خواہشات کی غلامی بھی انسان کے ضمیر کو مار ڈالتی ہے،عطاالحق قاسمی

خواہشات کی غلامی بھی انسان کے ضمیر کو مار ڈالتی ہے،عطاالحق قاسمی

لاہور(فلم رپورٹر)پاکستان ٹیلی ویژن کے ہر دل عزیز پروگرام ’’کھوئے ہووٗں کی جستجو‘‘ میں اظہارِ خیال کرتے ہوئے معروف ادیب ،شاعر اور کالم نگارعطاالحق قاسمی نے کہا کہ جس دل میں خواہش یا آگے بڑھنے کی جستجو نا ہو وہ قبرستان ہوتا ہے مگرخواہشات کی غلامی بھی انسان کے ضمیر کو مار ڈالتی ہے اور جب ضمیر ہی مردہ ہو جائے تو انسانیت نا پید ہونا شروع ہو جاتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ خواہشات کی غلامی میں طمع اور لالچ انسان کو رات و رات امیر ہونے کیلئے اکساتے رہتے ہیں ۔مگر قناعت انسان میں صبر و شکرکا جزبہ موجزن کرکے معاشرے میں پیار اور اخوت کو جنم دیتی ہے ۔انہوں نے کہا کہ جوٹی وی چینل یا ڈائریکٹرز اپنے ڈراموں میں مغربی معاشرے اور امرأکی چکاچوند اور پر آسائش زندگی دکھا کر غریبوں کے بچوں میں ایسی خواہشات کو جنم دیں جنہیں وہ جائز طریقے سے پورا نا کر سکیں تو وہ بھی ایک قسم کی دہشت گردی کا ارتکاب کر رہے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ ان کا بہت سا وقت یورپ ،امریکہ اور ترقی یافتہ ممالک میں گزرا مگر اپنے ڈراموں یا تحریروں میں انہوں نے پر آسائش زندگی گزارنے والے کرداروں کی بجائے سفید پوش اور غریب طبقے کے کرداروں کو اہمیت دی ۔

پروگرام کے مہمان عطاالحق قاسمی نے قناعت کے موضوع پر گفتگو کرتے ہوئے اپنے والد کی سیکریٹری اسلامک سینٹر کو لکھی ایک درخواست کا بھی ذکر کیا جس میں انہوں نے اپنی تنخواہ کم کرنے کی التجا کی تھی ۔ پروگرام "کھوئے ہووٗں کی جستجو"کی مقبولیت میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔معاشرے میں مثبت رجحان کی ترغیب کیلئے یہ پروگرام بہت اہم کردار ادا کر رہا ہے ۔

اس پروگرام کی میزبان فائزہ بخاری کا دلچسپ انداز بھی ناظرین کیلئے کشش کا باعث بن رہا ہے ۔پروگرام میں خود ساختہ دانشور ابرار ندیم کی مداخلت اور اعزاز سہیل کے نغمے بھی اسے دلچسپ بناتے ہیں۔پروگرام "کھوئے ہووٗں کی جستجو" پروڈیوسر عمر خان کی پیشکش ہے جو بڑی ذمہ داری سے اپنے فرائض انجام دے رہے ہیں اور ان کی معاونت مشا عمر خواجہ کر رہی ہیں ۔

مزید : کلچر