فاتح چین نے کمر سیدھی کرنے کا سبق دیدیا

فاتح چین نے کمر سیدھی کرنے کا سبق دیدیا
فاتح چین نے کمر سیدھی کرنے کا سبق دیدیا

  

تیان جن میں ورلڈ اکنامک فورم کی کانفرنس کا باقاعدہ آغاز کردیا گیا۔ افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی چین کے وزیراعظم وین جیا باﺅ تھے۔ وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف بھی اپنے وفد کے ہمراہ تقریب میں شریک ہوئے۔ وین جیاباﺅ چین کی اقتصادی حکمت عملی کے نقشہ ساز مانے جاتے ہیں۔ وہ گزشتہ آٹھ سالوں سے چین کے وزیراعظم ہیں اور کمیونسٹ پارٹی کی آٹھ رکنی پولٹ بیورو سٹینڈنگ کمیٹی، جسے ملک کا اصل حکمران سمجھا جاتا ہے، کے تیسرے سینئررکن ہیں۔ وین جیاباﺅ خود کہتے ہیں کہ لوگ انہیں کمپیوٹر کے لقب سے نوازتے ہیں کہ اعداد و شمار کے حوالے سے ان کی یادداشت غضب کی ہے۔ مغربی میڈیا وین جیاباﺅ کو ”عوامی رہنما“ کا خطاب دیتا ہے کہ زیادہ تر تجزیہ نگاروں کے نزدیک چین کے پسماندہ علاقوں کو دوسرے ترقی یافتہ صوبوں کے برابر لانے اور معاشی تفاوت ختم کرنے کے لئے گزشتہ کئی برسوں میں اٹھائے گئے پالیسی اقدامات کے اصل معمار وہی ہیں۔ یہاں تک کہ مشہور امریکی میگزین ”ٹائم“ نے حال ہی میں جب گزشتہ دہائی میں امریکی معیشت پراثرانداز ہونے والی 10 شخصیات کی فہرست مرتب کی تو وین جیاباﺅ واحد غیر امریکی تھے جو اس میں شامل تھے۔ 2008ءمیں چین کے صوبے سی چوآن میں آنے والے زلزلے کے چند ہی گھنٹے بعد وہ متاثرہ علاقوں تک پہنچ گئے جس نے لوگوں میں ان کی مقبولیت کو بڑھایا۔ اسی طرح چند روز قبل چین کے پسماندہ شمال مغربی علاقے میں آنے والے زلزلے میں بھی انہوں نے خود موقع پر جاکر امدادی کارروائیوں کی نگرانی کی۔ ورلڈ اکنامک فورم میں اپنی تقریر کے دوران بھی انہوں نے متعدد بار اس بات پر زور دیا کہ اب ان کی حکومت کا مقصد صرف ترقی نہیں بلکہ ایسی ترقی ہے جو معاشی و علاقائی تفاوت کو کم کرے۔ یہ طرز فکر اس بات کا بھی غماز ہے کہ چینی قیادت کی توجہ اب ترقی کے ثمرات سے محروم علاقوں و افراد تک پہنچانے پر مرکوز ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ ورلڈ اکنامک فورم سے جیاباﺅ کا خطاب ایک ایسے موقع پر ہوا ہے جب کہ نہ صرف دنیا بھر کی معیشت کساد بازاری میں مبتلا ہے بلکہ چین کی اپنی معیشت بھی سست روی کا شکار ہے۔ گزشتہ دو دہائیوں کے دوران، امسال سب سے کم شرح ترقی متوقع ہے۔ اگرچہ یہ شرح بھی جو 7.5 فیصد ہے، دنیاکے دیگر ترقی یافتہ ممالک سے کہیں زیادہ ہے۔ جیاباﺅ نے اپنے ایک گھنٹے پر محیط خطاب اور سوال و جواب کے سیشن میں عالمی اور چین کی معاشی صورت حال پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔ حاصل کلام یہ تھا کہ چین پوری دنیا کے لئے معاشی ترقی کا انجن بننا چاہتا ہے اور ساتھ ہی ساتھ اپنے عوام کی محرومیوں کا بھی ازالہ کرنا چاہتا ہے۔ یہ فاتحانہ احساس تقریر میں پنہاں تھا کہ ایک نئے عالمی معاشی روڈ میپ کے لئے دنیا اب امریکہ و یورپ کی بجائے چین کی طرف دیکھ رہی ہے۔ جاپان اور امریکہ کے ساتھ چین کئی محاذوں پر سرد جنگ میں مصروف ہے۔ آسیان کے ممالک کے ساتھ سرحدی جھگڑوں سے لے کر جاپان کے ساتھ ڈائیو جزیرے کے مسئلے تک، امریکہ کے کردار کو شک کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے، لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جاپان اور امریکہ کا سب سے بڑا تجارتی پارٹنر بھی چین ہے۔ معاشی اور سٹرٹیجک محاذوں کو الگ الگ رکھنے اور ان پر خاموشی سے پیش قدمی کرنے کے فن میں چین کی قیادت نے مہارت حاصل کرلی ہے۔ یہی نقش ورلڈ اکنامک فورم میں جیاباﺅ کی تقریر پر غالب تھا۔

واقفانِ حال کے مطابق وزیراعظم پاکستان راجہ پرویز اشرف بھی جیاباﺅ کی اپنائیت اور خلوص سے بڑے متاثر نظر آئے۔ ان کے اپنے الفاظ میں ”پاکستان کے لئے محبت جیاباﺅ کے الفاظ میں ہی نہیں بلکہ دل میں بھی نظر آتی تھی۔“ ملاقات میں شریک ایک پاکستانی سفارت کار تو سراپا ستائش تھے۔ ”کسی بات سے انکار نہیں تھا، ہر بات کا جواب اثبات میں تھا۔“ تاہم ایک ان کہی نصیحت بھی جیاباﺅ کے انداز گفتگو سے اخذ کی گئی۔ ”دنیا میں وہی قومیں کامیاب ہوتی ہیں جو اپنے اہداف پرنظر رکھتی ہیں، شور کم مچاتی ہیں اور کام زیادہ کرتی ہیں“ یہ سبق چینی قیادت عرصے سے ہمارے رہنماﺅں کو سکھانے میں مصروف ہے۔ دوسرے محاذوں کی طرح اس محاذ پر بھی وہ مستقل مزاج ہے، البتہ زیادہ پیش قدمی نظر نہیں آتی۔

مزید :

تجزیہ -