اعدادوشمار میں گراں فروشی کوشامل نہیں کیا جاتا‘ میاں عثمان

 اعدادوشمار میں گراں فروشی کوشامل نہیں کیا جاتا‘ میاں عثمان

  

لاہور(این این آئی)پرائس کنٹرول کمیٹی کے سابق چیئرمین میاں عثمان نے کہا ہے کہ ملک میں رواں سال مہنگائی کی شرح کا11.24 فیصد کی سطح پر پہنچنا تشویش کاباعث ہے،مذکورہ اشاریوں میں گراں فروشی کو شامل نہیں کیا گیا جس سے ایک محتاط انداز کے مطابق مہنگائی کی شرح 13فیصد کی سطح پر ہے،حکومت گراں فروشی پر قابو پانے کیلئے صارفین کی کونسلیں تشکیل دے۔ ان خیالات کااظہارانہوں نے اپنی رہائشگاہ پر صارفین کی نمائندہ تنظیم کے وفدسے گفتگوکرتے ہوئے کیا۔ میاں عثمان نے کہاکہ گزشتہ ہفتے میں 24اشیائے ضروریہ کی قیمتوں میں اضافہ دیکھاگیاجبکہ صرف 4کی قیمتوں میں کمی ریکارڈکی گئی۔ حکومت مہنگائی کی شرح میں کمی کیلئے پیٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں مناسب کمی کرکے انہیں کم ازکم دوسال کیلئے منجمدکرے جس سے عوا م کوریلیف میسر آ سکتاہے۔ سرکاری نرخنامے پر عملدرآمد کیلئے تھوک مارکیٹوں کی بھی مانیٹرنگ کی جائے اورطلب کے مطابق رسدکویقینی بنانے کیلئے روزانہ کی بنیاد پر جائزہ لیا جائے۔ میاں عثمان نے کہا کہ اگرحکومت گراں فروشی پر سرکاری طو رپر قابونہیں پا سکتی تو اس کیلئے صارفین کی کونسلیں تشکیل دی جائیں اور انہیں شکایات کے ازالے کے اختیارات سونپے جائیں انہوں نے اس حوالے سے مزید کہا کہ ملک میں اس وقت مہنگائی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے اور حکومت اس کو روکنے میں ناکام نظر آرہی ہے یہ بہت تشویش ناک بات ہے اور یہ سلسلہ اسی طرح سے چلتا رہا تو مستقبل میں غریب لوگوں کے لئے جینا حقیقت میں ہی بہت زیادہ مشکل ہوجائے گا اس حوالے سے مثبت اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔

مزید :

کامرس -