سیاسی مخالفین پر مقدمات چلائے گئے، انہیں جیلوں میں بند کیا گیا اور کچھ کو دلائی کیمپ جیسی جگہوں پر بھی رکھا گیا۔ عمران خان حکومت کی روش بھی سیاسی سے زیادہ انتقامی ہے جس میں یکطرفہ احتساب کے ذریعہ سیاسی مخالفین کا ناطقہ بند کیا گیا ہے۔ ورلڈ کپ 1992 کے کپتان کی حیثیت سے فاتحانہ تقریر سے لے کر ”میں جمہوریت ہوں“ تک تمام تقریروں اور بیانات میں عمران خان نرگسیت کا شکار اور ان کے مداح سر دھنتے نظر آتے ہیں۔ وزیر اعظم عمران خان عزیز میاں قوال کی طرح ایک مصرعہ کہتے ہیں جو عام طور پر اپوزیشن کو ڈاکو یا انڈین ایجنٹ کہنے کا ہوتا ہے اور پھر ان کے وزیر مشیرہمنواؤں کی طرح تالیاں بجاتے ہوئے اسے بار بار دہراتے  رہتے ہیں۔ سب سے پہلے عمران خان نے اپنی کابینہ کے سامنے نواز شریف کو انڈین ایجنٹ کہا اور اس کے بعد ان کے ہمنواؤں نے خوب تالیاں اور طبلے بجائے۔ اب یہ بات بھی سامنے آ رہی ہے کہ نواز شریف اور مسلم لیگ (ن) کے 42 سرکردہ لیڈروں کے خلاف درج ہونے سے پہلے ایف آئی آر کے بارے میں وزیر اعظم کے پرنسپل سیکرٹری کو آگاہ کیا گیا تھا یعنی یہ مقدمہ جس میں آزاد کشمیر کے   وزیر اعظم کو بھی نامزد کیا گیاوزیر اعظم آفس سے منظوری ملنے کے بعد درج کی گئی تھی۔ اس ایف آئی آر کی وجہ سے پاکستان کے کشمیر کاز کو اس سے بھی زیادہ نقصان پہنچا ہے جو گذشتہ برس 5 اگست کو مودی کے کشمیر پر غاصبانہ قبضہ کو آئینی اور انتظامی حیثیت دینے سے پہنچا تھا۔ انصاف لائیرز فورم والی تقریر میں عمران خان نے اپوزیشن راہنماؤں کو بے روزگار سیاست دان کہا اور اپوزیشن اتحاد کو ڈاکوؤں کا اتحاد قرار دیا۔ عمران خان کی سوچ کے معیار کا اندازہ لگانے کے لئے ان کے چند جملے ہی کافی ہیں، مثلاً ان کا کہنا کہ سیاسی مخالفین عام قیدیوں والی جیل میں جائیں گے جہاں انہیں کوئی سہولت نہیں دی جائے گی یا پھر ان کا کہنا کہ لیگی کارکن پیسے لیں، قیمے والے نان کھائیں لیکن گھروں میں بیٹھیں، وغیرہ وغیرہ۔مسلم لیگی لیڈر طلال چوہدری والے واقعہ کا مذاق جس انداز میں عمران خان نے اڑایا وہ بھی وزیر اعظم کے منصب کے شایان شان نہیں تھا۔ ایک وزیر اعظم کی سوچ اس لیول سے کافی اوپر ہونی چاہئے۔ لوگوں کو یاد ہے کہ گذشتہ برس جولائی میں امریکہ میں خطاب کے دوران کشمیر پر فوکس کرنے کی بجائے عمران خان کہتے رہے کہ وہ میاں نواز شریف کے جیل سیل سے ائر کنڈیشنر اتروائیں گے۔ وزیر اعظم عمران خان نے اپنے آپ کو ”جمہوریت“ قرار دیتے ہوئے اس کی وجہ یہ بتائی کہ وہ الیکشن جیت کر آئے ہیں لیکن ساتھ ہی انہوں نے چار چار اور پانچ پانچ دفعہ الیکشن جیت کر آنے والی پارٹیوں پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کو ڈاکو قرار دیا۔ اس تقریر میں عمران خان نے میاں نواز شریف پر ایک دفعہ پھر بھارتی مفادات کے لئے اپنے الزام کو دہرایا جس سے یہ بات ثابت ہوگئی کہ نواز شریف کے خلاف غداری کا مقدمہ عمران خان کی منظوری کے بغیر نہیں بنایا گیا۔

کرکٹ میں دلچسپی رکھنے کی وجہ سے میں عمران خان کو نصف صدی سے دیکھ رہا ہوں جب 1971 میں انہوں نے پاکستان کی طرف سے پہلا میچ کھیلا تھا۔ ان 50 سالوں میں وہ ہمیشہ نرگسیت کا شکار نظر آئے۔ ورلڈ کپ والی تقریر ان کی اس ذہنی کیفیت کا ثبوت تھی جس میں وہ  ٹیم کی بجائے صرف اپنی تعریف کرتے رہے، حالانکہ سب جانتے ہیں کہ ورلڈ کپ جیتنا معجزہ تھا جس میں سب سے زیادہ رول وسیم اکرم، جاوید میاں داد، انضمام الحق، مشتا ق احمد، رمیز راجہ، عامر سہیل، عاقب جاویداور معین خان وغیرہ نے ادا کیا تھا۔ کرکٹ ایک ٹیم گیم ہے اس لئے کریڈٹ بھی پوری ٹیم کی مشترکہ جدوجہد کا بنتا تھا لیکن عمران خان کی تقریر ”میں، میں“ پر مشتمل تھی جس میں سارا کریڈٹ انہوں نے اپنے آپ کو دیا۔ کبھی کبھار لگتا ہے کہ عمران خان میں فرانس کے مطلق العنان بادشاہ لوئی 4 کی روح حلول کر گئی ہے جو کہا کرتا تھا: "L'etat, c'est moi" یعنی ”میں ریاست ہوں “ ("I am the State")۔ تقریباً روزانہ کی بنیاد پر عمران خان کہتے ہیں کہ فوج ان کے ساتھ ہے۔ بعض دفعہ تو گمان ہوتا ہے کہ وہ پانی کا گلاس بھی فوج سے پوچھ کر پیتے ہیں۔ اسی لئے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر ہی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کو فوج کی پوزیشن کلئیر کرنا پڑتی ہے اور کہنا پڑتا ہے کہ فوج ایک منتخب حکومت کی آئینی حدود میں رہتے ہوئے مدد کرتی ہے۔ کبھی وقت نکال کر عمران خان کو مطلق العنان حکمرانوں کے انجام کے بارے میں پڑھتے رہنا چاہئے۔ جمہوریت کسی ایک شخص کی وجہ سے نہیں بلکہ نظام کی وجہ سے مضبوط ہوتی ہے جس میں ریاست کے تینوں ستون ایگزیکٹو، مقننہ اور عدلیہ اپنا اپنا کام کرتے ہیں اور کوئی بھی ادارہ اپنی حدود سے تجاوز نہیں کرتا۔ جمہوریت میں اپوزیشن بھی حکومت جتنی مقتدر ہوتی ہے اور اس کے خلاف انتقامی کاروائیوں کی بجائے اسے ساتھ ملا کر چلنا ہوتا ہے۔ عمران خان اگر’میں“ کی بجائے ”ہم جمہوریت ہیں“کہنا اور سمجھنا شروع کر دیں تو ملک پیچھے جانے کی بجائے آگے کی طرف جانا شروع ہوجائے گا۔ 

مزید :

رائے -کالم -