غریب کی روٹی, بے بسی اور سسکیاں ……

   غریب کی روٹی, بے بسی اور سسکیاں ……
   غریب کی روٹی, بے بسی اور سسکیاں ……

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

 ملک بھر میں گذشتہ چند سالوں سے مہنگائی کے طوفان نے ہر طبقہ زندگی کو متاثر کیا ہے۔امیر لوگوں کو اس مہنگائی سے زیادہ فرق نہیں پڑتا کیونکہ فیکٹری مالکان مہنگائی کے تناسب سے قیمتوں میں اضافہ کر دیتے ہیں اور اس کے بعد جب وہ پراڈکٹ مارکیٹ میں پہنچتی ہے تو باقی کی کمی دکاندار پوری کر دیتا ہے جس کا اثر سفید پوش اور غریب آدمی دونوں پر پڑتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ سفید پوش غریب اور غریب،غریب تر ہوتا جا رہا ہے۔مہنگائی کے اس طوفان نے مزدور اور نادار طبقے کو بھی نہیں چھوڑا جو سارا دن محنت کرتے ہیں لیکن صحیح طرح سے روٹی بھی نہیں کھا سکتے اگرچہ دھوپ میں سخت محنت کے ساتھ ساتھ کم از کم مناسب کھانا ایک مزدور کا حق ہے لیکن عمران خان کے دور حکومت میں آنے والا مہنگائی کا طوفان آج تک نہیں سنبھل سکا اور ہم نے دیکھا کہ فیکٹریوں میں کام کرنے والے کارکنان اور مزدور طبقہ دوپہر کی روٹی سے بھی دور ہو چکے ہیں اور وہ اپنی بھوک مٹانے کے لئے دوپہر کے کھانے کی بجائے صرف چائے بسکٹ کھا کر گذارہ کر رہے ہیں۔اپنے قارئین کرام کی معلومات میں اضافے کے لئے بتاتا چلوں کہ بسکٹ کی دو بڑی کمپنیوں نے گذشتہ مہینے اپنی سالگرہ کا جشن منایا اور جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ جشن کس وجہ سے کیا گیا تو جواب دیا کہ پچھلے چار مہینوں میں پاکستان میں اتنا بسکٹ کبھی سیل نہیں ہوا جتنا اب ہوا ہے۔تاہم حقیقت کو جانچنے کے لئے جب سروے منعقد کیا گیا تو دکانداروں اور مزدوروں سے بات کی گئی تو تقریبا سب کا ایک ہی جواب ملا۔دکانداروں نے بتایا کہ دوپہر کے وقت اکثر مزدور کھانا نہیں کھاتے یا پھر جو ریڑھی لگاتے میکینک وغیرہ یہ لوگ دوپہر کے وقت کھانے کی بجائے شام میں ایک کپ چائے اور دس 10 روپے یا بیس روپے والا بسکٹ لے کر کھا لیتے ہیں اور اپنا پیٹ بھرلیتے ہیں۔سروے کرنے والی ٹیم نے جب مزدوروں اور ملازموں سے پوچھا کہ فیکٹریز ایریا میں تو سستے چنے کے پلاؤ، آلو کا پلاؤ اسطرح کے کھانے مل جاتے ہیں تو پھر نہ کھانے کی وجہ کیا ہے۔مزدوروں نے بتایا کہ صرف آلو کے پلاؤ کی پلیٹ بھی دو سو کی ملتی ہے اور پچاس روپے میں مزدور چائے بسکٹ سے پیٹ بھر لیتا ہے۔گویا وہ چائے بسکٹ سے اپنا پیٹ نہیں بھرتا بلکہ وقتی طور پر اسکا پیٹ کھانا نہیں مانگتا لیکن یہ چائے اور بسکٹ کا ساتھ دو گھنٹے سے زیادہ نہیں ہوتا لیکن وہ مزدور پیسے بچا کر اپنے گھر بیوی اور بچوں کی فکر کرتا ہے کیونکہ اگر وہ خود دو سو روپے اپنی ذات پر خرچ کر دے گا تو پھر مہینے کے بعد گھر کا خرچہ، بجلی کا بل، بچوں کی سکول فیس اور گھر کا کرایہ کہاں سے ادا کر سکے گا اگرچہ وہ مہینے بھر میں جتنا کماتا ہے اس سے خرچے پورے نہیں ہوتے کیونکہ وہاں سے اسکو اتنے پیسے نہیں ملتے کہ اسے پنجاب حکومت کی طرف سے کم از کم تنخواہ 32000 کے برابر ہی مل سکے۔ ویسے ابھی یہ اقدام بھی صرف پنجاب حکومت نے اٹھایا ہے جبکہ باقی صوبوں میں کم از کم اجرت 25000 ہی ہے جس سے ایک مزدور کے ماہانہ خرچے بھی پورے نہیں ہوتے۔ ہمارے حکمرانوں کو چاہئیے کہ وہ عوام کی فلاح وبہبود اور خوشحالی کے لئے بہتر اقدامات کریں تا کہ وہ لوگ بھی بہت اچھی نہیں تو کم از کم اچھی زندگی گذارنے کے قابل ہو سکیں اور وہ مزدوروں اور غریب طبقے کی بے بسی اور سسکیوں کی زد میں نہ آ سکیں۔۔ آمین۔۔

مزید :

رائے -کالم -