سندھ میں گندم کے مصنوعی بحران کے پیچھے پیپلز پارٹی ملوث ہے:خرم شیر زمان

سندھ میں گندم کے مصنوعی بحران کے پیچھے پیپلز پارٹی ملوث ہے:خرم شیر زمان

  

 کراچی(سٹاف رپورٹر)صدر پی ٹی آئی کراچی و رکن سندھ اسمبلی خرم شیر زمان نے انصاف ہاوس میں  پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ایک ہفتہ قبل بھی کچھ مسائل اجاگر کیے گئے تھے۔ پیپلز پارٹی اپنی نالائقی کے باعث حالات خراب کر رہی ہے۔ صوبے میں گندم کی قلت پیدا کی گئی ہے۔ گندم گوداموں میں چھپائی گئی اور موجودہ بحران کاالزام وفاق پر عائد کیا جارہا ہے۔ پنجاب اور کے پی کے میں بھی سازش کی جارہی ہے۔ تمام سازش کے پیچھے آصف زرداری ہے۔ زراعت اور پرائس کنٹرول بھی صوبے کی زمہ داری ہے۔وفاقی حکومت نے اپنی ذمہ داری 1.5 میٹرک ٹن گندم کی قلت کو برآمد کر کے کمی پوری کی۔ انہوں نے مزید کہا کہ پنجاب میں آج آٹا 42 سے 45 اور کے پی کے میں 66 سے 70 میں فروخت ہورہا ہے۔ کے پی کے اور پنجاب کے وزرا اعلی کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے گندم کے ریٹ کنٹرول رکھے اور عوام کو سہولت دی۔ پنجاب اور سندھ میں ایک کلو گندم پر 20 روپے کا فرق آرہا ہے۔ ساڑھے بارہ لاکھ ٹن گندم سرکاری گوداموں میں موجود ہیں۔ نیب میں ایک کیس لاکھوں بوریاں گندم غائب کرنے کا بھی ہے۔ مصنوعی قلت پیدا کر کے عوام میں نفرت پیدا کی جارہی ہے۔ سندھ اسمبلی میں بھی مذمتی قرار داد جمع کرائی تھی کہ ساڑھے بارہ لاکھ گندم نکالی جائے۔ اس مصنوعی بحران کے پیچھے جو مافیا ہے اسے سب جانتے ہیں۔ خرم شیر زمان نے مزید کہا کہ پاکستان تحریک انصاف نے اپوزیشن کو کراراہ جواب دینے کے لئے حکمت عملی تیار کرلی صوبہ سندھ میں چار بڑے عوامی جلسے کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔  پہلا جلسہ سکھر دوسرا لاڑکانہ تیسرا حیدراباد اور چوتھا 25 دسمبر کو کراچی میں ہوگا۔ جلسوں کو کامیاب کرانے کے لئے ضلعی سطح پر کمٹیاں تشکیل دے دی گئیں۔ پی ٹی آئی کی جانب سے دیگر  3 مقامات پر ہونے والے جلسوں کی تاریخوں کا اعلان  بھی جلد کیا جائیگا۔ انہوں نے کہا کہ صوبہ سندھ پی ٹی آئی کا ہے۔ پیپلز پارٹی کی کرپشن اب نا صرف ملک بلکہ دنیا بھر میں مشہور ہوگئی ہے, سندھ کی باشعور عوام جانتی ہے کہ پی ٹی آئی ہی حق و سچ کی علمبردار ہے۔ خرم شیر زمان نے مولانا ڈاکٹر عادل خان کی شہادت پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ روز بڑے عالم دین کو شہید کر دیا گیا۔ شہید عالم دین مولانا عادل خان کی بیشمار خدمات تھیں۔ شہر میں سوچی سمجھی سازش کے تحت فرقہ واریت پھیلانے کی کوشش کی جارہی ہے۔

مزید :

صفحہ آخر -