رائیونڈ کی طرف مارچ ضرور کریں لیکن۔۔۔؟

رائیونڈ کی طرف مارچ ضرور کریں لیکن۔۔۔؟
رائیونڈ کی طرف مارچ ضرور کریں لیکن۔۔۔؟

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

17 ویں اور18ویں صدی عیسوی میں امریکہ اگرچہ108 سال پہلے1492ء میں دریافت ہو چکا تھا لیکن عالمی بساطِ سیاست میں اس کا کوئی رول نہ تھا جبکہ روس اور برطانیہ اُن ایام میں بھی دو قابلِ لحاظ عسکری قوتیں تسلیم کی جاتی تھیں۔1801ء میں19ویں صدی کا آغاز ہوا تو بھی روس اور برطانیہ نے اپنی اپنی نو آبادیات کی توسیع جاری رکھی۔ اسی صدی کے وسط 1861-65)ء( میں امریکہ میں خانہ جنگی ہوئی جس میں پہلی بار امریکیوں کو ایک عسکری قوت کے طور پر خود کو منوانے کا خیال آیا۔ اُس صدی میں بھی برطانیہ نے روس کو دریائے آمو عبور کر کے افغانستان میں داخل ہونے سے روکے رکھا۔ تاریخ میں اس کشمکش اور تگ و دو کو ’’گریٹ گیم‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے۔ برطانیہ نے بحری قوت اور عیارانہ سفارت کاری میں روس کو مات دے دی اور افغانستان کو ایک بفر سٹیٹ تسلیم کروا لیا۔ لیکن جب دوسری جنگِ عظیم میں برطانیہ ایک تیسرے درجے کی عسکری قوت بن کے رہ گیا تو روس، سوویت یونین بن چکا تھا۔ اس نے گریٹ گیم کا ایک نیا ایڈیشن نکالا اور 25دسمبر 1979ء کو دریائے آمو عبور کر کے اپنی افواجِ قاہرہ کو افغانستان میں داخل کر دیا۔ اب سوویت یونین کے مقابل کوئی برطانیہ نہیں تھا۔ پاکستان کو روند کر سوویت ٹروپس کا بحیرۂ عرب میں داخل ہو جانا عین ممکنات میں سے تھا۔ لیکن تاریخ کے اس نازک موڑ پر پاکستان کی بساطِ حکومت پر جنرل ضیا الحق نمودار ہوئے اور انہوں نے سوویت فورسز کو روکنے کا عزم کر لیا۔ پاکستان کی پشت پر امریکی اسلحہ، گولہ بارود اور سرمایہ تھا۔ چنانچہ پہلی بار افغانستان میں افغان مجاہدین کے نام پر ایک بڑے پیمانے کی پراکسی وار لڑی گئی۔ اس کے دو نتائج نکلے جو ایک دوسرے کی ضد تھے!

پہلا نتیجہ یہ نکلا کہ پاکستان نے اپنے آنگن میں دُنیا بھر کے جہادیوں کو اکٹھا کر کے اپنے مستقبل کی سلامتی کو داؤ پر لگا دیا جس کا خمیازہ ہم آج بھی بھگت رہے ہیں۔ اس پراکسی وار کا یہ پہلو آخر کار پاکستان کے لئے تقریباً جان لیوا اور تباہ کن ثابت ہوا، لیکن ایک دوسرا پہلو جو پاکستان کے حق میں سامنے آیا وہ افغان جہاد کی دھند میں پاکستان کے جوہری پروگرام کی تعمیر و تشکیل تھی۔ علاوہ ازیں انہی برسوں کے لگ بھگ دُنیا میں ایک ایسا انقلاب بھی پیدا ہوا جس نے سٹرٹیجک عالمی توازنِ قوت کو درہم برہم کر دیا۔۔۔۔ یہ انقلاب نئے چین کا جنم تھا!۔ اس انقلاب نے نہ صرف یہ کہ چین کو ایک تیسری عالمی قوت بنا دیا بلکہ جوہری پاکستان کی سٹرٹیجک لوکیشن کے طفیل اسلامی دُنیا کے ممالک میں ریاستِ پاکستان کے لئے عظیم ترین اسلامی مُلک ہونے کے دروازے بھی کھول دیئے۔

جو گریٹ گیم19ویں صدی میں ناکام ہو گئی تھی اور پھر20ویں صدی میں بھی دوسری بار ناکامی سے دوچار ہوئی، اس کی کامیابی کے آفاق وا ہو گئے۔ قدرت نے جس طرح 1970ء کے عشرے کے وسط سے لے کر 1980ء کے عشرے کے وسط تک جنرل ضیا الحق کو یہ موقع عطا کیا کہ وہ پاکستان کو جوہری قوت سے ہمکنار کر دیں اور جنرل مشرف کو یہ چانس ملا کہ وہ مملکتِ خداداد کو میزائیلی قوت سے لیس کر دیں، اسی طرح قدرت نے اکیسویں صدی کے تین برسوں 2013)ء تا 2016ء( میں جنرل راحیل شریف کو پاکستان آرمی کی قیادت سونپی اور ساتھ ہی میاں نواز شریف کو بھی اپنی سابقہ روش سے ہٹ کر مُلک کی مسلح افواج کی ہاں میں ہاں ملانے کی توفیق اور موقع ارزانی فرمایا۔۔۔ یہ مولا کریم کی اپنی حکمتیں ہیں۔ ان میں انسانی جمع تفریق کو دخل نہیں ہوتا!

پھر اقتصادی راہداری کا چین اور پاکستان کا مشترکہ منصوبہ(CPEC)جنوبی ایشیائی خطے کی تاریخ میں ایک ایسے نازک موقع پر منصہ شہود پر جلوہ گر ہوا جب پاکستان کو طرح طرح کے اندرونی اور بیرونی خطرات کا سامنا تھا۔ (اور اب بھی ہے)۔۔۔ یہ سی پیک گویا گریٹ گیم کا تیسرا ایڈیشن ہے۔۔۔ پہلے ایڈیشن میں برطانیہ، روس کا مقابل تھا۔ دوسرے ایڈیشن میں امریکہ اور روس مقابل تھے اور تیسرے ایڈیشن میں ایک طرف چین اور پاکستان ہیں تو دوسری طرف امریکہ، افغانستان، بھارت، مغربی یورپ اور ایران مقابل ہیں۔ یعنی گزشتہ دونوں ایڈیشنوں کے مقابلے میں گریٹ گیم کا یہ تیسرا ایڈیشن انتہائی وسیع و عریض، اہم لیکن ولولہ انگیز ہے۔ 1979-89ء کے افغان جہاد کے برعکس اب پاکستان نے چین کو بحیرۂ عرب تک لانے میں جو کردار ادا کرنا ہے وہ نہ صرف پاکستان کی بقاء کے لئے اہم ترین ہو گا بلکہ اگر مسلم اُمہ نے اپنی کسی نشاۃ ثانیہ کا نظارہ کرنا ہے تو وہ سی پیک کی کامیاب تکمیل ہی پر منحصر ہو گا!ماضی میں تو روس اور سوویت یونین کو گرم پانیوں کی تلاش تھی لیکن چین کے لئے بحرالکاہل کا مغربی کنارا، گرم پانیوں کے طور پر پہلے سے موجود ہے۔ ساؤتھ چائنا سمندر (Sea) سے جنوب اور پھر مغرب کی طرف چلیں تو بحیرۂ عرب تک کا ہزاروں میل کا سمندری سفر ہے جس کو طے کر کے چین نے بحرہند،بحر اوقیانوس، خلیج فارس، بحیرۂ احمر اور راس امید وغیرہ تک آنا جانا ہے۔ اس موضوع پر قارئین نے بہت کچھ پڑھ رکھا ہے۔ مَیں صرف ان کی خدمت میں پاکستان اور چین کے خلاف امریکہ کی ایک نئی گھناؤنی چال کا انکشاف کرنا چاہوں گا جو بہت جلد امریکہ اور بھارت کی ملی بھگت سے سامنے آنے والی ہے!

سات ستمبر2016ء کو عالمی پریس میں یہ خبر شائع ہوئی کہ امریکہ، بھارت کو22عدد ایسے ڈرون دے رہا ہے جو ’’پریڈیٹر گارڈین ڈرون‘‘ (Predator Guardian Drone)کہلاتے ہیں۔ یہ قسم ان ڈرونوں کی ایک جدید قسم ہے جو پورے بحر ہند کو ایک سرے سے لے کر دوسرے سرے تک کھنگال سکتی ہے۔ یہ ڈرون عموماً 40،50ہزار فٹ کی بلندی پر اڑتا ہے اور اس کو مار گرانا بحر ہند کی ساحلی قوتوں (Littorals) کے بس کا روگ نہیں۔ تین ماہ پہلے امریکہ نے بھارت کو اپنا سٹرٹیجک پارٹنر ڈکلیئر کیا تھا اور ایک معاہدہ بھی کیا تھا جس کی رو سے دونوں ممالک ایک دوسرے کی بندرگاہی تنصیبات اور فضائی مستقروں سے مستفیض ہو سکتے ہیں۔ لیکن بھارت نے امریکی بندرگاہوں اور فضائی مستقروں تک کہاں جانا ہے، اصل فائدہ تو امریکی بحریہ اور فضائیہ کو ہو گا!

سوال کیا جا سکتا ہے کہ بھارت کو اچانک ان دو درجن انتہائی جدید اور مہنگے ڈرونوں کی کیا ضرورت پڑ گئی تھی؟۔۔۔کیا اسے بنگلہ دیش، سری لنکا اور پاکستان کی بحریاؤں (Navies) سے کوئی خطرہ تھا؟۔۔۔ اگر نہیں تو بھارت یہ22 پریڈیٹر گارڈین ڈرون کیوں خرید رہا ہے اور امریکہ اسے کیوں دے رہا ہے؟۔۔۔ اِس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔

امریکہ نے بڑی عیاری سے میڈیا پر یہ خبر دے دی ہے کہ ان ڈرونوں کی بھارت کو ضرورت ہے کیونکہ مستقبل قریب میں جب چینی بحری جہازوں (بالائے آب اور زیر آب) کا ٹریفک بحر ہند میں بڑھ جائے گا تو اس بحری ٹریفک کی سروے لینس کی ضرورت ہو گی۔ لیکن دراصل یہ سروے لینس بھارت کو نہیں، امریکہ کو درکار ہو گی! اور یہ ڈرون بھارت نے نہیں مانگے بلکہ امریکہ نے ’’بدو بدی‘‘ اسے دیئے ہیں اور چین کے کمرشل بحری ٹریفک کو غیر محفوظ کرنے کے لئے دیئے ہیں۔ ان ڈرونوں کی ادائیگی بھارت نہیں کرے گا بلکہ امریکہ خود کرے گا۔۔۔۔ یعنی فروخت کرنے والا بھی امریکہ اور خریدنے والا بھی امریکہ۔۔۔

قارئین کو یاد ہوگا کہ جب جون 2016ء میں مودی صاحب، صدر اوباما سے وائٹ ہاؤس میں ملے تھے اور دونوں ملکوں کی ساحلی تنصیبات کو استعمال کرنے کا معاہدہ ہوا تھا تو اسی ماہ جون کے آخر میں انڈین نیوی نے امریکہ کو ان 22ڈرونوں کی ڈیمانڈ بھیج دی تھی لیکن ڈیمانڈ کا بھیجنا یا نہ بھیجنا تو صرف ایک دکھلاوا ہے وگرنہ جب میاں بیوی راضی ہوں تو قاضی کی کیا ضرورت ہوتی ہے؟

بحر ہند کے اس خطے میں امریکی دلچسپی کی واحد وجہ چین ہے۔ ڈیگو گارشیا بحر ہند میں ایک بڑا امریکی بحری مستقر ہے۔ وہاں ہی سے ان ڈرونوں کو کنٹرول کیا جائے گا۔ میرے خیال میں ان کا ہیڈ کوارٹر اِسی ڈیگو گارشیا میں ہوگا اور ذیلی سٹیشن (Sub Stations) بھارت کی بندر گاہوں میں تعمیر کئے جائیں گے۔ ان میں بھارتی عملہ برائے نام ہوگا۔ اصل کام امریکی کاریگر، انجینئر اور سائنس دان کریں گے۔ ڈرونوں کی مدد سے کسی بڑے سمندر کی یہ سروے لینس ایک بالکل نئی کوشش ہو گی۔ اور امریکہ چاہے گا کہ ان ڈرونوں میں نصب جدید ترین کیمروں اور دوسرے راڈاری آلات کی مدد سے چینی (یا روسی) بحری جہازوں اور آبدوزوں کی تفصیلی اور کڑی نگرانی کر سکے۔ یہ ڈرون، بھارتی بحریہ کی میری ٹائم سروے لینس کے لئے ایک قوت افزاء (Force Multiplier)کا کام دیں گے۔

امریکہ نے سی پیک کے اس منصوبے کو سبوتاژ کرنے کے لئے ایک بڑا جال پھیلایا ہوا ہے اور آئندہ بھی مزید ایسے جال پھیلائے گا۔ افغانستان میں 10 ہزار سے زیادہ امریکی ٹروپس کی موجودگی، کلبھوشن جیسے جاسوسوں کو لانچ کروانا،پاکستان کے سپیشل سیکیورٹی ڈویژن پر بلوچ علیحدگی پسندوں کے حملے اور افغانستان میں بھارتی انٹیلی جنس کو پاکستان کے خلاف منظم اور صف آرا کرنا ان چند اقدامات کا ثبوت ہے جو آج امریکی ایڈمنسٹریشن خود بروئے کار لا رہی ہے یا بذریعہ اپنے دیگر حواریوں کے روبہ عمل لاتا دیکھنا چاہتی ہے۔ پاکستان کے سپیشل سیکیورٹی ڈویژن کو 2015ء میں تشکیل کیا گیا تھا۔ اب تک اس پر جو حملے کئے گئے ہیں ان میں 44 پاکستانی کاریگروں، مزدوروں اور انجینئروں کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔ خوش قسمتی سے ان میں چین کا کوئی انجینئر یا کاریگر شامل نہیں۔ اس ڈویژن کا ہیڈ کوارٹر چلاس (گلگت بلتستان) میں ہے۔ اس کی 9 انفنٹری بٹالین ہیں جن کی نفری 9000 ہے اور 6 نیم مسلح ونگ ہیں جن کی 6000 کی نفری مل کر 15000 کی تعداد بن جاتی ہے۔ یہ لوگ جان ہتھیلی پر رکھ کر سی پیک پر مامور نفری کی سیکیورٹی کے فرائض انجام دے رہے ہیں۔

اب آیئے ملک کی موجودہ داخلی سیاسیات کی طرف۔۔۔جب پاکستان کے مستقبل کی خوشحالی یا بدحالی کا دارو مدار سی پیک کی کامیاب یا ناکام تکمیل سے جڑا ہوا ہو تو میرا خیال ہے ہمیں ہوش کے ناخن لینے چاہئیں۔۔۔ یہ درست ہے کہ موجودہ حکومت کے بہت سے امور و معاملات عوام کو ناپسند ہیں۔ اپوزیشن کا یہ جمہوری حق ہے کہ وہ احتجاج کی کال دے۔ لیکن اگر گزشتہ ساڑھے تین برسوں میں ان کالوں سے کچھ نہیں بگڑا تو اب کیا بگڑے گا؟ ڈیڑھ برس مزید انتظار کر لیں۔ اگر رائے ونڈ کی طرف مارچ کرنے کا مقصد حکومت کا تختہ الٹنا ہے تو یہ کام نا ممکن ہے۔ البتہ اگر حکومت کو عوام کی نگاہوں میں زچ کرنا یا اس کی ناکامیاں اور خامیاں منظر عام پر لانا ہے تو ضرور لائیں لیکن کیا ہی اچھا ہوتا اگر امریکہ کی طرح ہمارے ہاں بھی الیکشن سے ایک سال پہلے انتخابی مہم شروع ہو جایا کرتی۔ لیکن اپنے ہاں تو اِدھر انتخابات ہوئے اور حکومت نے حلف اٹھایا تو اُدھر اگلے روز اس کے خلاف مہم شروع ہو گئی۔۔۔ اور پھر پانچ سال تک یہ مہم چلتی ہی رہی!

ان احتجاجی دھرنوں، جلسوں اور ریلیوں پر کروڑوں کا خرچ اُٹھتا ہے،جو لوگ یہ سرمایہ کاری کرتے ہیں انہوں نے آخر حساب تو برابر کرنا ہے۔ مجھے بتائیں کہ یہ حساب کیسے برابر ہو گا؟ کاش یہ رقوم کسی تعمیری یا فلاحی کاموں/ منصوبوں پر صرف کی جاتی!

ایک طرف ہمارے بیرونی دشمن ادھار کھائے بیٹھے ہیں کہ پاکستان کو غیر مستحکم کرنا ہی کرنا ہے اور دوسری طرف اگر ’’اندرونی دوست‘‘ بھی باہر والوں کا ساتھ دیں تو کیا اس سے پاکستان کا کوئی فائدہ ہوگا؟ ۔۔۔ اس سوال پر ہمیں غیر جذباتی ہو کر سوچنا چاہئے۔ آپ بے شک حکومت کے خلاف اپنے جذبات کا اظہار کریں لیکن یہ نہ بھولیں کہ ان جذبات کا فال آؤٹ ہمارے لانگ ٹرم ملکی مفادات کی راہ میں حائل نہ ہو۔۔۔ جو ہو رہا ہے!!

مزید : کالم