وہ ایک آدمی جس کے دنیا کی بلندترین عمارت برج الخلیفہ میں 22فلیٹ ہیں ، یہ کیسے حاصل کیے ؟ ایسا کہانی کہ جان کرآپ کو بھی بے حدہمت ملے گی

وہ ایک آدمی جس کے دنیا کی بلندترین عمارت برج الخلیفہ میں 22فلیٹ ہیں ، یہ کیسے ...
وہ ایک آدمی جس کے دنیا کی بلندترین عمارت برج الخلیفہ میں 22فلیٹ ہیں ، یہ کیسے حاصل کیے ؟ ایسا کہانی کہ جان کرآپ کو بھی بے حدہمت ملے گی

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

دبئی (مانیٹرنگ ڈیسک )دنیا کی سب سے بڑی عمارت میں آپ کا ایک اپارٹمنٹ ہونا متاثر کن بات ہے لیکن اگر کوئی یہ کہے کہ دنیا کی سب سے بڑی عمارت میں اس کے 22اپارٹمنٹ ہیں تو اس بات پر یقین کرنا مشکل ہو جائے گا لیکن ایک بھارتی بزنس مین نے ایسا کر دکھا یا جس کی ملکیت میں دبئی کے برج الخلیفہ کے 22اپارٹمنٹ ہیں ۔

خیال کیا جاتا ہے کہ برج الخلیفہ میں بھارتی بزنس مین جیورج نرا پار مبل بڑے نجی مالکوں میں شمار ہوتے ہیں جن کے پاس 22اپارٹمنٹ ہیں لیکن وہ اس سے بھی زیادہ اپارٹمنٹس حاصل کرنا چاہتے ہیں ۔خلیج ٹائمز سے گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ اگر انہیں اچھی آفر ملی تو وہ بر ج الخلیفہ میں مزید اپارٹمنٹس خریدنے کے لیے تیارہیں۔”میں خواب دیکھنے والا شخص ہوں اور میں کبھی بھی خواب دیکھنا نہیں چھوڑوں گا“ ۔بھارتی بزنس مین نے بتا یا کہ ایک مرتبہ کسی رشتے دار نے برج الخلیفہ کی تصویر دکھا کر کہا کہ تم اس میں داخل نہیں ہو سکتے ،کچھ دنوں بعد اخبار میں بر ج الخلیفہ کے اپارٹمنٹ کرائے پر دینے کے لیے اشتہار آیا ،جسے دیکھ کر جیورج نرا پارمبل نے متعلقہ لوگوں کو فون کیا اور اسی دن ایک اپارٹمنٹ کرائے پر لے لیا اور اگلے دن اس اپارٹمنٹ میں چلے گئے ۔جیورج نرا پارمبل کے پاس 22اپارٹمنٹس گزشتہ چھ سالوں سے ہیں جن میں سے پانچ اپارٹمنٹ کرائے پر چڑھے ہوئے ہیں جبکہ باقی اپارٹمنٹس کے لیے کرائے داروں کا انتظارہے۔

ریلوے ورکر کا بیٹا دنیا کا امیر ترین آدمی بن گیا، اُس شخص نے بل گیٹس کو بھی پیچھے چھوڑدیا جس کے بارے میں آپ نے آج تک کبھی سنا بھی نہیں، زندگی کی ایسی کہانی جو ہر شخص کیلئے سبق ہے

جیورج نرا پارمبل 1976میں شارجہ گیا جہاں اسے گرم صحراﺅں میں ائیر کنڈیشنگ کے کاروبارنے اپنی طرف کھینچا۔بھارتی بزنس مین نے زمانہ طالب علمی میں اپنا کارو بار شروع کردیا تھا ۔انہوں نے بتا یا کہ ان کے گاﺅں کے لوگ کپاس کی تجارت کرتے تھے اور وہ کپاس کے بیج پھینک دیا کرتے تھے کیونکہ اس زمانے میں بہت سے لوگوں کو یہ بات نہیں پتہ تھی کے کپاس کے بیج سے ”گم“تیار ہوتی تھی ۔ان کا کہنا تھا کہ وہ بعض اوقات کپاس کے ان بیجوں سے بننے والی ”گم“سے نوے فیصد منافع حاصل کرتے تھے ۔

انہوں نے بتا یا کہ میرے لیے سیکھنے کا عمل سب سے بڑی دولت ہے ،میں ہر روز کچھ نہ کچھ سیکھتا ہوں ،یہ میری سب سے بڑی کامیابی ہے ۔جیورج نرا پارمبل نے مزید کہا کہ لوگوں کو خواب دیکھنے اور سیکھنا چاہیے پھر وہ سب کچھ پا سکتے ہیں ۔

مزید : عرب دنیا