عوامی حقوق کا مذاق

عوامی حقوق کا مذاق
عوامی حقوق کا مذاق

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

تقسیم ہند کے بعدایک بنگالی پروفیسر ہیرن مکرجی بھی بھارت کی پہلی پارلیمنٹ کے رکن تھے۔ وہ پارلیمنٹ کے اجلاس میں شرکت کے لئے ریلوے میں سفر کر رہے تھے۔ انگریزوں نے وراثت میں جو کچھ چھوڑا ہے ان میں سے وہ ریلوے پر فخر کا اظہار کرتے ہیں۔ ہیرن مکرجی فرسٹ کلاس کی آسائشوں سے لطف اندوز ہو رہے تھے۔ کھڑکی سے باہر وہ دیہی علاقوں کے نظاروں کی تلاش میں تھے، ،مگر چلتی ہوئی ٹرین کے باہر دونوں طرف جھگیوں کی قطاریں تھیں۔ بدترین غربت کے مناظر دکھائی دے رہے تھے۔ ہر طرف تاریکی اور گندگی تھی اور اس ماحول میں پروفیسر ہیرن مکرجی کو ایسا محسوس ہوا جیسے انہیں باہر انسانوں کی بجائے جانور نظر آ رہے ہیں۔ ایسے جانور جو بدترین ماحول میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ پروفیسرہیرن مکرجی اس منظر کو دیکھ کر بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے کلکتہ واپس پہنچ کر وزیراعظم پنڈت جواہر لال نہرو کو ایک خط تحریر کیا۔ انہوں نے لکھا کہ ٹرین کے فرسٹ کلاس میں بیٹھا ہوا جب میں جھگیوں اور جھونپڑیوں کی ان گندی بستیوں سے گزرا تو میں نے سوچا کہ اگر یہ لوگ مجھ سے پوچھیں کہ انڈیا کی آزادی سے ہمیں کیا ملا تو میں انھیں کیا جواب دوں گا؟ پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنے جوابی خط میں پروفیسرہیرن مکرجی کو لکھا۔ ’’آپ اپنے حساس ہونے کی قیمت ادا کر رہے ہیں‘‘۔

بھارت میں بہت سے لوگ پنڈت جواہر لال نہرو کو دیوتا کا درجہ دیتے ہیں۔ ان کے مخالفین ان پر تنقید کے نشتر بھی چلاتے ہیں ،مگر کسی کو اس سے انکار نہیں ہے کہ بھارت میں جمہوریت کے پودے کی آبیاری میں پنڈت جواہر لال نہرو نے بے مثال کردار ادا کیا۔ انہوں نے بھارت میں جمہوری روایات کو مضبوط بنایا۔ ،مگر پنڈت جواہر لال نہرو کا مسئلہ یہ تھا کہ انہوں نے ہر قیمت پر اقتدار میں رہنا تھا اور اقتدار میں رہنے کے لئے اراکین اسمبلی کی حمایت ضروری تھی۔ اس مقصد کے حصول کے لئے وہ سب کچھ کر گزرتے تھے۔ ایک مرتبہ پنڈت جواہر لال نہرو سے کسی نے دریافت کیا کہ کانگریس میں تو طرح طرح کے لوگ اکٹھے ہو گئے ہیں۔ اتنے متضاد اور مختلف لوگوں کو لے کر آپ کس طرح کاروبار حکومت چلائیں گے۔ پنڈت نہرو نے جواب دیا ’’ہر ایک کی ایک قیمت ہے اور وہ قیمت میں ا سے ادا کر سکتا ہوں‘‘۔

پنڈت جواہر لال نہرو نے انگریزوں کے خلاف اپوزیشن کی سیاست کی تھی۔ وہ ایک نیا سوشلسٹ انڈیا بنانا چاہتے تھے۔ ان کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ اتنے محنتی تھے کہ سرکاری اجلاسوں کی روداد بھی خود ہی ڈکٹیٹ کرایا کرتے تھے ،مگر جب وہ خود وزیراعظم بنے تو انہوں نے جوڑ توڑ کی سیاست میں مہارت حاصل کی۔ انہوں نے ہر شخص کی قیمت ہونے کے متعلق شاید ابراہام لنکن کا وہ واقعہ پڑھا تھا کہ ایک مرتبہ اس امریکی صدر کے پاس ایک ایسا بزنس مین آیا، جس کے متعلق کہا جاتا تھا کہ وہ ہر شخص کو خرید لیتا ہے۔ ابراہام لنکن نے اسے چائے پر بلایا تھا۔ چائے کی پیالی اٹھا کر اس بزنس مین نے چسکی لی اور بڑے ادب سے کہا ’’صدر محترم میری ایک فائل آپ کے پاس منظوری کے لئے آئی ہے اگر آپ مہربانی کریں تو مَیں پارٹی فنڈ میں ایک ملین ڈالر د ے سکتا ہوں ‘‘۔ اس پر لنکن نے سنجیدہ ہوتے ہوئے کہا ’’آپ کو ایسی باتیں نہیں کرنی چاہئیں‘‘۔ صدر کے قدرے نرم رویے کو دیکھ کر اس بزنس مین نے کہا ’’میں آپ کو دو ملین ڈالر دے سکتا ہوں‘‘۔ لنکن نے پھر انکار کر دیا۔ بزنس مین نے تین ملین ڈالر اور پھر چار ملین ڈالر دینے کی پیشکش کی ،مگر لنکن اسے چائے پینے کا مشورہ دیتے رہے۔ جب اس نے پانچ ملین ڈالر کا کہا تو لنکن اٹھ کر کھڑے ہو گئے اور انہوں نے اس بزنس مین کو اپنے دفتر سے جانے کا اشارہ کیا۔ اس واقعے کو چند سال گزر گئے اور پھر ایک دعوت میں اس بزنس مین کی ابراہام لنکن سے ملاقات ہوئی۔ اس نے معذرت طلب کرنے کے بعد کہا کہ اس کے ذہن میں ایک ایسا سوال ہے جو اسے مسلسل پریشان کر رہا ہے اور اس کا جواب صرف صدر امریکہ ہی دے سکتے ہیں۔ ابراہام لنکن نے اسے سوال کرنے کی اجازت دے دی تو اس بزنس مین نے کہا کہ مَیں نے جب آپ کو ایک ملین ڈالر کی آفر کی تھی، تو رشوت کی پیشکش اسی وقت کر دی تھی ،مگر آپ نے زور دار انکار کرنے ،بلکہ مجھے بے عزت کرکے باہر نکالنے کے لئے پانچ ملین ڈالر کی آفر کا کیوں انتظار کیا۔ اس پر ابراہام لنکن مسکرایا اور اس نے کہا کہ ہر شخص کی ایک قیمت ہوتی ہے اور مجھے خطرہ پیدا ہو گیا تھا کہ تم اس قیمت کے قریب پہنچ گئے ہو۔

بھارت میں جمہوریت پر فخر کیا جاتا ہے ،مگر یہ شکایت بھی کی جاتی ہے کہ جمہوریت نے ملک میں رشوت اور بدعنوانی کو فروغ دیا ہے۔ پاکستان میں جمہوریت بڑے طوفانوں سے گزری ہے۔ اور تقریباً ہر مرتبہ جمہوریت کی ناکامی کی ذمہ داری سیاست دانوں کی نااہلی اور کرپشن پر ڈالی گئی ہے۔آزادی کے بعد سے پاکستان میں بھی سیاست دانوں اور اہم افراد کی قیمت لگانے کا کام جاری ہے اور اس کا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ اب ہم ایک ایسے معاشرے میں زندہ ہیں جہاں سب اپنی اپنی بقا کی جنگ لڑتے ہوئے نظر آتے ہیں۔

ایک سیاست دان کہا کرتے ہیں کہ دھڑا انسان کا دھرم ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ کا دھڑا جو بھی فیصلہ کرتا ہے وہ درست ہے۔ آپ اس قول کے اخلاقی یا مذہبی ہونے کے خلاف بات کر سکتے ہیں ،مگر بدقسمتی سے عملی طور پر ہمیں اس کی حکمرانی ہی نظر آتی ہے۔ امریکہ میں ہر سال بے شمار ڈاکٹروں اور سرجنوں کے خلاف کارروائی ہوتی ہے اور ان کی کسی نہ کسی کوتاہی پر انہیں بھاری جرمانہ یا سزا ہوتی ہے۔ اِس لئے وہاں ڈاکٹر یا سرجن انشورنس کے بغیر پریکٹس کرنے کا تصور بھی نہیں کرتے۔ اس انشورنس کے ذریعے انہیں یہ اطمینان ہوتا ہے کہ جس طرح ان کی انشورنس شدہ گاڑی کے حادثے کی صورت میں ہر طرح کے نقصان کو انشورنس کمپنی پورا کرے گی۔ اسی طرح ان سے کوئی غلط علاج ہو جائے یا آپریشن غلط ہو جائے تو اس کے نقصان کی تلافی بھی انشورنس کمپنی ہی کرے گی۔ چند سال قبل نیو یارک میں ہمارے ایک دوست نے بتایا تھا کہ سرجن کی انشورنس سب سے مہنگی ہوتی ہے۔ ان ڈاکٹروں اور سرجنوں کی غفلت یا کوتاہی کے خلاف ثبوت اور گواہی میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ لوگ ہی فراہم کرتے ہیں۔ طب کے شعبہ سے وابستہ لوگ اپنے پیشے کو مقدس کہتے ہی نہیں، بلکہ اس کے تقدس کو یقینی بنانے کے لئے سرگرم کردار بھی ادا کرتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل امریکہ کے سینئر ڈاکٹروں نے صدر اوبامہ سے احتجاج کیا تھا کہ اسامہ بن لادن کی نشاندہی کے لئے جعلی ویکسین پروگرام کیوں چلایا گیا تھا، کیونکہ اس طرح انٹیلی جنس کے مقاصد کے لئے میڈیکل کے شعبہ سے وابستہ افراد کو استعمال کرنا اقوام متحدہ اور امریکی قوانین و ضوابط کے خلاف ہے۔ پاکستان میں جس طرح ہرطرح کی ادویات بے دریغ استعمال ہوتی ہیں؟ مریضوں سے بلاضرورت ہزاروں روپے کے ٹیسٹ کرائے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر دبے لفظوں میں بتاتے ہیں کہ کس طرح مریضوں کے غیر ضروری آپریشن کر کے ان سے لاکھوں روپے بٹور لئے جاتے ہیں،مگر کبھی وہ اس کے خلاف آواز بلند نہیں کرتے۔ کوئی یہ نہیں بتاتا کہ ہسپتالوں میں بچوں کی نارمل ڈیلیوری کے ختم ہونے میں متعلقہ طبی اداروں کے لالچ نے کیا کردار ادا کیا ہے۔ بدقسمتی سے پاکستان میں ایک بھی ڈاکٹر قوم کے ان مسیحاؤں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ ہر روز بے شمار لیڈر عدالتوں کے باہر سے گزرتے ہیں ،مگر وہ یہ دیکھنے سے ہی انکار کر دیتے ہیں کہ مقدمات کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ عدالتوں کے باہر سائلین کے بیٹھنے کا کوئی انتظام نہیں ہے۔ ٹاؤٹ اور دوسرے عناصر نے کس طرح اپنی حکمرانی قائم کر رکھی ہے۔ کبھی کبھی یہ خبر بھی آتی ہے کہ کسی عدالت کے جج کے ساتھ وکلاء نے ایسا سلوک کیا جو عام طور پر اچھے لوگوں کے ساتھ بالکل نہیں کیا جاتا ،مگر ان معاملات کے متعلق کوئی بھی اپنے پیٹی بھائیوں کے خلاف آواز بلند کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔ جنرل راحیل شریف کی اس بات پر توجہ دینے کی ضرورت ہے کہ دہشت گردی کے فروغ میں نظام انصاف کی خرابیوں کا بھی ہاتھ ہے۔ قبائلی علاقوں میں طالبان کی مقبولیت کی وجہ بھی ان کے فوری انصاف کو قرار دیا جاتا رہا ہے۔انگریزوں نے اپنے دو سو سالہ دور حکومت میں تقریباً پانچ سو قوانین بنائے تھے ،مگر آزادی کے بعد سے ہزاروں قوانین بنائے جا چکے ہیں، ضابطوں کی تعداد لاکھوں میں پہنچ رہی ہے ،مگر خود حکمران گلہ کرتے ہیں کہ عوام کو انصاف نہیں مل رہا ہے۔ انصاف اتنی تاخیر سے ملتا ہے کہ اکثر انصاف کے تمام تقاضوں کا خون ہو چکا ہوتا ہے۔ اکثر مریض ایک مرض کے علاج کے لئے ہسپتال جاتے ہیں، متعدد نئے مرض لے کر واپس آتے ہیں۔ تھانوں میں اکثر ملزم اور مدعی کے درمیان کوئی فرق محسوس نہیں ہوتا۔ خرابی کی اس صورت پر شیخ سعدی شیرازی یاد آتے ہیں، جنہوں نے اپنے ایک شعر میں کہا تھا کہ کسی چشمہ کا منبع ابتدا میں ایک تیلی سے بند کیا جا سکتا ہے ،مگر جب وہ بھر جائے تو اسے ہاتھی کے ذریعے بند کرنا بھی ممکن نہیں ہوتا۔

اپوزیشن کے سیاست دان حکومت کو اس لئے ہر خرابی کا ذمہ دار ٹھہراتے ہیں کہ انہوں نے خود حکومت میں آنا ہوتا ہے۔ حکومتیں آتی جاتی رہتی ہیں ،مگر کچھ خرابیاں خاصی مستقل مزاج ہوتی ہیں، ان کے رنگ اور انداز تو بدلتے ہیں ،مگر ان کا خاتمہ نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اکثر لوگ صرف اپنے مفاد کی حفاظت کرتے ہیں، پھر اپنے گروہ کے مفاد کو ترجیح دیتے ہیں اور کبھی کبھار مُلک کے لئے کچھ کرنے کا نعرہ بھی لگا لیتے ہیں۔ چند سال قبل میں نے ایک اعلیٰ افسر سے دریافت کیا کہ ہمارے انتظامی امور کے اداروں میں ایڈمنسٹریشن کے جدید طریقے تو پڑھائے جاتے ہیں ،مگر کیا کبھی عوام کے حقوق کے متعلق بھی تربیت دی جاتی ہے۔ کبھی افسروں کو یہ بھی بتایا جاتا ہے کہ جن لوگوں کے لئے آپ کو ملازمت دی جا رہی ہے ان کے حقوق کیا ہیں؟ اس پر اس افسر نے تاسف سے سر ہلاتے ہوئے کہا تھا ’’ہمارے ہاں انتظامی امور کی سائنس میں شہری کے حقوق کو نصاب کا حصہ بنانے کا کوئی تصور نہیں ہے‘‘۔

مزید : کالم