عیدالاضحی، اُخوت اور غربت کی لکیر

عیدالاضحی، اُخوت اور غربت کی لکیر
 عیدالاضحی، اُخوت اور غربت کی لکیر

  

پاکستان دُنیا کے تمام ممالک میں حیرت انگیز خصوصیات کی وجہ سے ممتاز مقام رکھتا ہے، جغرافیائی طور پر تو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دِل کھول کر نوازا ہے، لیکن ہر شعبہ میں ایسے ذہین و فطین افراد پیدا کئے ہیں کہ ان کے کارنامے تفصیل سے بیان کرنے کے لئے ضخیم کتابیں لکھنے کی ضرورت ہے۔ عیدالاضحی کے موقع پر ویسے تو بے شمار افراد کا تذکرہ کیا جا سکتا ہے،لیکن ڈاکٹر امجد ثاقب کا تذکرہ اہمیت کا حامل ہے۔ ’’اُخوت‘‘ تنظیم نے پاکستان کے غریب افراد کو جس طرح سے اپنے پاؤں پر کھڑا کر دیا ہے وہ حیرت انگیز کارنامہ ہے پوری دُنیا میں غربت کے خلاف چلائی جانے والی تمام تحاریک کا جائزہ لیا جائے، تو بلا شبہ ’’اُخوت‘‘کی غربت مٹاؤ تحریک ہر لحاظ سے کامیاب ترین تحریک ہے۔ مغرب نے بنگلہ دیش کے ڈاکٹر یونس کے گرامین بینک کو فنڈز بھی فراہم کئے اور انٹرنیشنل میڈیا پر اس کی بھرپور تشہیر بھی کی،لیکن ڈاکٹر امجد ثاقب کی تنظیم خالص پاکستانی تحریک ہے، جس نے 15لاکھ افراد کو براہِ راست چھوٹے بلا سود قرضے فراہم کر کے اُنہیں پاکستان کا ذمہ دار شہری بنایا اور ساتھ ہی معاشی طور پر اُنہیں غربت کی لکیر سے اوپر آنے کا موقع بھی دیا، پچاس ہزار سے شروع ہونے والی اِس تحریک کے بارے میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ 2001ء سے لے کر2016ء تک یہ اپنا سفر اتنی تیزی سے طے کرے گی کہ 15لاکھ افراد اِس کی وجہ سے چھوٹے چھوٹے کاروبار کامیابی سے کر کے حاصل کردہ بلاسود قرضہ واپس بھی کر دیں گے۔ بینکنگ کی دُنیا میں یہ اعداد و شمار حیرت انگیز اور چونکا دینے والے ہیں کہ پاکستان کے امرا تو بڑے بڑے قرضے لے کر انہیں معاف کرا لیتے ہیں۔بہت سے قرضے واپس کرنے کی بجائے دیوالیہ ہونے کا ڈرامہ بھی کرتے ہیں،لیکن غریب پاکستانیوں کو اپنی عزتِ نفس اتنی عزیز ہے کہ وہ ایمانداری کے ساتھ اُخوت سے لیا گیا قرضہ وقتِ مقررہ پر واپس کر دیتے ہیں۔ پوری دُنیا کے ماہرین اقتصادیات حیران ہیں کہ اُخوت کے دیئے ہوئے قرضوں کی واپسی کی شرح 99.93فیصد ہے،جو بینکنگ کی دُنیا میں ایک ریکارڈ ہے۔

ڈاکٹر امجد ثاقب کو اِس بات پر بجا طور پر فخر ہے کہ اُخوت تنظیم خالص پاکستانی تنظیم ہے اور اسے پاکستانیوں کے تعاون سے عروج ملا ہے۔ ہر موقع پر اہلِ ثروت پاکستانی اُخوت کی مدد کے لئے آگے آتے ہیں۔اِس عیدالاضحی پر بھی دُنیا بھر کے مسلمانوں کی طرح پاکستان کے مسلمان بھی مذہبی جوش و خروش سے قربانی کا فریضہ انجام دیں گے۔ اِس موقع پر قربانی کی کھالیں بہت سوچ سمجھ کر دینے کی ضرورت ہے، پہلے پاکستانی ہر کسی کو قربانی کی کھالیں دے دیتے تھے،لیکن اب بہت سے انکشافات سامنے آنے کی وجہ سے قربانی کرنے والوں کی خواہش ہے کہ اُن کی قربانی کی کھال ایسی جگہ جائے،جہاں اِس کی ضرورت ہے اور اِس سے حاصل ر قم سے مزید پاکستانیوں کو خوشیاں نصیب ہوں۔ اِس ضمن میں اکثریت کی رائے یہی ہے کہ عیدِ قربان پر قربانی کی کھالوں کی سب سے زیادہ حق دار تنظیم اُخوت ہے، جس نے اِس رقم سے مزید لاکھوں افراد کو غربت کی لکیر سے نکال کر انہیں پاکستان کا ذمہ دار شہری بنا دیا ہے۔

اُخوت کے کارنامے بہت ہیں،502برانچوں میں 3300 ملازمین دن رات غریب لوگوں کی معاشی حالت تبدیل کرنے کی خدمت میں مصروف ہیں۔ ایک کلاتھ بینک بھی قائم کیا ہوا ہے، جو اب تک ساڑھے پانچ لاکھ افراد میں لباس تقسیم کر چکا ہے، صرف لاہور شہر میں ذیا بیطس کے دو لاکھ 65ہزار مریضوں کا مفت علاج کر چکا ہے۔ 21ہزار رضا کار،14ہزار انٹرن شپ اور27ہزار سے زیادہ نوجوانوں کو خدمت خلق کے کام میں باقاعدہ تربیت یافتہ بنا چکا ہے،جو معاشرے میں انتہائی مثبت کارنامے انجام دے رہے ہیں۔

ڈاکٹر امجد ثاقب ستائش اور تعریف کے مستحق ہیں کہ انہوں نے پاکستان سے غربت ختم کرنے کے لئے ایک ایسا پروگرام ترتیب دیا، جس میں غریب انسان کی عزتِ نفس بھی قائم رہتی ہے اور وہ معاشی طور پر اپنے پاؤں پر بھی کھڑا ہو جاتا ہے۔

مزید : کالم