رحمتہ للعالمینؐ اتھارٹی کا قیام

  رحمتہ للعالمینؐ اتھارٹی کا قیام

  

وزیراعظم عمران خان نے اسلام آباد میں عشرۃ رحمتہ للعالمینؐ کی افتتاحی اور مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے سیرت النبیؐ اور ریاست مدینہ کے مختلف پہلوؤں پر تحقیق و رہنمائی کے لئے اپنی سربراہی میں رحمتہ للعالمینؐ اتھارٹی قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ربیع الاول کے مبارک مہینے کے آغاز پر وفاقی اور صوبائی حکومتیں مختلف تقاریب اور مجالس کا انعقادہ کر رہی ہیں، جن میں رسول اللہؐ کی ذات بابرکات کے مختلف پہلوؤں پر روشنی ڈالی جائے گی اور 12ربیع الاول تک پورا ملک منور رہے گا۔ ربیع الاول کے مہینے کو، جو رسول اللہؐ کی اس دنیا میں تشریف آوری کا مہینہ ہے، دنیا بھر میں جوش و جذبے سے منایا جاتا ہے۔ مسلمانانِ عالم اپنے مصائب اور مسائل پر غور کرتے اور سیرت نبویؐ کی روشنی میں ان کا حل تلاش کرنے کی کوشش کرتے نظر آتے ہیں۔ مسلمان معاشرے جس مغربی یلغار کا شکار ہیں اور انہیں جس طرح کے چیلنج درپیش ہیں، ظاہر ہے محض ان کے تذکرے سے ان سے عہدہ برآ نہیں ہوا جا سکتا۔ اس کے لئے جس عرق ریزی اور جانفشانی کی ضرورت ہے۔ اس طرف توجہ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔ وزیراعظم عمران خان کو یہ شرف حاصل ہے کہ وہ پاکستان کو مدینہ کی ریاست بنانے کا عزم کئے ہوئے ہیں۔ فلاح و ترقی کا وہی ماڈل ان کے پیش نظر ہے، جو پندرہ سو سال پہلے رسول اکرمؐ کی قیادت میں دنیا کے سامنے پیش کیا گیا تھا، جس نے اس عہد کی سپرپاورز کو حیران و ششدر کر دیا تھا اور ان کی پسپائی اور شکستگی کا وہ منظر دنیا نے دیکھا تھا جس کا تصور تک نہیں کیا جا سکتا تھا۔

وزیراعظم عمران خان بار بار یہ بات کہہ چکے ہیں اور اسے اپنے ایمان کا حصہ قرار دیتے ہیں کہ ہم پاکستان کو مدینے کی ریاست کے وضع کردہ اصولوں سے ہم آہنگ کرکے ہی اپنی مشکلات پر قابو پا سکتے ہیں۔ اخلاقی بحران سے نجات پا سکتے ہیں،لوٹ کھسوٹ اور افراتفری پر قابو پا سکتے ہیں اور پاکستان کو ایک بڑی طاقت بنا سکتے ہیں۔ ان کے زیر قیادت ماہِ ربیع الاول میں عشرہ رحمتہ للعالمین ؐ منانے کا اہتمام کرکے لوگوں کو اس حقیقت ہی کی یاد دہانی کرائی جا رہی ہے۔ اب انہوں نے اس کے لئے ایک اتھارٹی بھی قائم کر دی ہے، جس کے سرپرست اعلیٰ وہ خود ہوں گے، اس میں عالمی سیرت سکالرز کو شامل کیا جائے گا۔ یہ نہ صرف سکولوں کے نصاب بلکہ سوشل میڈیا پر نازیبا مواد کی بھی مانیٹرنگ کرے گی۔ یہ اتھارٹی دنیا کے سامنے اسلام کا حقیقی چہرہ پیش کرے گی، مغربی تہذیب کے اثرات اور اس کے نقصانات اور فوائد کا بھی جائزہ لیتی رہے گی۔ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ فحاشی کے اثرات خاندانی نظام پر پڑتے ہیں۔ہالی وڈ اور بالی وڈ کی وجہ سے پورا معاشرہ متاثر ہوا ہے۔ ہمارا خاندانی نظام کمزور پڑ رہا ہے، طلاق کی شرح میں اضافہ ہو رہا ہے۔ جنسی جرائم بڑھ رہے ہیں۔ بچوں کو دکھائے جانے والے کارٹونوں تک ہماری ثقافت سے مطابقت نہیں رکھتے۔ منشیات کی لعنت بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ ان برائیوں سے بچنے کا واحد راستہ حضور اکرمؐ کی تعلیمات پر عمل کرنا ہے۔

وزیراعظم کی مذکورہ بالا کسی بھی بات سے اختلاف ممکن نہیں۔ امراض کی نشاندہی بھی درست ہے اور ان کا علاج بھی وہی ہے جو وہ تجویز کر رہے ہیں۔ یقینا رسول اللہؐ کی تعلیمات پر عمل کرکے ہی ہم اپنی دنیا اور آخرت کو سنوار سکتے ہیں۔مسئلہ تب پیدا ہوتا ہے، جب عمل کا وقت آتا ہے۔ عملی اقدامات کس طرح اور کیسے ہوں کہ ہم اپنی اقدار کو فروغ دے سکیں اور مدینے کی ریاست کی طرف بڑھتے نظر آئیں۔ وزیراعظم نے جو اتھارٹی قائم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، اس کا خیر مقدم کیا جانا چاہیے۔ تعلیمی اداروں اور میڈیا کی نگرانی کرنے والا کوئی ادارہ اگر کوتاہیوں اور فروگزاشتوں کی نشاندہی کرے گا تو ان کا ازالہ بھی کیا جا سکے گا، لیکن بگاڑ جس حد تک بڑھ چکا ہے، بداخلاقی اور بداعمالی کے پرچارک جتنی بڑی تعداد میں موجود ہیں، نیم دلانہ اقدامات موثر اور نتیجہ خیز نہیں ہو سکیں گے۔ پاکستان میں اسلامی قوانین کی بھرمار ہے، واعظ اورخطیب بھی سینکڑوں کیا ہزاروں کی تعداد میں موجود ہیں۔ مسجدوں اور مدرسوں کا وسیع نیٹ ورک بھی اپنے وجود کا احساس دلاتا رہتا ہے، لیکن لاقانونیت، بدامنی، قانون شکنی کے رجحانات بڑھتے جا رہے ہیں۔ جنسی جرائم میں اضافے نے پورے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ اس کے لئے نظامِ عدل کی اصلاح کرنے اور انتظامیہ کو موثر بنانے کے لئے تیز تر اور مضبوط اقدامات کرنا ہوں گے۔ جس مغرب کا ہم رونا روتے رہتے ہیں، اس کی سماجی اقدار سے پناہ مانگتے ہیں، وہاں قانون کی حاکمیت کا جو تصور راسخ ہے اور اس پر جس طرح عملدرآمد ہو رہا ہے، اس کی طرف دیکھنے کی ہمیں نہ فرصت ہے، نہ ضرورت محسوس ہوتی ہے۔ وزیراعظم براہِ کرم اس پر غور کریں کہ انتظامیہ کو کس طرح توانا کیا جا سکتا ہے۔ قوتِ نافذہ اگر کمزور ہو گی تو وعظ و نصیحت سے کوئی نتیجہ نکلے گا، نہ قانون پر قانون اور ادارے پر ادارہ بناتے چلے جانے سے۔ الفاظ جتنے بھی خوبصورت ہوں، اگر ان پر عمل نہ کیا جا سکے تو یہ کسی کام نہیں آتے، آج تک دنیا میں کوئی تبدیلی الفاظ کی قوالی سے آئی ہے، نہ آ سکے گی۔

مزید :

رائے -اداریہ -