عید پر مسافروں سے زائد کرائے کی وصولی

عید پر مسافروں سے زائد کرائے کی وصولی

عید کے موقع پر بڑی تعداد میں ’’پردیسی‘‘ اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے بسوں، ویگنوں اور ریل گاڑیوں کے ذریعے سفر کرتے ہیں، تو اُنہیں مالی استحصال اور سخت ذہنی اذیت برداشت کرنا پڑتی ہے۔ بس اور ویگن کے اڈوں پر کئی روز پہلے ہی ’’ہاؤس فل‘‘ اور ’’کوئی سیٹ نہیں‘‘ کے کتبے آویزاں ملتے ہیں۔ سفر دُور کا ہو یا قریب کے شہر کا، مسافروں کی مجبوری کا فائدہ اٹھاتے ہوئے 50،60روپے سے لے کر ڈیڑھ دو سو روپے زائد وصول کر کے ٹکٹ دیئے جاتے ہیں ورنہ سفر کرنے والے ’’رل‘‘ جاتے ہیں۔ اکثر یہ عذر پیش کرتے ہیں کہ ڈرائیوروں اور کنڈکٹر وں کو معمول سے زیادہ پھیرے لگانا پڑتے ہیں ، چنانچہ اُنہیں اوور ٹائم دینا پڑتا ہے۔اکثر اوقات تو سیدھی بات کی جاتی ہے کہ مالکان، ڈرائیوروں اور کنڈکٹروں کو بھی ’’عیدی‘‘ چاہئے۔ یوں مختلف بہانے اور عذر پیش کر کے مسافروں کو زائد کرایہ ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ ہزاروں بسوں اور ویگنوں میں سے گنتی کی چند بسوں اور ویگنوں کے مسافروں کی سُنی جاتی ہے تو ہائی وے اور موٹروے پر شکایت کا نوٹس لیا جاتا ہے اور مسافروں کو زائد کرایہ واپس مل جاتا ہے،ورنہ یہ دھندہ چلتا رہتا ہے، دیہات اور قصبوں میں تو بسوں کی چھتوں پر لوگ سفر کرنے پر مجبور ہوتے ہیں اور بس کے اندر لوگوں کو ٹھونسا جاتا ہے۔ اس مسئلے کا اعلیٰ سطح پر حکومت کو نوٹس لینا چاہئے، بلیک میں ٹکٹوں کی فروخت بند کرائی جائے، زائد کرایہ وصول کرنے والوں کو سخت سزا ملنی چاہئے۔ اگرچہ پاکستان ریلوے کی طرف سے ہر مرتبہ کئی عید سپیشل ٹرینیں چلائی جاتی ہیں، ریلوے کی عید سپیشل ٹرینوں کے باوجود بس اڈوں پر بہت زیادہ رش موجود رہتا ہے، کیونکہ عورتوں بچوں سمیت مسافروں کی تعداد بہت زیادہ ہوتی ہے یہ مسئلہ اِس لئے بھی سنگین ہو چکاہے کہ اس پر سنجیدگی سے توجہ نہیں دی گئی۔ عید کا سفر اذیت کی بجائے خوشگوار بنانے کے لئے باقاعدہ مہم چلانے کی ضرورت ہے۔ متعلقہ محکموں کو اپنی ذمہ داری کا احساس ہونا چاہئے۔

مزید : اداریہ