ہمارا نظام تعلیم

ہمارا نظام تعلیم
ہمارا نظام تعلیم

  

تحریر: اویس چغتائی 

تعلیم کا بنیادی مقصد غوروفکر,حقائق کی جانچ پڑتال اور انسانی رویوں میں مثبت تبدیلی پیدا کرنا ہے مگر جب ہم اپنے نظام تعلیم کو اس پیمانے پر پرکھتے ہیں تو سوائے افسوس کے کچھ ہاتھ نہیں آتا۔ہمارے موجودہ نظام تعلیم کا واحد مقصد ڈگری اور بعد ازاں نوکری کا حصول ہے۔امتحانی نظام تعلیم جو برصغیر میں انگریزوں کے وقت رائج تھا,آج بھی وہی چل رہا ہے۔یہ نظام طلباء کی ذہانت پرکھنے اور ان کی صلاحتیں اجاگر کرنے کی بجائے انھیں رٹو طوطے بننے پہ مجبور کرتا ہے۔

اس نظام تعلیم کا واحد مقصد ڈگری یعنی کاغذ کے بے جان ٹکڑے بیچنا ہے۔طلباء کی آدھی عمر ان کاغذ کے ٹکڑوں کو کمانے میں گزر جاتی ہے اور آدھی ان کی نقلیں کرانے کے بعد دفتروں کی خاک چھاننے میں بیت جاتی ہے۔اس تعلیمی نظام سے فارغ التحصیل بچے جب عملی زندگی میں قدم رکھتے ہوں تو سوائے ٹھوکروں کے کچھ حاصل نہیں ہوتا۔ہمارا تعلیمی نصاب اور رواج تدریسی طریقےعصر حاضر سے میل ہی نہیں کھاتے۔ٹیکنالوجی کے دور میں بھی ہم ابھی تک رٹے اور کاپی پیسٹ میں الجھے ہوئے ہیں۔

انسان اپنی فطرت میں متجسس واقع ہوا ہے۔ اپنے اردگرد کی چیزوں اور اپنے ماحول کے بارے میں جاننے اور سیکھنے کا شوق ہی اسے تعلیم کی طرف لاتا ہے مگر تحقیق اور غوروفکر تو ہمارے نظام تعلیم میں سرے سے مفقود ہے۔سائنسی علوم بچوں کو جماعت اول سے پڑھائے تو جاتے ہیں مگر سمجھائے نہیں جاتے۔بچوں کو سائنسی علوم پڑھانے کا ایک ہی مقصد سمجھایا جاتا ہے اور وہ ہے ڈاکٹر اور انجنیئر بننا۔ اس کے نتیجے میں طلباء کی اکثریت 1100 میں سے 1060 نمبرات لے کر بھی ڈپریشن کا شکار رہتی ہے۔

طلباء جو ہمارا مستقبل ہیں ان میں کوئی بھی اخلاقی یا تعمیری سوچ پروان چڑھنے کی بجائے پوزیشنز کا جنون سر چڑھ کر بولتا ہے۔تعلیمی اداروں کے سروے میں بچوں سے پوچھا جانے والا سوال "آپ کیا بنیں گے" کے جواب میں ڈاکٹر اور انجنیئر کے علاوہ کچھ سنائی نہیں دیتا۔جب یہی بچے پچانوے فیصد میرٹ کی وجہ سے اس منزل تک نہیں پہنچ پاتے تو ان کی دوسری منزل ڈپریشن ہی ہوتی ہے۔تعلیم ہمیں ایک بہتر اور سلجھا ہوا انسان بننے کی طرف راغب کرتی ہے مگر جب طالبعلموں کی زندگی کا واحد مقصد نمبروں  کی دوڑ ہوگی تو بھاری بھرکم کتابیں اور تعلیم بھی اس کو بہتر نہیں بناسکتی۔

ہمارے تعلیمی ادارے جو ادارے کم اور تجارتی مراکز زیادہ بنتے جارہے ہیں۔اپنے نام اور اپنے ادارے کی پہچان کے لیے طلباء کو نمبرز کی دوڑ میں لگا دیتے ہیں۔گھر گھر,گلی گلی بینرز چپکانے سے لے کر والدین اور طلباء کی منتیں کرتے ہوئے انھیں اپنے ادارے میں لانے اور پھر انھیں نمبر مشینز بنانے تک ان اداروں کے سربراہان کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کرتے۔آسان لفظوں میں جو تعلیم ہمارے اداروں میں دی جارہی ہے وہ نہ تو ہماری سوچ کو بدل رہی ہے اور نہ ہی سائنسی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنے کے لیے کوئی کردار ادا کررہی ہے۔

اسی نظام تعلیم کی ایک اور خامی الگ الگ تدریسی نصاب بھی ہے۔دوسرے لفظوں میں اسے طبقاتی نظام تعلیم بھی کہا جاسکتا ہے جس نے امراء و روساء کے بچوں کے لیے خصوصی طور پہ انگلش میڈیم سکولز متعارف کرائے۔ انگلش میڈیم, اردو میڈیم کا یہ تصور ہمارے معاشرے کے لیے زہر قاتل ثابت ہورہا ہے۔ ملک کی قومی زبان اگرچہ اردو ہے مگر رائج الوقت زبان انگریزی ہی ہے۔اردو میڈیم سکولز میں زیر تعلیم ذہین و فطین طلباء بھی انگریزی میں خاطر خواہ مہارت نہ رکھنے کی وجہ سے مقابلے کی دوڑ میں پیچھے رہ جاتے ہیں۔یکساں تعلیمی نصاب رائج کرنے کے حوالے سے بے شمار دعوے اور وعدے کیے جاتے ہیں۔پالیسیاں بھی بنائی جاتی ہیں مگر انھیں نافذ العمل کرنے میں نجانے کون سی رکاوٹ حائل ہے۔

ایک طرف اداروں کا معیار تعلیم اور دوسری طرف ان کے بھاری بھرکم اخراجات غریب کی پہنچ سے باہر ہیں۔دو وقت کی روٹی کو ترستا غریب شہر کہاں ہزاروں اور لاکھوں کی فیس بھرنے کی طاقت رکھتا ہے۔نظام تعلیم کے ان غریب دشمن عوامل نے بھی طلباء کا جینا دوبھر کر رکھا ہے۔پیٹ کی آگ کو علم کی پیاس پہ ترجیح دینا ہمارے معاشرے میں عام ہے اور اس کا سبب ہمارا تعلیمی نظام ہے۔طالبعلموں کی مالی مدد کے لیے جمع کیے جانے والے فنڈز سے بھی اداروں کے سربراہان کی تجوریاں بھری جاتی ہیں۔ملک کے بیشتر تعلیمی ادارے کرپشن کا گڑھ بن چکے ہیں۔ایسے اساتذہ جو خود مالی بددیانتی اور کرپشن جیسے گھناؤنے فعل کے مرتکب ہوں,وہ طالبعلموں کی اخلاقی تربیت کیسے کرسکیں گے

اساتذہ جن کو روحانی والدین کا درجہ حاصل ہے۔ان کا تضحیک بھرا انداز,طلباء کو طلباء کی بجائے اپنا زرخرید ملازم سمجھنے کی روایات بھی اسی نظام تعلیم کی دین ہیں۔ انھیں آئے روز اساتذہ کی طرف سے طالبات کو جنسی ہراسانی کا سامنے کرنے کی خبریں اخبارات کی زینت بنتی ہیں۔ اساتذہ کا جانبدارانہ رویہ,ذاتی عناد اور بغض کی وجہ سے طلباء کو پریشان کرتے رہنا, کارگردگی اچھی ہونے کے باوجود انھیں امتحانات میں فیل کردینا بھی سرفہرست ہے۔اساتذہ کے ایسے رویے سے تںگ آکر بہت سے طلباء تعلیم سے ہی کنارہ کشی کر لیتے ہیں.

مختصر یہ کہ ہمارا موجودہ تعلیمی نظام ہمیں ایک بہتر انسان اور معاشرے کا ایک کارآمد شخص بنانے کی استطاعت نہیں رکھتا۔اس نظام کو حالات کے ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

۔

 نوٹ:یہ بلاگر کا ذاتی نقطہ نظر ہے جس سے ادارے کا متفق ہونا ضروری نہیں۔

 ۔

 اگرآپ بھی ڈیلی پاکستان کیساتھ بلاگ لکھنا چاہتے ہیں تو اپنی تحاریر ای میل ایڈریس ’zubair@dailypakistan.com.pk‘ یا واٹس ایپ "03009194327" پر بھیج دیں.   ‎

مزید :

بلاگ -