گونگا پنجاب،نیشنل ایکشن پلان، رینجرز کی تعیناتی

گونگا پنجاب،نیشنل ایکشن پلان، رینجرز کی تعیناتی
 گونگا پنجاب،نیشنل ایکشن پلان، رینجرز کی تعیناتی

  

پنجاب میں رینجرز کی آمد کا شور ہے۔ رانا ثناء اللہ چیخ چیخ کر کہہ رہے ہیں کہ بھائی پنجاب میں رینجرز پہلے سے موجود ہے ۔ لیکن کوئی ماننے کے لئے تیار ہی نہیں۔ بس ایک ہی شور ہے کہ پنجاب کو رینجرز کے حوالے کر دیا جائے۔ شور مچانے والوں سے جب پوچھا جا تا ہے کہ کیا پنجاب کے حالات خراب ہیں تو وہ کہتے ہیں نہیں لیکن جب باقی صوبوں میں رینجرز امن و امان کنٹرول کر رہے ہیں تو پنجاب میں کیوں نہیں؟ ان کے پاس بس ایک ہی دلیل ہے کہ جب کراچی پشاور کوئٹہ میں رینجرز ہے تو لاہور میں کیوں نہیں؟ کیا یہ کوئی دلیل ہے۔ لیکن بس یہی سمجھ آرہا ہے کہ اسی دلیل کے تحت پنجاب میں رینجرز بھیجنے کی تیاری کی جا رہی ہے۔ رینجرز بھیجنے کے حق میں دلائل دینے والوں کے پاس اس کی پنجاب میں ضرورت کے حوالے سے کوئی دلیل نہیں ہے۔ بس مساوات کے اصول کے تحت رینجرز کو تعینات کرنے کا سوال ہے۔ یہ لوگ یہ دلیل ماننے کو تیار نہیں کہ رینجرز کی تعیناتی کے لئے ضرورت کوئی اصول ہے۔

حکومت پنجاب بھی دفاعی پوزیشن میں آگئی ہے۔ عید کے موقع پر حساس اداروں کے سیکیورٹی الرٹس نے بھی حکومت پنجاب کو پریشان کر دیا ہے۔ دو روز قبل لاہور کے ریلوے سٹیشن اور پنجاب یونیورسٹی کے حوالے سے حساس اداروں کی جانب سے تھریٹ الرٹ جاری کیا گیا تھا۔ جس نے لاہور پولیس کو بھی بہت پریشان کئے رکھا۔ اسی طرح عید کی آمد کے ساتھ ساتھ حساس اداروں نے پنجاب اور بالخصوص لاہور کے حوالہ سے دہشت گردی کے خطرات کے حوالہ سے تھریٹ الرٹس جاری کئے ہیں۔ ان تھریٹ الرٹس کو حکومت پنجاب کسی بھی طرح نظر انداز نہیں کر سکتی۔ اس لئے عید پر پنجاب بھر میں سیکیورٹی ہائی الرٹ کی جا رہی ہے۔

لیکن پنجاب میں رینجرز موجود ہے کا رانا ثناء اللہ کا دعویٰ بھی قابل غور ہے۔ میں نے اس ضمن میں رانا ثناء اللہ سے پوچھا تو انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف پنجاب میں دو طرح کے آپریشن ہو رہے ہیں۔ ایک کومبنگ آپریشن ہیں۔ دوسرے آئی بی او آپریشن ۔ اس ضمن میں ایک سادہ اصول طے ہے۔ جو بھی حساس ادارہ یہ آپر یشن کر رہا ہو۔ وہ فورس اپنی مرضی کی استعمال کرتا ہے۔

کومبنگ آپریشن میں ایک پورے علاقہ کو چیک کیا جاتا ہے۔ اس علاقہ میں رہنے والے تمام افراد کے نہ صرف کوائف چیک کئے جاتے ہیں بلکہ علاقہ کی مکمل تلاشی بھی لی جاتی ہے۔ یہ کومبنگ آپریشن بھی مشکوک علاقوں میں کئے جاتے ہیں۔ جو بھی حساس ادارہ یا خفیہ ادارہ اپنی کسی اطلاع پر کسی علاقہ کو مشکوک قرار دیتا ہے وہ وہاں کومبنگ آپریشن کرتا ہے۔ اس ضمن میں بائیو میٹرک مشینیں قانون نافذ کرنے والے ادروں کو فراہم کی گئی ہیں۔ جو موقع پر کوائف چیک کرتی ہیں۔ ان کومبنگ آپریشن میں رینجرز بھی استعمال کی جا تی ہے۔ اسی طرح آئی بی او آپریشن دراصل انٹیلی جنس کی بنیاد پر کی جانیوالی کاروائی ہے۔ اس حوالہ سے بھی اپیکس کمیٹی میں سادہ اصول طے ہے کہ جس بھی انٹیلی جنس ایجنسی کی اطلاع ہوگی وہی اس آپریشن کی قیادت کرے گی ۔ اس طرح حساس ادارے انٹیلی جنس ایجنسیاں اپنی ضرورت کے تحت رینجرز کو استعمال کرتی ہیں۔

لیکن اس سب کے باوجود حکومت پنجاب پر ایک تنقید ہے کہ وہ پنجاب میں رینجرز کو آنے نہیں دے رہی۔ کوئی یہ نہیں کہہ رہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ پنجاب میں باقی صوبوں کی نسبت امن و امان کی صورتحال بہتر ہے اس لئے پنجاب میں رینجرز کی ضرورت نہیں۔ بلکہ یہ کہا جا رہا ہے کہ یہ تو امتیازی سلوک ہے کہ باقی صوبوں میں رینجرز ہے اور پنجاب میں نہیں۔ یہ تو ایسی ہی بات ہوئی کہ کسی گھر کے دو بچے بیمار ہیں اور انہیں دوائیاں دی جا رہی ہیں۔ پرہیزی کھانا دیا جا رہا ہے۔ ان کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی گئی ہو۔ ایسے میں وہ دو بیمار بچے یہ مطالبہ کردیں کہ باقی صحت مند بچوں کو بھی وہی دوائیاں دی جائیں جو انہیں دی جا رہی ہیں۔ انہیں بھی پرہیزی کھانا دیا جائے اور ان کی نقل و حرکت بھی محدود کر دی جائے۔ ایسے میں صحت مند بچے کہیں گے کہ ہم تو صحت مند ہیں ہم کیوں بیماروں والی خوراک اور دوائیاں کھائیں۔ لیکن ’’مساوات‘‘ کے اصول کے تحت انہیں دوائیاں اور پرہیزی خوراک کھانے پر مجبور کیا جائے۔ اور ایسے میں اس خوف کو بھی پیش نظر رکھا جائے کہ اگر کہیں صحت مند بچے بیمار ہو گئے تو بعد میں الزام آجائے گا کہ دیکھا دوائی نہیں دی تھی ا س لئے بیمار ہو گئے۔

عید کے موقع پر سیکیورٹی کے سخت انتظامات کئے جارہے ہیں۔ عید کے اجتماعات کی سیکیورٹی کے بھی نہایت سخت انتظامات کئے جا رہے ہیں۔ اہم عید اجتماعات پر رینجرز بھی تعینات کی جا رہی ہے۔ تاکہ اصول مساوات کو بھی پورا کیا جا سکے۔ لیکن حکومت پنجاب کو سمجھنا ہو گا کہ ا س طرح نمائشی طور رینجرز تعینات کرنے سے اصول مساوات والوں کا منہ بند نہیں ہو گا۔ انہوں نے شور شروع کر دیا ہے۔ کہ حکومت پنجاب کراچی والے ا ختیارات نہیں دے رہی۔ انہیں کون سمجھائے کہ کراچی میں امن و امان کی ذمہ داری رینجرز کے سپرد ہے۔ پنجاب میں یہ ذمہ داری ابھی تک سول حکومت او ر سول اداروں کے پاس ہے۔ حیرانگی اور افسوس کی بات یہ ہے کہ اس بات کو خراج تحسین پیش کرنے کی بجائے کہ پنجاب میں سول ادارے امن و امان سنبھال رہے ہیں تنقید کی جا رہی ہے۔ کیا جو پنجاب میں رینجرز کو تعینات کرنے کا مطالبہ کر رہے ہیں ان سے کراچی میں رینجرز کی کارکردگی پر تجزیہ کا سوال کیا جا سکتا ہے۔ لیکن ایسا کرنا تو ملک دشمنی بھی ہو سکتا ہے۔

پنجاب حکومت نے نیشنل ایکشن پلان کے تحت حکومت پنجاب کی کارکردگی جاری کی ہے۔ لیکن شاید رینجرز کی کارکردگی کا سوال کسی کارکردگی سے زیادہ سیاسی ہے۔ اور اس ضمن میں پنجاب مخالف سیاست کی جا رہی ہے۔ اور بیچارہ پنجاب اپنا مقدمہ بھی نہیں لڑ سکتا۔ پنجاب گونگا ہے۔

مزید : کالم