اس الزام کی حقیقت سامنے آنی چاہئے

اس الزام کی حقیقت سامنے آنی چاہئے
 اس الزام کی حقیقت سامنے آنی چاہئے

  

اُس میٹنگ روم میں تِل دھرنے کو جگہ نہیں تھی۔تہہ خانے میں وسیع ہال کی بجائے پہلی منزل پر چھوٹے سے میٹنگ روم کا انتخاب کرنے کی جو غلطی ہوئی، اس کا احساس ہو رہا تھا، لیکن پچھتاوے کے سوا کچھ نہیں ہو سکتا تھا۔ میڈیا والوں کے لئے کرسیاں کم پڑ گئیں تو کئی پارٹی عہدیداروں کو قربانی کی عید سے پہلے ’’قربانی‘‘ کے لئے کہا گیا، انہیں کرسی سے اُٹھا کر میڈیا والوں کو بٹھایا گیا۔ کسی سیاست دان کے لئے کرسی کی ’’قربانی‘‘ بڑا دل گردے کا کام ہوتا ہے۔ اسی ماحول میں سنسنی اور تجسس کے امتزاج نے دو آتشہ والا کام کیا۔ وہ کہنے لگے، یہ پریس کانفرنس میری زندگی کی اہم ترین چند پریس کانفرنسوں میں نمایاں ترین ہے۔ مَیں جو تفصیلات میڈیا تک پہنچانے والاہوں، اُن کی وجہ سے مَیں خود حیران ہوں کہ یہ سب کچھ کیا ہو رہا ہے، کیسے ہو رہا ہے اور ہماری سیکیورٹی ایجنسیاں اِس معاملے میں حرکت میں کیوں نہیں آئیں؟ جو لوگ یہ کام کر رہے ہیں، کیا انہیں پوچھنے والا کوئی نہیں؟؟ معاملہ، ہمارے ازلی دشمن مُلک بھارت سے متعلق ہو اور بھارتی شہریوں کو ’’وی آئی پی ویزہ‘‘ دینے کی بات ہو، تو جو کچھ بتایا جا رہا ہو، اُس پر غور کے لئے بار بار ذہن میں گھنٹیاں سی بجنے لگتی ہیں۔اپنی معلومات کو دہراتے ہوئے وہ بار بار مختلف انداز میں سوالات کے ذریعے ملکی تحفظ کے اداروں کو یاد کر رہے تھے۔ ڈاکٹر طاہر القادری کا حیران کن موقف کچھ یوں ہے کہ اپنی شوگر ملوں کو بہتر طور پر چالو رکھنے کے لئے شریف برادران ’’سپیشل وی آئی پی ویزوں‘‘ کا اہتمام کر کے آئی ٹی ماہرین، ٹیکنیشنز، انجینئرز اور ویلڈروں کو پاکستان بلاتے ہیں۔نئی دہلی میں پاکستانی ہائی کمشنر کو خصوصی ہدایات دی جاتی ہیں کہ کسی پولیس انکوائری کے بغیر ’’سپیشل انڈین پرسا نلز‘‘ کو پولیس رپورٹنگ سے مستثنیٰ ویزہ دیا جائے۔ یہ ویزہ ملٹی پل ہوتا ہے، عموماً ایک سال کے لئے اس ویزے پر دس سے بارہ مرتبہ پاکستان آنے کی سہولت ہوتی ہے۔ ویزہ ہولڈر پاکستان آکر کسی جگہ پولیس رپورٹ کے بغیر قیام کر سکتا ہے۔ واہگہ بارڈر پر کسٹمز حکام اس کے سامان وغیرہ کی چیکنگ نہیں کرسکتے۔ یہ کام پچھلے دو سال سے ہو رہا ہے۔ اس وقت شریف برادران کی شوگر ملوں میں ایسے وی آئی پی ویزہ ہولڈرز کی تعداد تین سو ہے۔

پہلا بنیادی سوال یہ اٹھایا گیا کہ شریف برادران کس قانون کے تحت ایسے وی آئی پی ویزے جاری کرواتے ہیں۔ اگر شریف برادران کو یہ سہولت کسی قانون کے تحت حاصل ہے تو پھر سبھی لوگوں کو اس کی اجازت کیوں نہیں دی جاتی؟ دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا ہمارے اپنے مُلک میں با صلاحیت اور لائق ماہرین دستیاب نہیں ہیں کہ بھارت سے ایسے لوگوں کو وی آئی پی ویزے پر بلوایا جاتا ہے۔ تیسرا سوال یہ کیا گیا کہ آنے والے ’’ماہرین‘‘میں کتنے انڈین جاسوس ہیں، اس کا فیصلہ کیسے ہوگا، کسی کے ماتھے پر تو لکھا نہیں ہوتا کہ وہ جاسوس ہے۔ اس کے لئے ہماری حفاظتی ایجنسیاں موجود ہیں،مگر انہیں اپنا کام کرنے کی اجازت نہیں، آخر ایسا کیوں ہو رہا ہے، سیکیورٹی رسک لینے کی کیا وجہ ہے؟سیکیورٹی کلیئرنس کے بغیر بھارتی’’ماہرین‘‘ کیوں آزادی سے گھومتے پھرتے ہیں۔ یہ ’’ماہرین‘‘ مختلف بھارتی کمپنیاں پاکستان بھجواتی ہیں۔ یہ ماہرین بجلی پیدا کرتے ہیں، شوگر ملوں کو چالو رکھتے ہیں اور دوسرے کام بھی کرتے ہیں۔ ملکی تحفظ کے ادارے،اس سیکیورٹی رسک کو اب تک روکنے کے لئے آگے کیوں نہیں بڑھے؟ اس ایشو کو پارلیمنٹ میں اُٹھا کر شریف برادران سے جواب کیوں نہیں لیا جاتا؟

پریس کانفرنس میں تفصیلات بیان کرتے ہوئے ڈاکٹر طاہر القادری حسب معمول جذباتی ہوگئے تھے وہ کہہ رہے تھے کہ شریف برادران کی رمضان شوگر ملز میں بھارتی ماہرین کی موجودگی کے بارے میں انہوں نے 3ستمبر کو راولپنڈی میں سالمیت پاکستان اور قصاص مارچ کے موقع پر ابتدائی تفصیلات بیان کی تھیں۔ شریف برادران کی جانب سے9ستمبر تک تردید نہ کرنے سے یہ ثابت ہوا کہ میری باتوں کو تسلیم کیا گیا۔ اب میں نے مزید تفصیلات بیان کر دی ہیں اور 300میں سے 50 ’’بھارتی ماہرین‘‘ کے ناموں اور ان کے پاسپورٹ نمبروں کی فہرست جاری کر دی ہے۔ قومی سلامتی کے اداروں کو اس کا نوٹس لینا چاہئے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا کہ اگلی بار وہ بقیہ ’’بھارتی ماہرین‘‘کے نام اور پاسپورٹ نمبر میڈیا کے حوالے کریں گے۔ اس موقع پر انہوں نے کہا کہ مَیں نے جو تفصیلات جاری کی ہیں ان کی وجہ سے ممکن ہے،رمضان شوگر ملز میں ریکارڈ جلانے کا کام کیا جائے۔نندی پورپراجیکٹ اور میٹروبس سروس کا ریکارڈ جلایا جا چکا ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نے جب یہ الفاظ ادا کئے تو چند منٹ بعد ہی انہیں بتایا گیا کہ مضان شوگر ملز میں آگ لگ گئی ہے۔ اس اطلاع کے ملنے تک ڈاکٹر طاہر القادری اپنی نشست سے خرم نواز گنڈا پور، بشارت جسپال، نور اللہ صدیقی،جواد حامد اور دیگر کے ہمراہ اٹھ چکے تھے۔ آگ لگنے کی خبر سنتے ہی وہ دوبارہ اپنی نشستوں پر بیٹھ گئے۔ اسی دوران نور اللہ صدیقی نے انہیں بتایا کہ آگ پاور پلانٹ میں لگی ہے۔ یہ سن کر ڈاکٹر طاہر القادری نے کہا ’’دیکھا‘‘ میں نہ کہتا تھا کہ ریکارڈ جلانے کے لئے جگہ جگہ آگ لگ سکتی ہے۔ اِدھر پریس کانفرنس ہوئی، اُدھر آگ لگ گئی! اس صورت حال میں ہمیں وہ لمحات یاد آگئے جب پیپلز پارٹی کے دور میں ڈاکٹر طاہر القادری نے اسلام آباد میں تاریخی اور یادگار دھرنا دیا تھا تو کنٹینر میں انہیں بتایا گیا کہ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے خلاف سپریم کورٹ نے ایکشن لے لیا ہے، تو ڈاکٹر طاہر القادری نے نہایت جذباتی انداز میں حاضرین اور ٹی وی سکرین کے ناظرین کو ’’مبارک ہو،مبارک ہو، مبارک ہو۔۔۔‘‘کے شور میں خوشخبری سنائی تھی۔

ڈاکٹر طاہر القادری کی پریس کانفرنس اس لحاظ سے ہنگامہ خیز ثابت ہوئی کہ سبھی حلقوں نے اس کا نوٹس لیا، تاہم بعض حلقوں نے کہا کہ ان کے موقف کو سنجیدگی سے نہیں لینا چاہئے۔ سیاست میں الزامات لگائے جاتے ہیں۔ بعض حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر تمام تفصیلات درست ہیں اور قادری صاحب کے نزدیک سیکیورٹی رسک والا کام ہو رہا ہے تو وہ عدالت میں جائیں۔ یہ بات ڈاکٹر طاہر القادری سے ہم نے کی تھی، ان کا کہنا تھا کہ ہمارے 14کارکنوں کی لاشیں ابھی تک انصاف کی منتظر ہیں۔ گولیوں سے زخمیوں کی تعداد80 سے زیادہ ہے،انہیں بھی انصاف نہیں مل سکا، جب تک شریف برادران بر سر اقتدار ہیں، عدالتوں سے جلد اور صحیح انصاف کی توقع نہیں۔ ان کا یہ موقف نیا نہیں، کئی بار وہ خود اور ان کی پارٹی کے اہم رہنما کھل کر بات کر چکے ہیں۔ وفاقی وزیر پرویز رشید نے ان کی پریس کانفرنس پر ردعمل میں انہیں ’’جھوٹا‘‘ کہتے ہوئے یاد دلایا ہے کہ عدالتی کمیشن نے بہت پہلے جھوٹا قرار دیا تھا۔ ایسے شخص کی بات درست نہیں ہو سکتی۔ وفاقی وزیر پرویز رشید کے ردعمل پر تحریک منہاج القرآن کے ایک کارکن نے کہا کہ اس ایشو پر بھی کسی عدالتی کمیشن سے فیصلہ حاصل کر لیا جائے۔ دیکھیں، ڈاکٹر طاہر القادری کو اس سیکیورٹی رسک ایشو میں بھی ’’جھوٹا‘‘ قرار دیا جاتا ہے یا اُن کے ثبوت درست مانے جاتے ہیں۔ ادھر رمضان شوگر ملز کے ایم ڈی یوسف عباس شریف نے کہا ہے کہ ہتک عزت کا دعویٰ کیا جائے گا۔ ملز مذکورہ میں کوئی بھارتی حتیٰ کہ کوئی غیر ملکی کام نہیں کرتا۔

اس پر کہا گیا ہے کہ ڈاکٹر طاہر القادری اگلی قسط میں مزید تفصیلات پیش کریں گے۔ اس بیان بازی سے یہ ایشو محض بحث مباحثہ کی نذر ہو رہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ ڈاکٹر طاہر القادری کے تمام تر الزامات کے بارے میں اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری ہونی چاہئے۔ رمضان شوگر ملز کی انتظامیہ نے دو ٹوک تردید کر کے اس دعوے کو غلط قرار دیاہے کہ ان کی ملز میں کوئی انڈین یا غیر ملکی ماہرین کام کر رہے ہیں، جن لوگوں کا ذکر ڈاکٹر طاہر القادری کرتے ہیں، وہ کون ہیں۔ان کی بھی حفاظتی ایجنسیوں کی رپورٹ کو انکوائری میں شامل کرنا چاہئے۔ عوام کو صحیح معنوں میں یہ معلوم ہو سکے کہ جو دعویٰ ڈاکٹر طاہر القادری کر رہے ہیں، کیا وہ صحیح ہے یا محض سیاسی پراپیگنڈہ اور حکومت پر دباؤ ڈالنے کا ایک حربہ ہے۔ یہاں یہ بات بھی ذہن میں رکھی جائے کہ بار بار ملکی سلامتی کے تحفظ کے اداروں کو یاد کر کے اُن کی ’’خاموشی‘‘ پر حیرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ بہتر ہو گا کہ اعلیٰ سطحی عدالتی انکوائری کے ذریعے اِس ابہام کو دُور کر کے لوگوں کی ذہنی ٹینشن کو ختم کیا جائے۔ شریف برادران اس وقت حکومت کر رہے ہیں۔ حکمرانوں کے بارے میں یہ کہنا کہ وہ ’’بھارتی ماہرین‘‘ کو پاکستان بُلا کر سیکیورٹی رسک بڑھا رہے ہیں۔ یہ کوئی معمولی الزام نہیں، اس کا نوٹس ضرور لینا چاہئے۔

مزید : کالم