سٹاف کی کمی،کرپٹ پٹواریوں کو بحال کرنا ریونیو افسران کی مجبوری بن گئی

سٹاف کی کمی،کرپٹ پٹواریوں کو بحال کرنا ریونیو افسران کی مجبوری بن گئی

  

 لاہور(عامر بٹ سے)صوبائی دارلحکومت کے محکمہ ریونیو کے افسران کی سب سے بڑی کمزروی ان کی مجبوری بن گئی، زائد بیع انتقالات سرکاری جائیدادوں پر قبضے، رشوت وصولی میں ملوث پٹواریوں کی معطلی اور بعد ازاں بحالی کی اصل وجہ بھی سامنے آگئی۔”روز نامہ پاکستان“ کو ملے والی معلومات کے مطابق صوبائی دارلحکومت کے محکمہ ریونیو کے انتظامی افسران نا چاہتے ہوئے بھی کرپٹ ریونیو سٹاف کساتھ کام کرنے پر مجبور ہیں۔ گزشتہ بیس سال کے عرصہ سے کام کرنے والے پٹواریوں کو زائد بیع انتقالات، ریکارڈ میں ردو بدل، رشوت وصولی، اختیارات کا ناجائز استعمال، ریکارڈ میں ٹیمپرینگ، سرکاری اراضی پر قبضے کروانے، فردیں جاری کرنے، جان بوجھ کر ریکارڈ کو متنازعہ بناکر پٹوار خانے سے ریکارڈ  غائب کروانے  اور دیگر سنگین الزامات میں ملوث پائے جانے پر معطل اور متعدد کو بلیک لسٹ کیا گیا مگر بعد ازاں سزا دینے والے افسر کی تبدیلی یا سیاسی شخصیت کی سفارش پر اسی پٹواری کو چند دنوں بعد ہی بحال کرتے ہوئے کسی دوسرے پٹوار سرکل میں تعینات کردیا گیا۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ محکمہ ریونیو کے افسران کی یہ کمزروی اس وجہ سے ہے کہ ان پٹواریوں کے متبادل سٹاف نہ ہونے کی وجہ سے انہی پٹواریوں پر انحصار کرنا پڑ رہا ہے۔اس حوالے محکمہ مال کے اعلی آفسر کا کہنا تھا کہ پٹوار کورس پاس کیے جانے والوں کی بھرتی لازم ہونی چاہیے جس سے محکمہ مال کے انتظامی افسران کے پاس جب متبادل سٹاف کی سہولت میسر ہو گی تو وہ کرپٹ اہلکاروں سے ہمیشہ کیلئے جان چھڑا لیں گے۔ 

مزید :

میٹروپولیٹن 1 -