پاکستا ن کے خراب حالات کی واحد وجہ قائدکے اصولوں سے انحراف ہے، رفیق تارڑ

پاکستا ن کے خراب حالات کی واحد وجہ قائدکے اصولوں سے انحراف ہے، رفیق تارڑ

لاہور( خبر نگار) قائداعظمؒ کے قول وفعل میں کوئی تضاد نہیں تھا۔آج پاکستان جن حالات سے دوچار ہے اس کی واحد وجہ قائداعظمؒ کے اصولوں سے انحراف ہے۔ پاکستان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے لہٰذا اس کی قدر کریں اور اس کو مضبوط بنائیں۔ان خیالات کااظہارتحریک پاکستان کے مخلص کارکن‘سابق صدر اسلامی جمہوریہ پاکستان اور نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے چیئرمین محمد رفیق تارڑ نے ایوان کارکنان تحریک پاکستان، شاہراہ قائداعظمؒ لاہور میں بانئ پاکستان حضرت قائداعظم محمد علی جناحؒ کی 68ویں برسی کے موقع پرمنعقدہ محفل قرآن خوانی کے بعد خصوصی نشست سے اپنے صدارتی خطاب کے دوران کیا۔اس تقریب کااہتمام نظریۂ پاکستان ٹرسٹ نے تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے اشتراک سے کیا تھا۔ اس موقع پر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ کے وائس چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد،تحریک پاکستان ورکرز ٹرسٹ کے چیئرمین چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد،چیف کوآرڈی نیٹر نظریۂ پاکستان ٹرسٹ میاں فاروق الطاف، جسٹس(ر) خلیل الرحمن خان، بیگم مہناز رفیع، پروفیسر ڈاکٹر ایم اے صوفی،قیوم نظامی، پروفیسر ڈاکٹر پروین خان، بیگم خالدہ جمیل، بیگم صفیہ اسحاق، کرنل(ر) سلیم ملک، قاضی غلام رسول، مولانامحمد شفیع جوش، بیگم زرقا جاوید، محمد یٰسین وٹو،میجر(ر) صدیق ریحان، عزیز ظفر آزاد،علامہ نعیم جاوید نوری، بیگم حامد رانا، سعیدہ قاضی، محمد فاروق خان آزاد، نائلہ عمر ، منشا قاضی، نواب برکات محمود،محمد شفیق رضا قادری، سید اظہر مقبول شاہ ایڈووکیٹ، شیراز بھٹی ایڈووکیٹ، کارکنان تحریک پاکستان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے خواتین و حضرات کثیر تعدادمیں موجود تھے۔ نشست کا باقاعدہ آغاز تلاوت کلام پاک اورنعت رسول مقبولؐ سے ہوا ۔ تلاوت کلام پاک کی سعادت قاری خالد محمودنے حاصل کی جبکہ وصاف احمد ہمدانی نے بارگاہ رسالت مآبؐ میں ہدیۂ عقیدت پیش کیا۔ نشست کی نظامت کے فرائض نظرےۂ پاکستان ٹرسٹ کے سیکرٹری شاہد رشید نے ادا کیے۔ محمد رفیق تارڑ نے کہا کہقائداعظمؒ نے سچ کی قوت سے پاکستان حاصل کیا۔ کسی کی یہ بات سچ ہے کہ اگر مسلم لیگ میں سو گاندھی اور کانگریس میں ایک محمد علی جناحؒ ہوتے تو پاکستان کا قیام ممکن نہ تھا۔ قائداعظمؒ نے دلیل کی قوت سے یہ ملک بنایا۔ وہ نہ بکنے والے تھے اور نہ جھکنے والے۔ ایک وائسرائے نے قائداعظمؒ کو مشورہ کیلئے بلایا اور باتوں باتوں میں کہا کہ فلاں صوبہ میں ایک مقامی شخص کو گورنر بنا دیا گیا ہے اور ہم ایسا کسی اور صوبہ میں بھی کر سکتے ہیں ۔ یہ سن کر قائداعظمؒ غصہ میں آگئے اور کہا کیا آپ مجھے خریدنا چاہتے ہیں ، ایسا نہیں ہو سکتا۔ سٹینلے والپرٹ نے قائداعظمؒ کے بارے میں لکھا کہ بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا رخ بدل دیں ، اور ایسے لوگ اس سے بھی کم ہوتے ہیں جو تاریخ اور جغرافیہ دونوں بدل دیں جبکہ بہت ہی کم لوگ ہوتے ہیں جو تاریخ اور جغرافیہ بدلنے کے ساتھ ساتھ نیا ملک بھی تخلیق کر دیں اور قائداعظمؒ نے یہ تینوں کام کر دکھائے۔انہوں نے کہا قائداعظمؒ نے ہمیشہ سچ بولا۔ دشمن بھی یہ بات کبھی نہیں کہہ سکا کہ قائداعظمؒ نے کسی معاملہ میں غلط بیانی سے کام لیا۔ قائداعظمؒ کے اصولوں سے انحراف ہمارے ملک کیلئے نقصان دہ ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل وکرم اور قائداعظمؒ کی محنت و لگن سے ہمیں یہ پناہ گاہ ملی ہے۔ ہمارے ازلی دشمن بھارت میں مسلمانوں کی حالت زار دیکھیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ پاکستان اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے۔لہٰذا اس کی قدر کریں اور اس کو مضبوط بنائیں۔ پروفیسر ڈاکٹر رفیق احمد نے کہا کہ قائداعظمؒ کی ولولہ انگیز قیادت اوربھرپور جدوجہد کی بدولت پاکستان حاصل ہوا،علیحدہ ملک کے قیام نے ہماری تقدیر بدل دی۔1857ء سے لیکر 1947ء تک مختلف تحریکیں چلتی رہیں جبکہ 1930ء میں علامہ محمد اقبالؒ نے الگ وطن کا تصور پیش کیا ۔قائداعظمؒ نے ایک منتشر قوم کو یکجا کر دیا اور1940ء میں قرارداد پاکستان منظور ہو گئی۔قائداعظمؒ نے اس دوران ہندوؤں اور انگریزوں کی سازشوں کا مقابلہ کیا اور بالآخر 1947ء میں پاکستان قائم ہو گیا۔قیام پاکستان کے بعد قائداعظمؒ نے ایک مفلوک الحال ملک کو ترقی کی راہ پر گامز ن کر دیا۔چیف جسٹس(ر) میاں محبوب احمد نے کہا کہ قائداعظمؒ کا قول ہے کہ اپنی سوچ اور عمل میں تضاد پیدا نہ کرو اور یگانگت قائم رکھو۔ قائداعظمؒ کی فہم و فراست اور عزم صمیم نے انگریز اور ہندو کو شکست دیدی۔ آج ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم قائداعظمؒ کے فرمودات پر عمل کریں۔ میاں فاروق الطاف نے کہا کہ آج ہمیں قائداعظمؒ کے فرمان ’’ایمان، اتحاد، تنظیم‘‘ کو اپنا مقصد حیات بنالینے کا عزم کر نا چاہیے۔ قائداعظمؒ کی کامیابی کا ایک راز ان کا ہمیشہ سچ بولنا تھا۔ ہمیں قائداعظمؒ کے فرمودات پر عمل اور پاکستان کی خاطراپنا تن من دھن قربان کرنے کیلئے ہمیشہ تیاررہنا چاہئے۔بیگم مہناز رفیع نے کہا کہ آج تجدید عہد کادن ہے۔قائداعظمؒ پاکستان میں ایک ایسا مثالی معاشرہ قائم کرنا چاہتے تھے جو پوری دنیا کیلئے ایک نمونہ ہو۔آج قائداعظمؒ کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے کرپشن اور اقرباپروری سے نجات حاصل کرنا چاہئے۔ پروفیسر ڈاکٹر پروین خان نے کہا کہ قائداعظمؒ نے پاکستان کے قیام کیلئے اپنے خون کا آخری قطرہ تک وقف کر دیا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد بھارت میں مسلمانوں کے قتل عام پر قائداعظمؒ بہت افسردہ تھے۔ہمیں قائداعظمؒ کے فرمودات پرعمل کرتے ہوئے اپنا وقت ضائع نہیں کرنا چاہئے۔بیگم صفیہ اسحاق نے کہا کہ اگر ہم قائداعظمؒ کے فرمودات کو حرزِ جان بنا لیں تو پاکستان کو درپیش مسائل حل ہو جائیں گے۔ قائداعظمؒ ایک عظیم انسان تھے جنہوں نے باطل کی قوتوں کو کسی غیر ملکی مدد کے بغیر اپنی قوت ارادی اور بھرپور جدوجہد کی بدولت شکست دی۔بیگم خالدہ جمیل نے کہا کہ قائداعظمؒ اپنے حریفوں سے کبھی مرعوب نہیں ہوئے تھے۔ ہماری خوش بختی تھی کہ رب ذوالجلال نے ہمیں قائداعظمؒ جیسا زیرک اور دُور اندیش رہنما عطافرمایا۔ اگر ہمیں ان کی ولولہ انگریز قیادت میسر نہ ہوتی تو آج ہم شاید آزادفضاؤں میں سانس نہ لے رہے ہوتے۔ قیوم نظامی نے کہا کہ آج نئی نسل قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ کے پیغام کو بھلا چکی ہے۔قائداعظمؒ سیاست میں اعلیٰ اقداروروایات کے قائل تھے۔ آج اس بات کا عہد کرنے کا دن ہے کہ ہم پاکستان کی خدمت اور اس ملک کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کریں گے۔ یہ ہماری خوش نصیبی تھی کہ ہمیں قائداعظمؒ جیسا انمول قائد ملا۔ قائداعظمؒ اعلیٰ کردار کے مالک تھے۔ تحریک پاکستان کے کارکن کرنل(ر) محمد سلیم ملک نے کہا کہ قائداعظمؒ نے انگریزوں اور ہندوؤں کی سازشوں کا مقابلہ کر کے یہ ملک ان سے چھین کر ہمیں لیکر دیا۔ قائداعظمؒ بیسویں صدی کے سب سے بڑے لیڈر تھے۔ وہ اپنے کارناموں کی بدولت ہمیشہ زندہ رہیں گے۔تحریک پاکستان کے کارکن قاضی غلام رسول نے کہا کہ قائداعظمؒ بہت پرکشش شخصیت کے مالک تھے۔آپ انتہائی سنجیدہ انسان تھے۔ ہمیں قائداعظمؒ کے فرمودات پر عمل کرتے ہوئے ہمیشہ سچ بولنا چاہئے۔محمد یٰسین وٹو نے کہا کہ قائداعظمؒ بے شمار خوبیوں کے مالک تھے ۔آپ کا کردار انتہائی اعلیٰ تھا۔ قائداعظمؒ سچائی کا پیکر تھے اور ہمیشہ سچ بولتے تھے۔قائداعظمؒ نے منتشر قوم کو یکجا کردیا اور اتحاد کا درس دیابیگم زرقا جاوید نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے قائداعظمؒ اور علامہ محمد اقبالؒ جیسے لوگوں کی بدولت ہمیںآزادی کی نعمت عطا کی۔ اللہ تعالیٰ نے قائداعظمؒ کو مجسم مومن بنایا۔قائداعظمؒ نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا ،کشمیر کو بھارتی تسلط سے نجات دلانے کیلئے ہر ایک اپنا کردار ادا کرے۔شاہد رشید نے کہا کہ آج 11ستمبر قائداعظمؒ کا یوم وفات اتفاق سے 8ذوالحج 1437ھ کو آیا ہے۔ اسلامی تقویم کے مطابق 8ذوالحج قائداعظمؒ کا یوم پیدائش بھی ہے۔قائداعظمؒ 8ذوالحج 1293ھ بمطابق 25دسمبر1876ء کو پیدا ہوئے اور 7ذیقعدہ 1367ھ بمطابق 11ستمبر 1948ء کو وفات ہوئی۔ قائداعظمؒ نے اپنی ان تھک محنت اور عزم صمیم سے مسلمانان برصغیر کو ایک آزاد وطن دلایا۔آج قائداعظمؒ کے افکارو نظریات پر عمل کرنے کی بہت زیادہ ضرورت ہے۔پروگرام کے دوران مولانا محمدبخش کرمی اور علامہ نعیم جاوید نوری نے ختم شریف پڑھا ۔ مولانا محمد شفیع جوش نے قائداعظمؒ ، مشاہیر تحریک پاکستان کے بلندئ درجات اوراستحکام پاکستان کے لیے خصوصی دعا کرائی۔آخر میں شرکاء کو تبرک بھی دیا گیا۔

مزید : میٹروپولیٹن 1