ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی

ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی
ڈاکٹر طاہر القادری کی پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی

  

گزشتہ چند روز سے بازار سیاست کافی گرم ہے۔ گھٹیا الزامات کے ذریعے کسی کو غدار کہا جا رہا ہے تو کوئی اپنی پارسائی میں زمین آسمان ایک کر رہا ہے۔ دنیا کی بڑی بڑی جمہویتوں میں بھی جمہوری آداب کا خیال رکھا جاتا ہے ،لیکن ہمارے ملک میں تو ہر کوئی جیسے جمہوریت کے پیچھے پڑا ہو ا ہے اور اسے پٹری سے اتارنے کی ہر ممکن کوشش ہو رہی ہے۔ جمہوری انداز میں اقتدار میں آنے کی بجائے چور دروازوں کی تلاش جاری ہے ۔ ،بلکہ یہاں تک کہ وہ لوگ جنہوں نے دوہری شہریت حاصل کر رکھی ہے وہ بھی پاکستان کے منتخب وزیراعظم کو غدار کہہ رہے ہیں۔ غدار کا لفظ ظاہری طورپر بہت چھوٹا ہے ،لیکن اس کے اثرات بہت بڑے ہیں اس لئے آپ کو کسی پر غداری کا لیبل لگانے سے پہلے یہ ضرور سوچ لینا چاہئے کہ کہیں غداری کا یہ لیبل آپ پر ہی تو نہیں لگتا ۔ ڈاکٹر طاہر القادری پیدائشی پاکستانی اور بظاہر،بلکہ حقیقت میں کینیڈین شہر ی ہیں اور انہوں نے پاکستان میں جو شہرت اور نام کمایا ہے وہ کینیڈین دولت کے بل بوتے پر کمایا ہے۔ ماڈل ٹاون واقعہ پر ہر آنکھ اشکبار ہے، لیکن کبھی کسی نے یہ بھی سوچا کہ ان ہلاکتوں کی اصل وجہ کیا ہے۔ پاکستان پیپلز پارٹی کے دور حکومت میں قادری صاحب نے اسلام آباد میں دھرنا دیا بالآخر یہ دھرنا مُک مکا پر ختم ہوا۔ ماڈل ٹاون سے جلوس لے کر نکلنے کا مقصد صرف یہ ہی تھا کہ پیپلز پارٹی کی طرح پاکستان مسلم لیگ (ن) کو بھی بلیک میل کیا جائے حکومت طاہر القادری کے جھانسے میں نہ آئی۔ منہاج القرآن سیکرٹریٹ میں قادری صاحب نے نہتے اور بے گناہ عوام کو کیوں اکٹھاکیا۔ ذاتی مقاصد کے حصول کے لئے دوسروں کو قربانی کا بکرا بنانا کہا ں کی ایمانداری ہے۔ ماڈل ٹاون واقع کے پہلے قصور وار تو ڈاکٹر طاہر القاردی ہیں، جنہوں نے عوام کے جم غفیر کو اکٹھا کیا، کیونکہ اس جم غفیر کو اسلام آباد لے جا کر ذاتی خواہشات کی تکمیل کرنا تھا، لیکن یہ سب دھرے کا دھرا رہ گیا اور ملک میں عدم استحکام پیدا کرنے والوں نے اس موقع سے فائدہ اٹھایا۔

کسی بھی مُلک کا سربراہ یہ نہیں چاہے گا کہ وہ ملک میں امن و امان کی صورتِ حال کو خود خراب کرے اور بیس کروڑ عوام کی نمائندگی سے محروم ہو جائے ۔ تحریک قصاص شروع کرنے کا مقصد حکومت کو بلیک میل کرنے اور مُلک کو عد م استحکام کا شکار کرنے کے سوا کچھ بھی نہ تھا ۔ دراصل قادری صاحب دنیا کے مختلف ممالک میں جا کر پاکستان کے خلاف منصوبہ بندی کر تے ہیں اور اسی منصوبہ بندی کے تحت پاکستان آکر پاکستان مخالف کارروائیاں کرتے ہیں۔

2012ء میں جب ڈاکٹر طاہر القادری منہاج القرآن کے دفتر کا افتتاح کرنے بھارت گئے تو وہ کس کے مہمان بنے؟ میزبانی کا شرف کس کو حاصل ہوا۔ نریندر مودی کی طرف سے جو اُس وقت گجرات کے وزیراعلیٰ تھے انہیں نہ صرف سٹیٹ گیسٹ کا درجہ دیا گیا ،بلکہ ان کے پروٹوکول کے لئے زیڈ پلس سیکیورٹی کے انتظامات بھی ہوئے ۔نریندرمودی قادری صاحب کی تعریف کر تے نہیں تھکتے ۔بھارت میں مسلم کش فسادات پر قادری کی زبان بولنے سے قاصر رہی اور نریندرمودی کی میزبانی کے مزے اٹھاتے رہے ۔ نریندرمودی ایسا شخص ہے، جس نے آج تک پاکستان کو تسلیم نہیں کیا اور پاکستان کو توڑنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا ۔ ایک ایسے شحص کی میزبانی قبول کرنا جو ازل سے پاکستان کا دشمن ہو کس زمرے میں آتا ہے یقیناًیہ وطن سے غداری کے زمرے میں آتا ہے ۔ میرا مقصد یہاں کسی کو غداری کا سرٹیفکیٹ دینا نہیں، لیکن ڈاکٹر صاحب نے اپنی آدھی سے زیادہ عمر دیار غیر میں گزاری ہے پاکستان میں تو وہ صرف جلسے جلوسوں کے لئے ہی آتے ہیں پاکستان کے لئے قادری صاحب نے آج تک کیا کیا ہے ۔ پاکستان کے عوام نے محمد نواز شریف کو حب الوطنی کا سرٹیفکیٹ تین مرتبہ وزیراعظم منتخب کر کے دیا ہے اور وزیراعظم نے اس حب الوطنی کا حق بھی ادا کیا ہے۔ 1998ء میں پوری دُنیا ایک طرف تھی اور نوازشریف ایک طرف تھا۔ اربوں ڈالر کی آفر ٹھکرا کر ایٹمی دھماکے ایک محب وطن ہی کر سکتا ہے۔معاشی طور پر دیوالیہ ہونے کے قریب ملک کو دوبارہ ترقی کی شاہراہ پر ایک محب وطن ڈال سکتا ہے ،پاکستان کی معاشی تقدیر بدلنے والے سی پیک جیسے اربوں ڈالر کی غیرملکی سرمایہ کاری کے منصوبے ایک محب وطن پاکستانی ہی لاسکتا ہے۔ کشمیر کی آزادی کی جنگ ایک محب وطن پاکستانی ہی لڑسکتا ہے۔ عالمی فورموں پر کھڑا ہو کر مسئلہ کشمیر کو اُجاگر ایک محب وطن پاکستانی ہی کر سکتا ہے۔ سفارتی سطح پر کشمیر کا مقدمہ ایک محب وطن پاکستانی ہی لڑ سکتا ہے۔ قادری صاحب آپ کس غدار کی بات کر رہے ہیں۔ محب وطن پاکستانی کو غدار کہنا خود ایک غداری ہے۔دُنیا کے 90ملکوں میں مدرسے کس مقصد کے لئے قائم کئے اور اس کے فنڈز کہا ں سے آئے۔ آپ نے تو کینیڈا کی وفاداری کا حلف اُٹھایا ہے اِس لئے پاکستان میں ہونے والی ترقی کو سبوتاژ کرنے کے لئے ہر چھ ماہ بعد پاکستان آجاتے ہیں اور پاکستا ن کی معاشی تقدیر سے کھیلنے لگتے ہیں خدارا پاکستان پر رحم کریں اور اپنے غیر ملکی ایجنڈے اور ذاتی خواہشات کی تکمیل پاکستان میں نہ کریں فیصلہ قادری صاحب پر چھوڑتا ہوں کہ کو ن غدار ہے اور کون محب وطن۔

دوسری جانب نظر دوڑائیں تو عمران خان اور شیخ رشید پاکستان کے لئے بہت فکرمند نظر آتے ہیں۔اول الذکر دوسروں کے گھروں میں گھیراؤ جلاؤ کا کارکنوں کو درس دے رہے ہیں تو موخر الذکر کے مُنہ سے پاکستان کے بارے میں ماسوائے تباہی کے کوئی اچھی بات نہیں نکلتی۔ چیئر مین تحریک انصاف نے 2014ء کے اسلام آباد میں دیئے جانے والے دھرنے سے کیا سبق حاصل کیا جو اب جاتی عمرہ کی طرف مارچ اور دھرنا دینے کی باتیں کر رہے ہیں۔پاکستان کا آئین توکسی کے گھر کے گھراؤ کی اجازت نہیں دیتا ۔ جاتی عمرہ میں وزیراعظم کے خاندان کی ذاتی رہائش گاہیں ہیں۔ وہاں دھرنا دے کر دنیا کو کیا تاثر دینا چاہتے ہیں کہ پاکستانی سیاست دان قومی سیاست کو نہیں ذاتیات کی سیاست کو ترجیح دیتے ہیں۔ خان صاحب کی ساری سیاست ان کی ذاتیات کے گرد گھومتی ہے ۔ ذاتی اَنا کی تسکین کے لئے کئے گئے فیصلوں نے تحریک انصاف کے ووٹ بنک میں بہت کمی کر دی ہے۔ کراچی میں 2013ء کے انتخابات میں دوسرے نمبر پر ووٹ لینے والی تحریک انصاف بلدیاتی انتخابات میں بری طرح ہاری ہے اور کراچی میں تحریک انصاف کے رہنماوں میں اختلافات زبان زد عام ہیں۔ خان صاحب دھرنا دینا ہے تو الیکشن کمیشن اور پارلیمنٹ ہاوس جاکر دیں لوگوں کی زندگیاں اجیرن نہ بنائیں نہ ہی لوگ اب آپ کے اس جھانسے میں آئیں گے، کیونکہ سیاسی طور پر اب وہ بہت باشعور ہیں۔

شیخ رشید اور تحریک انصاف کی طرف سے سپیکر قومی اسمبلی کو پیش کئے گئے ریفرنس عدم ثبوت کی وجہ سے سپیکر نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اپنے ریمارکس کے ساتھ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیئے ہیں حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ سپیکر کی رولنگ درست ہے یا نہیں؟ سپیکر کا کہنا تھاکہ آئین کے آرٹیکل63کی شق 2 کے تحت شیخ رشید نے جو ریفرنس وزیراعظم کے خلاف جمع کروایا تھا وہ معیار پر پورا نہ اترتے کی وجہ سے واپس کر دیا ہے ۔ عمران خان کی نااہلی سے متعلق ریفرنس سپیکرنے اپنی رولنگ کے ساتھ الیکشن کمیشن کو بھجوا دیاہے، جس پر حتمی فیصلہ الیکشن کمیشن نے کرنا ہے کہ چیئرمین تحریک انصاف قومی اسمبلی کا ممبر بننے کے لئے جو شرائط ہیں ان پر پورے اترتے ہیں یا نہیں۔ کافی ثبوت ہونے پر جہانگیر ترین کے خلاف ریفرنس بھی الیکشن کمیشن کو بھجوایا گیا ہے۔اپوزیشن جماعتوں کے رہنماوں کے خلاف ریفرنس اگر سچے نہیں ہیں تو انہیں اتنا واویلہ کرنے کی کیا ضرورت ہے ۔ کبھی سپیکر پر جانبداری کا الزام لگایا جاتا ہے تو کبھی الیکشن کمیشن کوجانبدار کہا جاتا ہے۔

ہمارے سیاست دانوں کو ذاتیات کی سیاست سے باہر نکل کر قومی سیاست میں حصہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ مُلک و قوم کو درپیش مسائل کا حل مِل بیٹھ کر نکالا جا سکے ،لیکن ایسا محسوس بالکل نہیں ہو رہا،کیونکہ اپوزیشن جماعتیں جس ایجنڈا پر کا م کر رہی ہیں وہ پاکستان کی سلامتی اور خوشحالی کا ایجنڈا نہیں ہے۔

مزید : کالم