کیا کراچی کا امن واپس آ جائے گا؟

کیا کراچی کا امن واپس آ جائے گا؟

  

 پچھلے25،30سال سے اندرونی اور بیرونی سازشوں کے ذریعے کراچی کا امن ایک باقاعدہ منصوبہ بندی کے ذریعے خراب کیا جا رہا ہے اور ہر آنے والا دن سابقہ دن سے بدتر آ رہا ہے۔ حکومت جس کی بھی ہو، وہ صرف ڈنگ ٹپاﺅ پالیسی پر عمل پیرا ہے۔ انتظامیہ جس کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ امن وامان قائم رکھے، وہ بھی ڈنگ ٹپاﺅ حکمرانوں کے شانہ بشانہ چل رہی ہے ، شاید وہ بھی بھتہ مافیا اور ڈرگ مافیا سے مل کر بہتی گنگا میں ہاتھ دھو رہی ہے۔ کراچی جو کبھی پاکستان کا نمائندہ شہر ہوتا تھا اور ماضی میں پاکستان کی پہچان رہا ہے، آج یہ روشنیوں کا شہر خوف اور ہولناکی کی مثال بن کر رہ گیا ہے، کیونکہ کراچی میں اب دہشت گردوں اور جرائم پیشہ افراد کی اجارہ داری ہے، جبکہ عملاً حکومت بھی اسی مافیا گروپ ہی کی ہے۔ بھتہ خوری عام ہے، ٹارگٹ کلرز دندناتے پھر رہے ہیں، 10،15لاشیں گرنا روزانہ کا معمول ہے۔ وفاقی حکومت اور سندھ حکومت نے شہریوں کو کس کے ر حم و کرم پر چھوڑ رکھا ہے؟پی پی پی کے سابقہ پانچ سالہ اور موجودہ حکومت کے تین ماہ کے دور میں قتل و غارت اور بھتہ خوری دن دگنی اور رات چگنی ترقی کر رہی ہے۔

کراچی جو ملک کی شہ رگ ہے، اگر حالات جلد کنٹرول نہ کئے گئے، تو لگ رہا ہے کہ یہ شہ رگ جلد کٹ جائے گی، خدا نہ کرے اگر ایسا ہوا تو جسم ختم ہو جاتا ہے۔ سنا ہے کہ کراچی کے تاجروں نے سندھ حکومت کی گمشدگی کے اشتہارات چھپوا دیئے ہیں اور بہت سے تاجر کراچی سے دوسرے شہروں اور ملکوں میں ہجرت کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ کراچی میں اس وقت ایک اندازے کے مطابق دو کروڑ سے زائد لوگ آباد ہیں، جن میں سے30،40لاکھ غیر ملکی ہیں، جن کے بارے میں عام لوگوں کو تو کیا حکومتی ادارے نادرا، یعنی (NADRA) کو بھی علم نہں کہ یہ غیر ملکی کون ہیں، کہاں سے آئے ہیں اور ان غیر ملکیوں کو یہاں کون سنبھالے ہوئے ہے۔ عام شہری اپنے آپ کو گھروں، دفتروں اور سڑکوں پر غیر محفوظ ہی نہیں، بے یارو مددگار بھی محسوس کر رہے ہیں۔ کراچی میں بسنے والے ہر خاندان کا کوئی نہ کوئی فرد کراچی کی سڑکوں پر اگر بندوق سے نہیں، تو بم دھماکے میں ضرور مارا گیا اور شاید ہی کوئی بزنس مین ایسا ہو گا، جو مستقل بنیادوں پر بھتہ نہ دیتا ہو اور قانون نافذ کرنے والے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

اب الطاف حسین کے علاوہ تاجر برادری نے بھی شہر کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کیا ہے، کیونکہ عام لوگوں کو تو امن وامان درکار ہے، انہیں تو اپنے جان و مال کی حفاظت سے غرض ہے، اُن کے لئے یہ کام کوئی بھی ادارہ کر دے ، وہ اسے خوش آمدید کہیں گے۔ مسلم لیگ (ن) کی حکومت کراچی کا امن واپس لانے میں سنجیدہ معلوم ہوتی ہے، اللہ کرے کہ وہ ایسا کرنے میں کامیاب ہو جائے، لیکن حالات کی سنگینی سے لگتا ہے کہ کام بہت مشکل ہے، کیونکہ کراچی کی لوکل لیڈر شپ، جو پچھلے 25سال سے اس شہر کی نمائندہ جماعت ہے، وہ اس کام میں شاید سنجیدہ نہیں۔ اب تو تاجر برادری نے بھی وزیراعظم محمد نواز شریف کو واضح پیغام دے دیا ہے کہ سارے سیاسی گروپوں نے شہر میں دہشت گرد پال رکھے ہیں، جو شہر کے زیادہ سے زیادہ حصے پر قبضہ جمائے رکھنا چاہتے ہیں۔ پولیس اور رینجرز کو ناکام کرنے میں بھی انہی سیاسی پارٹیوں کا ہا تھ ہے، جو یہاں کی حکمران ہیں۔

 کچھ روز قبل کراچی میں مہاجر لبریشن آرمی کی باز گشت بھی سنی گئی۔ اگر یہ سچ ہے، تو وزیراعظم اور حکومت کے لئے لمحہ فکریہ ہونا چاہئے۔ دوسری اہم خبر کہ ماضی میں19ہزار نیٹو کنٹینرز جو اسلحہ سے بھرے ہوئے تھے وہ بھی کراچی ہی کی ایک سیاسی پارٹی کے وزیر نے کھولے اور اسلحہ کراچی میں تقسیم کیا۔ اگر یہ سچ ہے، تو وزیراعظم اس کی بھی تحقیق کروائیں۔ اگر یہ دونوں باتیں سچ ہیں تو پھر وزیراعظم اور مقتدر قوتوں کو سنجیدگی سے سوچنا چاہئے کہ کراچی کے امن کو کون تباہ کر رہا ہے، کسی قسم کا شک نہیں ہونا چاہئے، جس طرح موجودہ وزیراعظم کراچی کے حالات ٹھیک کرنے کے لئے پوری وفاقی کابینہ کے ساتھ کراچی تشریف لائے۔ ماضی میںپی پی پی حکومت پورے پانچ سال میں جب بھی کراچی میں زیادہ قتل و غارت ہوئی، اس وقت کے وزیر داخلہ، وزیراعظم اور سابق صدر آصف علی زرداری بذات خود کراچی تشریف لاتے رہے، لیکن کراچی میں امن قائم نہ ہو سکا، کیونکہ اس وقت کے پی پی پی حکومت کے اتحادی اس سارے کھیل تماشے کے حصہ دار تھے، جو شائد آج بھی ہیں۔

آج جو لوگ کراچی کو فوج کے حوالے کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ یہ کسی انٹرنیشنل سازش کا تو حصہ نہیں، کیونکہ فوج تو پچھلے10سال سے مغربی بارڈر پر طالبان سے نبرد آزما ہے، اگر مشرقی بارڈر پر بھی چھیڑ چھاڑ شروع ہوگئی، تو فوج کو کراچی کے گلی کوچوں میں دھکیل کر کچھ لوگ کیا حاصل کرنا چاہتے ہیں۔ دوسرا فوج کے ذریعے لایا گیا امن و امان دیرپا ثابت نہیں ہوتا۔ ماضی میں بھی فوج کو کراچی میں استعمال کیا گیا، تو کیا دیرپا امن ہو گیا تھا؟ بلوچستان میں کب سے فوج امن و امان قائم کرنے کی کوشش کر رہی ہے؟شہروں کے امن کے لئے اگر حکومت وقت چاہے تو پولیس ہی کافی ہے، لیکن اس کے لئے ضروری ہے کہ پولیس کو کنٹرول کرنے والی حکومت سیاست سے بالاتر ہو کر کام کرے۔ پولیس اگر بااختیار ہو اور وہ سیاسی اثرو رسوخ سے پاک صاف ہو تو کوئی وجہ نہیں کہ کسی شہر میں کوئی مجرم پَر مار سکے۔ جب پولیس ناکام ہوتی ہے تو اس کے پیچھے سیاسی لوگ ہوتے ہیں، جو پولیس سے بھی بھتہ لیتے ہیں یا اُن سے سیاسی لوگوں کے خلاف انتقامی کارروائی کرواتے ہیں۔

آخر میں موجودہ وزیراعظم کراچی میں سیاسی اور سماجی پارٹیوں سے ملاقات کر کے اُن سے تجاویز لے رہے ہیں کہ انہیں بھتہ مافیا سے کیسے نبرد آزما ہونا چاہئے۔ تاجر حضرات نے وزیراعظم کو کھل کر بتا دیا کہ شہر کا امن تباہ کرنے والوں میں وہ لوگ شامل ہیں، جو آپ کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہیں۔ جب میاں نواز شریف نے اپنے دائیں اور بائیں دیکھا، تو وزیراعلیٰ سندھ اور گورنر سندھ کو بیٹھے ہوئے پایا۔ ویسے بھی وزیراعظم صاحب! عوام نے آپ کو مینڈیٹ دیا ہے۔ آپ اب ملک کے سربراہ ہیں، حکومت آپ کی ہے، سارے ادارے آپ کے کنٹرول میں ہیں۔ آپ دو نمبر لوگوں کو بُلا کر اُن سے مشورہ لے رہے ہیں، جنہیں عوام کا اعتماد ہی حاصل نہیں۔ آپ ایجنسیوں سے بریفنگ لیں، قانون نافذ کرنے والے اعلیٰ افسروں کو آپ اسلام آباد بلوائیں، آپ کو کہیں جانے کی ضرورت نہیں، انہیں حکم دیں، انہیں وسائل مہیا کریں، انہیں مکمل اختیار دیں اور اُن سے رزلٹ لیں۔ ملک کا وزیراعظم کہاں کہاں جا سکتا ہے، آخر وزیراعلیٰ ،گورنر ،اتنے محکمے اور محکموں کے سربراہ کس لئے ہیں۔ اس طرح تو ایک گھر نہیں چلتا ،آپ ملک کیسے چلائیں گے؟

 جن لوگوں کو آپ بلوا کر مشورے کر رہے ہیں، شاید وہی لوگ اس شہر کے امن کے دشمن ہیں۔ کیا موجودہ دور میں کراچی کا امن بحال ہو سکے گا؟ ہاں بالکل ہو سکے گا۔ اگر حکومت وقت چاہے تو یہ کام بہت جلد ممکن ہو گا۔ فوری طور پر وزیراعظم کو وزیراعلیٰ اور گورنر سندھ کو ہٹانا ہو گا، کیونکہ وہ دونوں اس منصب پر عرصے سے تعینات ہیں اور اُن کے دور میں کراچی اس نہج کو پہنچا اور کسی اہل آدمی کو اس منصب پر لگانا ہو گا۔ پولیس کے اہل اور ایماندار افسروں کی تعیناتی عمل میں لانا ہو گی۔ سفارشی، راشی افسروں اور اہلکاروں کی فوری چھٹی کرائی جائے۔ پولیس افسروں کو سیاسی اثرو رسوخ سے بے نیاز کیا جائے، پورے شہر کو قانونی اور غیر قانونی اسلحہ سے بلاتفریق پاک کیا جائے۔ سارے غیر ملکیوں کو فوراً کراچی سے نکال کر اُن کے ملکوں کے حوالے کیا جائے۔ سزا اور جزا کا نظام بغیر کسی سیاسی تعصب اور دباﺅ کے قائم کیا جائے۔خشکی اور سمندری راستے پر کڑی نگرانی کی جائے، تو کوئی وجہ نہیں کہ کراچی ایک بار پھر ہمیشہ کے لئے امن کا گہوارہ نہ بن جائے، لیکن اس کام کے لئے حکومت وقت کی مستقل مزاجی، خواہش اور سنجیدگی لازمی شرط ہے!

مزید :

کالم -