اگر آپ کی فریج میں اشیا خراب ہوجاتی ہیں تو یہ ایک چھوٹا ساکام کرنے سے دوبارہ ایسے نہیں ہوگا

اگر آپ کی فریج میں اشیا خراب ہوجاتی ہیں تو یہ ایک چھوٹا ساکام کرنے سے دوبارہ ...
اگر آپ کی فریج میں اشیا خراب ہوجاتی ہیں تو یہ ایک چھوٹا ساکام کرنے سے دوبارہ ایسے نہیں ہوگا

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

لندن(نیوزڈیسک) اگر آپ فریج میں رکھی ہوئی چیزوں کے خراب ہونے کی وجہ سے پریشان ہوجاتے ہیں تو آپ کو چاہیے کہ شیلف پر موجود درجہ حرارت کو دیکھیں کیونکہ فریج میں تمام شیلفوں پر درجہ حرارت ایک جیسا نہیں ہوتا۔ماہرین کا کہنا ہے کہ فریج کا آئیڈیل درجہ حرارت 0سے4ڈگری کے درمیان ہوتا ہے،سب سے نچلے خانے میں درجہ حرارت 2ڈگری ،اس سے اوپر1ڈگری،مزید اوپر 2سے3ڈگری اور سب سے اوپر والے خانے میں 3ڈگری ہوتا ہے۔سب سے نچلے خانے (دارز) میں پھلوں کو اس طرح رکھنا چاہیے کہ ان کی خوشبو ایک دوسرے میں خلط ملط نہ ہوجائے۔

فریج بہت زیادہ نہ بھریں

ان کا کہنا ہے کہ فریج جتنی بھری ہوگی اتنا ہی فریج کو بہت زیادہ کام کام کرنا پڑتا ہے اور اس بات کا امکان موجود ہے کہ اس میں رکھا ہوا کھانا خراب ہوجائے لہذا کوشش کریں کہ فریج کو بہت زیادہ بھرا نہ جائے۔ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر فریج بہت زیادہ بھری ہو تو اس کا درجہ حرارت ایک ڈگری کم کردیں۔آپ کو چاہیے کہ فریج کو دوتہائی تک بھریں اور باقی خالی رکھیں کہ اس طرح فریج بہت اچھی کارکردگی دکھائے گی۔

کچھ کھانے جم کیوں جاتے ہیں

آپ نے دیکھا ہوگا کہ کچھ کھانے جم جاتے ہیں ۔ماہرین صحت کے نزدیک ایسے کھانے صحت کے لئے نقصان دہ نہیں ہوتے لیکن ان کا ذائقہ تبدیل ہوجاتا ہے۔آپ کو چاہیے کہ سلاد اور ایسے کھانوں کی پوزیشن کو تبدیل کرتے رہیں کہ اس طرح انہیں جمنے سے بچایا جاسکتا ہے۔

کیا چیزیں فریج میں نہیں رکھنی چاہیے

کچھ چیزیں ایسی ہوتی ہیں جنہیں فریج میں نہیں رکھنا جیسے پھلوں میں کیلا ایک ایسی چیز ہے جو فریج میں رکھنے پر سیاہ ہوجاتا ہے۔

کھلے ہوئے ٹِن اور جار

کبھی بھی کھولے گئے ٹن اور جاروں کو فریج میں نہ رکھیں۔بالخصوص ٹن کے جار رکھنے سے ان میں موجود کھانا خراب ہوجائے گا لہذا ایسے کھانوں کو کسی پلاسٹک یا شیشے کے جار میں ڈال کر محفوظ بنائیں۔

صفائی کب کی جائے

آپ کو چاہیے کہ مہینے میں ایک بار ضرور فریج کو صاف کریں ورنہ اس میں موجود نمی کی وجہ سے اس میں پھپھوندی لگ جائے گی اور کھانے بھی خراب ہوسکتے ہیں۔صفائی کے لئے ڈیٹرجنٹ کی بجائے جھاگ والا پانی استعمال کریں اور کسی پرانے ٹوتھ برش سے صفائی کریں کہ اس طرح کونے بھی صاف ہوجائیں گے۔

مزید : ڈیلی بائیٹس