اقوام متحدہ کے ادارہ ایف ائے او کا موثر کردار ہے

اقوام متحدہ کے ادارہ ایف ائے او کا موثر کردار ہے

پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور بہترین موسموں کی نعمت سے مالا مال جنت نظیر پاکستان میں قدرت نے بیش بہا انعامات کا خزانہ ایسی زمین عطا کر رکھی ہے جہاں اگر دنیا کی بہترین سبزیوں کی بات کی جائے تو پنجاب کے وسطی علاقے اور سندھ کے گوٹھ پاکستان کی اعلی کوالٹی کی پہچان ہیں ، جبکہ گندم کی فصل سے لدے کھیت سونا اگلتے کھلیان اور دنیا کی بہترین اقسام کا چاول ہو یا پھر دنیا کے عمدہ نسل کے آم اور دیگر پھل ، غرض نعمت خداوندی سے مالا مال پاکستان میں زراعت کے شعبہ کی اہمیت سے کسی صورت انکار نہیں کیا جا سکتا، لیکن کیا اس خطے میں پاکستان جیسے موسموں اور نعمتو ں کے حامل ملک میں ایسا انفراسٹرکچر فراہم کیا گیا کہ یہاں کا کسان خوشحال ہو اور وہ ملک کی ترقی کا نشان بن سکے، شائید ایسا مشکل ہوکیونکہ رواں سال بھی کسان کی ترقی کے لئے دعووں سے بڑھ کر کچھ سامنے نہیں آ سکا اور حکومت کی جانب سے کسان کو ترقی دینے کی بجائے اس پر بہت سے ٹیکس لگا کر کسان کو مزید دبا دیا گیا ہے، شائید آئندہ سالوں میں کسان کی ترقی اور زراعت اور لائیو سٹاک کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے حکومت کی جانب سے اس سب سے بڑی انڈسٹری اور پاکستان میں ستر فیصد سے زائد روزگار فراہم کرنے والی انڈسٹری کے لئے اقدامات کا اعلان ممکن ہو سکے، لیکن اس کے برعکس پاکستان کی اہمیت کے پیش نظر اقوام متحدہ ادارہ برائے خوراک و زراعت کے زریعے پاکستان میں پھلوں کی اعلی نسلیں اور فی ایکٹر پیداوار میں اضافے سمیت سبزیوں کے بیجوں کی فراہمی اور خوراک و زراعت کے شعبے کی ترقی کے لئے فنڈز مہیا کر رہا ہے، حال ہی میں اقوام متحدہ کے ادارہ برائے خوراک و زراعت(ایف اے او) نے خیبر ایجنیسی اور جنوبی وزیرستان سے نقل مکانی کر کے واپس جانے والے اکیس ہزار سے زائد خاندانوں کو امریکی ایجنیسی برائے انٹرنیشنل ڈویلپمنٹ (یو ایس ایڈ ) کے تعاون سے فراہم کی ہے،تاکہ پاکستان میں شمالی علاقہ جات اور خاص کر قبائلی علاقوں میں کسان کو بہتر پیداوار کے زریعے خوشحالی کی منزل کی جانب گامزن کیا جا سکے، اس امداد کا مقصد کسان کو زیادہ فصل کے حصول سے ترقی دلوا کر خوراک کے مسائل کو حل کرنے میں مدد دینا اور روزگار کے وسیع مواقع پیدا کرنا ہے ،اقوامِ متحدہ کے ادارہ ایف ائے او کے کنٹری ہیڈ پاکستان پیٹرک ٹی ایوانز نے روزنامہ پاکستان سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ یہ اہم سنگ میل ہے جو یو ایس ایڈ کی باہمی کوششوں سے دسمبر2016ء تک مکمل کر لیا جائے گا تاکہ جنگ زدہ علاقوں میں پچپن ہزار متاثرہ خاندانوں کے چار لاکھ سے زائد افراد کو لائیو سٹاک اور خوارک و زراعت کے مسائل کو حل کرنے کے ساتھ ساتھ ان کی معاشی حالت کو بہتر بنانے میں مدد کی جاسکے۔انہوں نے بتایا کہ اس پروگرام کا مقصد جنگ سے متاثرہ علاقوں میں ربیع اور خریف کی فصلوں کے لئے معاونت، پھلوں کی نرسریوں کے قیام کے لئے اقدامات اور پانی کی بحالی کے لئے انتظام او انصرام سمیت جانوروں کے لئے ویکسینیشن کے مراحل اور چارے اور فوڈ سپلیمینٹ کی بروقت ضرورت کو پورا کرنے اورہزاروں کسانوں کو زرعی سہولیات پہنچانے سمیت معاونین کے لئے ٹریننگ پروگرامز کے انعقاد سے مقامی کسانوں کو ایک بار پھر عام زندگی میں لانا ہے تاکہ کسان معاشی طور پر مضبوط ہو کر اپنے خاندان کا بوجھ اٹھا سکیں۔غرض پاکستان میں آئندہ سالوں میں شمالی علاقہ جات میں پھلوں کی بہترین نرسریوں کے قیام اور جنوبی اور وسطی پنجاب میں فصلوں کی ترقی اور فی ایکڑ پیداوار میں اضافے کے لئے اقوام متحدہ کا ادارہ ایف ائے او کثیر سرمایہ کاری اور آسان زرعی فنڈنگ بھی فراہم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے تاکہ کسان کی نئے طریقہ کاشتکاری میں مدد فراہم کی جا سکے، ٹنل فارمننگ اور آبپاشی کے نظام کے لئے بھی اس ضمن میں پراجیکٹس بنائے جا رہے ہیں جو ٓئندہ سالوں میں پاکستان کے کسان کے لئے ایک بہترین ترقی کی ضمانت ہو ں گے۔

واضع رہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے لئے بھی اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت (ایف ائے او) ایک وسیع پروگرام کے لئے کام کر رہا ہے اور سال 2017ء میں باقاعدہ آغاز سے شمالی علاقہ جات کے کسان اور پھلوں کے کاشتکاروں کو بہترین معاونت فراہم کر کے ان کے پھل کو بیرونی منڈیوں تک رسائی فراہم کی جا سکے، واضع رہے کہ پاکستان کے شمالی علاقہ جات کے اخروٹ، خشک خوبانی، چلغوزہ اور بادام کو بیرون ممالک میں قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور اس ضمن میں بیرونی منڈیوں میں پاکستان کے پھلوں ،چاول اور کپاس کو بھارتی پراڈکٹس کی نسبت زیادہ اچھے داموں میں خریدا جاتا ہے کیونکہ ان کا ذائقہ اور کوالٹی بہترین گردانی جاتی ہے۔

اقوام متحدہ کے ادراہ برائے خوراک و زراعت (ایف ائے او) کے کمیونیکیشن کنسلٹننٹ ورگینجا مارگن نے موجودہ جاری پروگرام کے حوالے سے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ رواں سال یہ پروگرام شمالی وزیرستان اور دیگر فاٹا علاقوں کے کسانوں کو بھی مدد فراہم کرئے گا تاکہ لائیو سٹاک کی مدد میں جانور پال کر کسان کو روز مرہ زندگی گزارنے کے قابل بنایا جا سکے، جبکہ پھلوں ، سبزیوں اور دیگر بیج فراہم کر کے انہیں کھیتی باڑی کے قابل بنا نا ہے ، کیونکہ معاشی طور پر مضبوط ہونے سے ہی دہشت گردی سے متاثرہ ان علاقوں کے عوام کو دوبارہ عام زندگی میں لانے کے قابل بنایا جا سکتا ہے۔ اقوام متحدہ کا ادارہ خوراک و زراعت تو شائید پاکستان میں کسان کی ترقی اور لائیو سٹاک کی بہتری کے لئے ایسے منصوبے شروع کرنے میں مددگار ہو سکے کیونکہ ایف ائے او ایک جامع نظام کے تحت پاکستان پر ریسرچ مکمل ہونے کے بعد کام جاری کئے ہوئے ہے لیکن اس وقت سوچنے والی بات یہ ہے کہ پاکستان کے کسان کی ترقی اور فی ایکڑپیداروا کا ہدف بڑھانے کے لئے حکومت نے کوئی عملی اقدامات کرنے کے ساتھ ساتھ کوئی ایسا پروگرام شروع کرنے کا ارادہ کر رکھا ہے جو کسان کی ترقی اور پاکستان کی معیشت کی بہتری کا ضامن بن سکے یا پھر ہر سال اور بجٹ کی طرح پاکستان کا کسان حسرت و یاس کی تصویر بنا ارباب اختیار کی جانب تکتا رہے گا کہ اس کی ترقی اور بہتری کے لئے کوئی اورنج لائن یا موٹر وے جیسی سوچ والا عظیم الشان منصوبہ سامنے آئے تاکہ پاکستان کے ستر فیصد سے زائدرقبے کو قابل کاشت بنانے والا کسان بھی خوشحال ہو اور پاکستان کی معیشت بھی ترقی کی منازل طے کرئے۔

مزید : ایڈیشن 2

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...