اما مِ کعبہ کا دِل نشین خطبۂ حج اور ہماری زندگیاں

اما مِ کعبہ کا دِل نشین خطبۂ حج اور ہماری زندگیاں

دُنیا بھر کے لاکھوں مسلمانوں نے میدانِ عرفات میں جمع ہو کر حج کا رُکنِ اعظم ادا کردیا اور یوں فریضۂ حج کی تکمیل کا ایک اہم ترین مرحلہ مکمل کر لیا۔ میدانِ عرفات میں حج کی ادائیگی کے لئے آنے والے مسلمانوں سے خطاب کرتے ہوئے مسجدِ نمرہ سے اپنے خطبۂ حج میں امامِ کعبہ شیخ عبدالرحمن السدیس نے مسلمانوں کو تلقین کی کہ وہ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے اسوۂ حسنہ کو اپنی زندگیوں پر نافذ کریں۔ آپؐ نے جو احکامات دیئے اُن پر عمل کریں اور جن باتوں سے منع فرمایا اُن سے رُک جائیں۔ انہوں نے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ دُنیا کے جدید فتنوں، شدت پسندی اور دہشت گردی سے بچیں اور اللہ رب العزت کی رسّی کو مضبوطی سے پکڑ لیں، دہشت گردی کا اسلام اور مسلمانوں سے کوئی تعلق نہیں،اسلام کو تمام مذاہب پر برتری حاصل ہے۔انہوں نے مسلمان ممالک کے میڈیا سے کہا کہ وہ اسلام کی سربلندی کے لئے اپنا کردار ادا کرے اور دین کی تبلیغ کے لئے میدان میں آئے۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو حق اور سچے لوگوں کا ساتھ دینا چاہئے ایسے لوگوں کا ساتھ دیا جائے، جو شرک و بدعات سے بچتے اور رسول اللہؐ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہیں۔ انہوں نے علمائے کرام سے کہا کہ وہ انبیاء کے وارث ہیں اُن پر آج سب سے زیادہ ذمے داری عائد ہوتی ہے، اپنی قوموں کو اسلامی تعلیمات پر چلانے کے لئے علماء کو کر دار ادا کرنا چاہئے۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ وہ گروہ بندی سے بچیں،چیلنجوں سے نپٹنے کے لئے اُمت مسلمہ کو متحد ہونا ہو گا۔ انہوں نے حضور اکرمؐ اور خلفائے راشدین کی زندگیوں کو مشعلِ راہ بنانے کی تلقین کی۔ خطبۂ حج کے بعد شیخ عبدالرحمن السدیس نے دُعا کی کہ اللہ تعالیٰ اسلام اور مسلمانوں کو عزت عطا فرمائے، انہوں نے مسلمانوں کی قیادت کے لئے بھی دُعا کی۔آج اُمتِ مسلمہ جس کٹھن دور سے گزر رہی ہے ایسا وقت اُس پر اِس سے پہلے شاید ہی آیا ہو۔ مسلمان ممالک میں مسلمانوں کی زندگیاں اپنوں اور غیروں کی چیرہ دستیوں سے اجیرن ہو چکی ہیں، غیر مسلم تو مسلمانوں کے خلاف، جو کچھ حیلوں بہانوں سے کر رہے ہیں وہ تو سمجھ میں آنے والی بات ہے اور بعید نہیں کہ وہ مسلمان ممالک کو تاراج کرنے کا سلسلہ دراز کرتے چلے جائیں، لیکن خود اسلام کے نام لیواؤں کو کیا ہو گیا ہے کہ انہوں نے مسلمانوں کا خون اپنے اوپر مباح قرار دے لیا ہے، اللہ تعالیٰ کے آخری رسولؐ کا ارشادِ پاک ہے کہ ہر مسلمان پر دوسرے مسلمان کا خون اور جان و مال حرام ہے، اپنے آخری خطبۂ حج میں یہ تلقین فرمائی تھی جسے امامِ کعبہ نے اپنے خطبہ میں دھرایا، لیکن آج کی مسلمان دُنیا جن فتنوں میں سے گزر رہی ہے وہ اُن لوگوں کے پیدا کئے ہوئے ہیں، جو اسلام کا نام لیتے اور اسلام کے نام پر اللہ کے بندوں کا خون بہاتے ہیں، دہشت گردوں کے ہاتھوں آج مساجد محفوظ نہیں، ہسپتال اور تعلیمی ادارے محفوظ نہیں، عام لوگوں کی تفریح گاہیں اور اُن کے بازار محفوظ نہیں، امامِ کعبہ نے مسلمان اُمت کے نوجوانوں کو خبردار کیا ہے کہ جو فتنے ان کی جانب بڑھ رہے ہیں وہ نہ صرف خود اُن سے بچیں، بلکہ اپنے اہل وعیال اور عزیزوں دوستوں کو بھی محفوظ رکھنے کے لئے اقدامات کریں۔

امامِ کعبہ نے نوجوانوں کو اگر فتنوں سے بچنے کی تلقین کی تو اِن سے بچنے کا طریقہ بھی بتایا، بنیادی بات تو یہ ہے مسلمان خود کو اسلام کے لئے وقف کر دیں اور اسلامی تعلیمات کو اپنی زندگیوں کا حصہ بنا لیں، شرک ظلمِ عظیم ہے اس سے بچیں اور بدعات سے اجتناب کریں۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے درمیان جس طرح زندگی گزاری اور آپؐ کے بعد خلفائے راشدین نے جس طرح آپؐ کی تعلیمات پر عمل کیا اُس پر عملدرآمد کر کے فتنوں سے بچا جا سکتا ہے۔ انہوں نے عالم اسلام کے میڈیا سے بھی کہا ہے کہ وہ تبلیغ دین کے لئے اپنا کردار ادا کرے، کیونکہ آج کے دور میں میڈیا سے کام لے کر ہی دین اسلام کا پیغام دُنیا بھر میں پہنچایا جا سکتا ہے۔ امامِ کعبہ نے اپنے خطبۂ حج میں علمائے کرام کو بھی تلقین کی کہ وہ اپنی اپنی قوموں کو اسلامی تعلیمات پر چلانے کے لئے کردار ادا کریں، کیونکہ وہ انبیا کے وارث ہیں۔ علماء پر جو عظیم ذمے داری اسلام نے عائد کی ہے مقامِ افسوس ہے کہ وہ اِس سے پوری طرح آگاہ نہیں اور انہوں نے اسلام کی بنیادی باتوں کو چھوڑ کر فروعات کو اپنا لیا ہے اور اپنے کردار و عمل کے ذریعے اُمت کے اتحاد کا باعث بننے کی بجائے افتراق اور افراتفری پھیلانے کا ذریعہ بن رہے ہیں۔ دہشت گرد بھی اسلام ہی کے نام پر نوجوانوں کو گمراہ کر کے اُنہیں خود کش بمبار بنا رہے ہیں اور اسلام کا امن کا پیغام پھیلانے کی بجائے بدامنی کے نقیب بن کر دُنیا بھر میں دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہے ہیں اور مخالفین کو مسلمانوں کے خلاف کارروائیوں کا جواز مہیا کر رہے ہیں۔

ابو الانبیاء حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دُعائے مستجاب کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے مکہ مکرمہ کو شہر امن بنایا، لیکن بدقسمتی کی بات ہے کہ اِس شہرِ امن میں بھی مسلمانوں کی اپنی بدنظمی اور بے تدبیریوں کے باعث مِنیٰ میں بھگدڑ جیسے واقعات میں سینکڑوں حاجی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔ گزشتہ برس کا سانحہ آج بھی مسلمانوں کے دِلوں میں تازہ ہے، لیکن دیکھنے کی بات یہ ہے کہ حج کے بہترین انتظامات کے باوصف شیطانوں کو کنکریاں مارتے وقت مسلمان بدنظمی کا شکار کیوں ہو جاتے ہیں؟ اور آمدو رفت کے لئے جو راستے مقرر کئے جاتے ہیں اُن کی پابندی سے گریز کیوں کرتے ہیں؟ جس راستے سے گزرنا ممنوع ہے وہاں سے کیوں گزرتے ہیں؟آتشزدگی کی وارداتوں کی وجہ سے حکام نے خیموں میں چولہے لے جانے پر چند سال سے پابندی عائد رکھی ہے، لیکن شنید ہے کہ اب بھی بعض لوگ چُھپ چھپا کر یا بے خبری کی وجہ سے چولہے لے جاتے ہیں۔اُنہیں سعودی حکام کی فراہم کردہ خوراک بھی ’’لذیذ‘‘نہیں لگتی، اِس لئے وہ اپنا انتظام کرتے ہیں۔ایسے واقعات کی بنیاد پر سعودی حکومت کے خلاف پروپیگنڈے کا جو طوفان اُٹھا دیا جاتا ہے اس کی کوئی بنیاد نہیں، بدنظمی کی وجہ غالباً یہ بنتی ہے کہ دُنیا بھر سے حجاج ایک ہی مقام پر جمع ہوتے ہیں اور ان لاکھوں لوگوں کی زبانیں بھی مختلف ہوتی ہیں، بہت سی باتیں بے خبری میں ہو جاتی ہیں، ضرورت اِس بات کی ہے کہ سعودی حکام ہدایات کے بورڈ دُنیا کی بڑی بڑی زبانوں میں لکھ کر ان مقامات پر نصب کریں اور جس جس مُلک سے حاجی آتے ہیں وہاں کی حکومتوں کے تعاون سے حاجیوں کی تربیت کے بہتر انتظامات کئے جائیں۔ پاکستان میں حاجیوں کی تربیت کا جو اہتمام کیا جاتا ہے اُسے وسیع کرنے کی ضرورت ہے اور تربیت کو محض خانہ پُری کا ذریعہ نہیں سمجھنا چاہئے۔ حجاج اس میں پوری دلچسپی لیں اور اس امر کا اہتمام کریں کہ دورانِ حج اُنہیں جس جس مقام پر جانا ہے وہاں اُنہیں کس طرح کا طرزِ عمل اختیار کرنا ہے۔ اگر حجاج نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں گے، تو امید ہے بھگدڑ جیسے واقعات کم ہو جائیں گے۔بنیادی طور پر تو حج مسلمانوں کو اپنی زندگیاں بدلنے کا موقع فراہم کرتا ہے اور مسلمانوں پر زندگی میں ایک ہی بار فرض ہے، لیکن کئی کئی بار حج کرنے کے باوجود اگر حاجی دوسروں کے لئے بہترین نمونہ نہیں بنتا تو پھر غور کا مقام یہ ہے کہ اُس کی زندگی آخر کیوں نہیں بدلتی، ہر سال امام صاحب کی نصیحت آموز باتیں اُس کے دِل پر اثر کیوں نہیں کرتیں اور کئی کئی برس تک دِل نشین تقریریں سننے کے باوجود ہماری زندگیوں میں تبدیلی کیوں نہیں آتی؟

مزید : اداریہ