پابندی کے باوجود ٹک ٹاک صارفین نے وی پی این کاسہارا لے لیا 

پابندی کے باوجود ٹک ٹاک صارفین نے وی پی این کاسہارا لے لیا 

  

  نور پور نورنگا(نمائندہ پاکستان) ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک پاکستان میں بلاک کر دی گئی لیکن کئی ٹک ٹاک صارفین ایپلی کیشن کو استعمال کرنے کے لیے(بقیہ نمبر56صفحہ7پر)

 وی پی این کا سہارا لے رہے ہیں جو کہ صارفین کے لیے نہایت خطرناک ثابت ہو سکتا ہے۔ ان خیالات کا اظہار سائبر سکیورٹی آف پاکستان کے چیف ٹیکنالوجی آفیسر محمد اسد الرحمن نے وی پی این کے نقصانات بتاتے ہوئے کیا۔ انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ ویڈیو شیئرنگ ایپلی کیشن ٹک ٹاک کو غیر اخلاقی و غیر مہذب مواد کے خلاف معاشرے کے مختلف طبقات کی شکایات کے پیش نظر پی ٹی اے نے ٹک ٹاک کو بلاک کرنے کی ہدایات جاری کی تھیں لیکن کئی ٹک ٹاک صارفین ایپلی کیشن کو استعمال کرنے کے لیے وی پی این استعمال کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ وی پی این کے استعمال سے بیک ڈور کے ذریعے نا صرف ڈیٹا چوری ہونے کے خدشات بڑھ جاتے ہیں بلکہ صارفین کی ذاتی معلومات بھی محفوظ نہیں رہتی۔فری وی پی این مہیا کرنے والی کمپنیاں عام طور پر صارفین کی ذاتی معلومات حاصل کر کے مختلف اداروں و کمپنیوں کو فروخت کر دیتی ہیں۔ واضح رہے کہ یہ کمپنیاں صارفین کی اس معلومات کو ذاتی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہیں جو کہ صارفین کے لیے پریشانی کی باعث بن سکتا ہے۔

مزید :

ملتان صفحہ آخر -