نیو کلیئر معاہدے کے بعد چین ایران تعلقات

نیو کلیئر معاہدے کے بعد چین ایران تعلقات
نیو کلیئر معاہدے کے بعد چین ایران تعلقات

  

حال ہی میں P5+1(چین، فرانس، جرمنی، روس، امریکہ، برطانیہ ) اور ایران کے درمیان طے پانے والے ایٹمی معاہدے کے اثرات صرف مشرق وسطیٰ پر ہی مرتب نہیں ہوں گے، بلکہ یہ معاہدہ عالمی سیاست پر بھی گہرے اثرات کا حامل ہے۔اس کا اندازہ اس سے ہو جاتا ہے کہ روس کے وزیر خارجہ نے سرکاری طورپر اس معاہدے کی خبر نشر ہونے اور اطلاع سے پہلے ہی بیان دے دیا تھا کہ اب نیٹو کو یورپ میں میزائل رکھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ یہ مسئلہ امریکہ اور روس کے درمیان اختلاف اور کشیدگی کی وجہ بنا ہوا ہے۔ اس معاہدے سے بھارت کو ایران کی جنوبی بندرگاہ چاہ بہار ،جو گوادر کے قریب ہے ۔اربوں ڈالر سے مکمل کرنے کا موقعہ فراہم ہوجائے گا، اس معاہدے سے پاک ایران گیس پائپ لائن کا منصوبہ پایہ تکمیل کو پہنچ سکے گا، یورپ کے لئے ایران سے گیس حاصل کرنا ممکن ہوجائے گا جو اس وقت اپنی توانائی کی ضروریات کے لئے روس سے گیس حاصل کرنے پر مجبورہے۔

21مئی 2014ء کو شنگھائی میں ہونے والی (CICA)ایشیائی ممالک کے درمیان تعلقات اور اعتماد بڑھانے کے لئے ہونے والی چوتھی کانفرنس میں ایران کے صدر حسن روحانی نے چینی صدر شی جن پنگ سے بڑی اہم ملاقات کی تھی جس کے بعد ان دونوں ممالک کے درمیان قریبی تعلقات قائم ہیں اس معاہدے کے زیادہ اثرات انہی دونوں ممالک پر مرتب ہوں گے۔ چین کے ایران کے ساتھ تعلقات بہت قریبی اور گہرے رہے ہیں ، روس اور امریکہ کے ساتھ اتنے قریبی روابطہ نہیں تھے، نہ ہیں اور نہ ہوں گے۔ امریکہ کے صدر نکسن کے دورۂ چین سے پہلے دونوں ہمسایہ ایک دوسرے کے قریب ہونا شروع ہوگئے تھے ، چین نے ہمیشہ ایران کو اس کی ضروریات کے مطابق فوجی امداد مہیا کی، یہاں تک کہ مغربی جریدے ’’فارن افیئرز‘‘ کے مطابق ایران کے ایٹمی پروگرام میں چین کی مدد اور رہنمائی بھی شامل تھی۔ دونوں ممالک کے درمیان قدر مشترک ’’امریکہ کی مخالفت‘‘ ہے، لیکن اس معاہدے میں ایک پہلو یہ بھی تھا کہ چین کے نزدیک یہ معاہدہ اس لئے ہونا ضروری تھا کہ ایران امریکہ کشیدگی مزید بڑھ جانے سے خلیج فارس سے چین کے لئے تیل حاصل کرنا مشکل ہو جاتا۔ چین ایران سے پابندیاں بھی ختم کرانا چاہتا تھاکہ اس کی درآمدات اور برآمدات دونوں متاثر ہورہی تھیں۔

ان پورے مذاکرات کے دوران چین کا رویہ بہت محتاط رہا۔ اقوام متحدہ میں باقی ممالک کے ساتھ ووٹ بھی دیا، لیکن ساتھ ساتھ ایران پر عائد پابندیوں سے بھی کسی نہ کسی طورمتاثر ہونے سے محفوظ رکھا ۔ ایران کی چین کے ساتھ تجارت 2001ء میں تین ارب ڈالرز سے بڑھ کر 2014ء میں 50ارب ڈالر ہو گئی ہے۔ 2012ء کے درمیانی وقفے کے علاوہ 2014ء اور 2015ء میں چین نے ایران سے سب سے زیادہ تیل حاصل کیا ہے۔ ان مذاکرات کے دوران بھی چین کے جہاز ایران سے ایندھن حاصل کرتے رہے۔ چین کے سمندری بیڑے نے 2014ء میں ایران کی بندرگاہ بندرعباس کا بھی دورہ کیا اور کئی مواقع پر مغربی ممالک کی طرف سے شام کے خلاف پیش کی گئی قراردادوں کو ویٹوبھی کیا۔یہ معاہدہ پہلے سے قائم ایران چین کے قریبی تعلقات کو مزید مضبوط کرنے کا باعث بنے گا۔ امریکہ، یورپین یونین اور اقوام متحدہ کی طرف سے عائد کردہ پابندیوں سے چین ہی سب سے زیادہ متاثر تھا ۔ اب ان پابندیوں کے اٹھ جانے سے Controlled Nuclear Exportکی اجازت ہوگی،چین اسلحہ اور فوجی سازوسامان بھی ایران کو مہیا کرسکے گا، ایران کوایسے ہیبین الاقوامی اتحادیوں اور ساتھیوں کی ضرورت تھی جن کی مددسے وہ اپنے ’’قرب و جوار‘‘ کے علاوہ عالمی سطح پر بھی اہم مہرہ بن جائے گا۔

چین کے صدر کے کہنے کے مطابق یہ معاہدہ ’’ایک سڑک ایک راستہ ‘‘ ہے جس کے ذریعے توانائی ، تجارت ، مشرقی ایشیا سے یورپ تک، مشرق وسطیٰ اور وسط ایشیا کے ذریعے ایک رابطہ بن گیا ہے ، جبکہ ایران بیجنگ کے لئے ایک رابطے کا ذریعہ۔ ایران عرب ممالک کے برعکس چین سے ماضی میں بھی قریب رہا ہے اور اب تو وہ بھی چینی صدر کی طرح ’’ایک سڑک ایک راستہ ‘‘ کا حامی ہے۔ امریکی صدر اور انتظامیہ کے لئے ایک پریشانی یہ ہے کہ پابندیوں کی وجہ سے ایران کے جواثاثے منجمدتھے ، وہ بھی اسے مل جائیں گے۔ تجارتی پابندیاں ختم ہونے سے آمدنی میں خاطر خواہ اضافہ ہوگا اور وہ نہ صرف اپنے اخراجات بہتر طورپر برداشت کرسکے گا بلکہ اپنے دوسرے ملکوں سے کئے گئے معاہدے بھی پورے کرسکے گا، گیس پائپ لائن اور ایشین انفراسٹرکچر بینکمیں بھی سرمایہ کاری کرسکے گا۔ ایک ایرانی وزیر کے مطابق وعدے سے دو گنا حصہ بینک میں ڈالے گا جو تقریباً 52ارب ڈالرز ہوں گے ۔

ایران چین کے لئے تیل کے حصول کا بڑا ذریعہ رہا ہے، لیکن ایران پر پابندیوں کے بعد گو چین کو استثنا حاصل تھا، لیکن چین سعودی عرب سے بھی تیل حاصل کرتارہا، چینی قیادت کسی ایک ذریعے پر انحصار نہیں کرنا چاہتی کہ باقی راستے بند ہو جائیں یا کرلئے جائیں۔ چین ایران کے توانائی کے شعبے میں بھی سرمایہ کاری میں اضافہ کرے گا، بدلے میں ایران بھی مغربی دباؤ کے باوجود چین کو تیل کی ترسیل میں اضافہ کرنا چاہے گا۔ چین کے لئے بھی ایران کے راستے خلیج فارس تک رسائی آسان ہوگی۔ معاہدے کے بعد ایران کے لئے ’’ہاتھ پاؤں پھیلانے‘‘ کی خواہش پوری کرنا ضروری ہے اور اس کے لئے اسے مضبوط اتحادیوں کی ضرورت ہے جو روس اور چین ہیں اور مستقبل میں بھی ہوسکتے ہیں، لیکن چین ہرلحاظ سے اس مقصد کے لئے خصوصاً خطے میں بہتر اتحادی ہے، اس لئے ایران کی توجہ کا مرکز چین کے ساتھ قریبی تعلقات ہوں گے۔

حال ہی میں چین میں ایک ’’وائٹ پیپر ‘‘شائع کیا گیا جس کے مطابق چین اب سمندروں میں بھی اپنی بھرپور موجودگی کی طرف توجہ دے رہا ہے۔ کھلے سمندروں میں دوسرے ممالک کے ساتھ بحری مشقیں اس کا حصہ ہیں۔ چین کی نیوی نے 2011ء میں لیبیا سے ہزاروں چینی بڑے محفوظ طریقے سے نکالے جو چین کا اس طرز کا پہلا کامیاب مشن تھا۔ اب چین جبوتی میں بحری اڈہ قائم کررہا ہے ، سمندروں میں مضبوط موجودگی کے لئے ایران ہی قدرتی اتحادی ہوسکتا ہے جو مشرق وسطیٰ اور افریقہ میں ایک سب سے مضبوط قوت ہے۔ 2014ء میں چین کی طرف سے ایران میں چینی فوجی تعلقات بڑھانے کی بات کی گئی۔ جواب میں ایران نے بڑا کھلا سگنل دیتے ہوئے اسے قابل تحسین قدم قرار دیااور ساتھ ہی دونوں نے انتہا پسندوں، دہشت گردوں اور ان کے حمایتیوں کے خلاف موثر اقدامات کا فیصلہ کیا۔ (اشارہ ظاہر ہے) کافی عرصے سے چینی اور ایرانی جھنڈے اکثر اکٹھے نظر آتے ہیں جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کے درمیان مختلف شعبہ جات میں قریبی تعاون پر مذاکرات ہوتے رہتے ہیں۔

چین اور ایران کے بڑھتے ہوئے تعلقات امریکہ کے لئے تشویش کا باعث ہیں، کیونکہ یہ دونوں ممالک موجودہ ’’ ورلڈ آرڈر‘‘ کے خلاف ہیں جو امریکہ نے قائم کیا۔ چین نے دنیا بھر میں علاقائی تعاون کی تنظیموں کے ساتھ قریبی تعلقات بنارکھے ہیں، ان کی ہرطور امداد بھی کرنا ہے۔ ایران بھی مشرق وسطیٰ میں ایران کے خلاف ہرقدم اٹھانے پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی بھرپور مخالفت کرتا ہے۔ اس مخالفت میں امریکہ کے خلاف دونوں کو روس کی حمایت بھی حاصل ہے۔ معاہدے کے بعد پابندیاں اٹھ جانے سے چین ایران کو فوجی مدد دے گا ، ایران میں سرمایہ کاری کرے گا۔ ٹیکنالوجیبھی ٹرانسفر کرے گا تاکہ ایران کو خطے میں ایک ناقابل تسخیر قوت بنادیا جائے۔ اس سے مشرق وسطیٰ میں مضبوط قدم جمانے میں ایران چین کی بھرپور مدد کرے گا تاکہ امریکی مفادات کو چیلنج کیا جاسکے۔۔۔ لیکن ان سارے حقائق کے ہوتے ہوئے مشکلات بھی ہیں جو دونوں ممالک کے تعاون میں کچھ رکاوٹیں ڈال سکتی ہیں۔ ایران کے ساتھ مل کر کام کرنا اتنا آسان بھی نہیں ہے۔

اپریل 2014ء میں چین کے ساتھ کیا گیا 2.5ارب ڈالرکا معاہدہ ایران نے یک طر فہ طورپر منسوخ کردیا۔ چین کو یہ بھی شکایت ہے کہ ایران اپنے حامی جہادی گروپوں کی حمایت کرتا ہے جن کے چین کے ایک علاقے میں موجود کچھ تنظیموں سے رابطے ہیں، جو کبھی کبھی مشکلات پیدا کرتے رہتے ہیں۔ چین تعلقات کو اس حدتک بھی بڑھانا نہیں چاہتا کہ سعودی عرب، جو چین کے لئے تیل کے حصول کا بہت بڑا ذریعہ ہے اور خلیج تعاون کونسل اسے مخالف، بلکہ دشمن سمجھنے لگیں، اس لئے عالمی سیاست کی اس بساط پر چین ہر مہرہ بہت سوچ سمجھ کر چلتا ہے۔ امریکہ کے لئے یہ سب پریشانی کا باعث تو ہے ،لیکن اس کے لئے ممکن نہیں کہ وہ چین پر اتنا دباؤ ڈال سکے کہ چین ایران کے حوالے سے اپنی سفارتی حکمت عملی تبدیل کرنے پر مجبور ہوجائے۔ مشرق وسطیٰ میں امریکی اتحادیوں کے خلاف اپنے حامیوں کی ہرطرح سے مدد نہ کرنے پر مجبورکرے اور نہ چین چاہے گا کہ مشرق وسطیٰ امریکہ کی کالونی بن جائے، فی الحال امریکہ کی طاقت کو چیلنج کرنا چین اور ایران کے لئے ممکن بھی نہیں ہے۔

*۔۔۔لیکن امریکہ کے لئے یہ سوچنا سمجھنا اور اس پر عمل کرنا بہت ضروری ہے کہ وہ صرف اسرائیل کی خاطر اپنے مفادات داؤ پر لگا دے۔ یہ ایٹمی معاہدہ نہ صرف مشرق وسطیٰ، بلکہ عالمی سیاست پر بھی اثر انداز ہونا شروع ہوگیا ہے جو امریکہ کے مفاد میں نہیں۔ اب ذراوطن عزیز کی طرف بھی دیکھ لیں۔ دنیا بڑی تیزی سے تبدیل ہورہی ہے اور ہم ’’استعفوں‘‘ کاکھیل کھیل رہے ہیں، نہ حکمران طبقات کو ،نہ سیاسی اور مذہبی قیادت کو اور نہ ہی عوام کو اپنے کل کی فکر ہے۔ اللہ ہم پر رحم فرمائے اور عالمی سطح پر ہم بھی اہم کردار سمجھے جائیں اور جانے جائیں۔ نہ وژڈم ،نہ ویژن اورActionتو بہت دور کی بات ہے، جبکہ کسی بھی ملک کی ترقی و خوشحالی اور مضبوطی و خودانحصاری کے لئے تینوں کا ہونا شرط ہے۔

مزید :

کالم -