قدس سے شام تلک۔۔۔ ارض فلسطین سمیت۔۔۔ شاخ زیتون سے مضراب  ہنر چھلکے گا

قدس سے شام تلک۔۔۔ ارض فلسطین سمیت۔۔۔ شاخ زیتون سے مضراب  ہنر چھلکے گا
قدس سے شام تلک۔۔۔ ارض فلسطین سمیت۔۔۔ شاخ زیتون سے مضراب  ہنر چھلکے گا

  IOS Dailypakistan app Android Dailypakistan app

القدس... تیرے نام
..............
اے مرے سجدۂ اول کی درخشندہ زمیں
بندگی آج بھی چہرے پہ ترے ٹھہر ی ہے
برملا آج بھی اعلان کیا کرتی ہے 
ایسا قرطاس نہیں ہوں جو بدل دے تاریخ 
میں تو اول ہوں، کبھی دوم نہیں ہو سکتی
اپنی پہچان کسی طور نہیں کھو سکتی

کیسے اقصیٰ کی جلالت سے نظر باغی ہو
جس کو طیبہ کے شہنشاہ نے توقیر کیا
جس میں معراج کی حیرت ہے ابھی تک باقی
اقصٰیٰ گلیوں میں تہہ تیغ گلابوں کی قسم
اس میں وہ بوئے مسلسل ہے ابھی تک باقی 

غزہ وادی میں حراساں گل رنگ دار تجھے 
حمزہ، مریم کے نویلے لاشے
یوم رضوان کی سرحد پہ فروزاں کر کے
وقت برہان کو اک بار صدا پھر دیں گے

لمحہ موجود میں آواز اذاں قید سہی 
اذن  اللہ تو بہر طور سنائی دے گا
ایک صیہونی پرندے کی جنونی پرواز
روک سکتی ہے کہاں نیر اعظم کا جلال

قدس سے شام تلک
ارض فلسطین سمیت
شاخ زیتون سے مضراب  ہنر چھلکے گا
نغمہ گائے گی کسی دف پہ رسیلی مینا
یہ میرا ذوق یقیں ہے جو کبھی رکتا نہیں 
وقت صورت تو بدل سکتا ہے، ایمان نہیں 

کلام :فرخندہ شمیم