عاصم سلیم باجوہ معاون خصوصی کے عہدے سے دستبردار، سینئر صحافی اقرار الحسن بھی بول پڑے ، سوالات اٹھا دیئے 

عاصم سلیم باجوہ معاون خصوصی کے عہدے سے دستبردار، سینئر صحافی اقرار الحسن بھی ...
عاصم سلیم باجوہ معاون خصوصی کے عہدے سے دستبردار، سینئر صحافی اقرار الحسن بھی بول پڑے ، سوالات اٹھا دیئے 

  

اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن )وزیراعظم عمران خان نے معاون خصوصی برائے اطلاعات کے عہدے سے سابق ڈی جی آئی ایس پی آر لیفٹیننٹ جنرل عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ قبول کر لیاہے جس کا اعلان خود چیئرمین سی پی اتھارٹی نے ٹویٹر پر جاری پیغام کے ذریعے کیا تاہم اب اس پر مختلف رد عمل سامنے آ رہے ہیں اور سینئر صحافی اقرار الحسن بھی میدان میں اتر آئیں ہیں ۔

تفصیلات کے مطابق سینئر صحافی اقرار الحسن نے اس معاملے پر رد عمل جاری کرتے ہوئے کہا کہ ”وزیرِ اعظم نے معاونِ خصوصی جناب عاصم سلیم باجوہ کا استعفیٰ قبول کر لیا۔ سوال یہ ہے کہ کچھ دن پہلے جب انہوں نے استعفیٰ دیا تھا تو تب قبول کیوں نہیں کیا گیا، اب کچھ ہی عرصے بعد ایسا کیا ہوا کہ استعفیٰ قبول کر لیا گیا؟ وزیرِ اعظم آفس اور عاصم سلیم باجوہ، دونوں کو وضاحت کرنی چاہیے۔“

اقرار الحسن کے اظہار خیال پر ایک ٹویٹر صارف بشیر احمد نے تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ” مرضی ہے ان کی بھائی ۔“

سینئر صحافی نے صارف کے ٹویٹ کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”مرضی ان کی نہیں مرضی ہم عوام کی ہے بھائی جو اس ملک کو اپنے ٹیکس کے پیسوں سے چلاتے ہیں۔“

آتی نامی صارف نے ٹویٹر پر اقرار الحسن کو جواب دیتے ہوئے کہا کہ ” کیوں وضاحت کریں؟؟ آپ کے ابو جان کے نوکر لگے ہوئے ہیں جو آپ کو وضاحتیں دیں؟؟۔“

سینئر صحافی نے ٹویٹر صارف کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ”جی، میرے بھی، میرے ابو جان کے بھی اور میری اولاد کے بھی نوکر ہیں۔۔۔ ان کی تنخواہیں اور مراعات آپ کے اور میرے ٹیکس کے پیسوں سے جاتی ہیں میری زندگی۔۔۔ تہذیب سے سوال کرنا ہمارا حق ہے اور جواب دینا ان کا فرض۔ وہ الگ بات کہ اس ملک میں اپنے فرض کی ادائیگی کا رواج نہیں۔“

خاتون ٹویٹر صارف آمنہ نے سینئر صحافی کے سوالات پر تبصرہ کرتے ہوئے لکھا کہ ”کچھ کریں تب مسئلہ۔۔۔ کچھ نہ کریں تب مسئلہ۔۔!! یار شاہ جی جانے دیا کریں۔۔۔ اب تو لاک ڈاو¿ن ختم ہو گیا ہے پھر ایسا منفی زاویہ کیوں؟۔“

اقرار الحسن نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”بہن سوال کرنے کو منفی رویہ کیوں سمجھتے ہیں ہم ؟ جب وزیر اعظم نے کہا کہ میں ہر طرح سے مطمئن ہوں اس لئے استعفی قبول نہیں کر لیا تو کیا اب استعفی قبول کرنے کو کیا سمجھا جائے؟ یہ آپ کو اور میرا پیسا ہے جس پر یہ عہدے اور ششکے قائم ہیں۔ آپ اور ہم نہیں پوچھیں گے تو کون پوچھے گا؟۔“

مزید :

قومی -