عید ، ٹریفک اور سرکار

عید ، ٹریفک اور سرکار
عید ، ٹریفک اور سرکار

ہر عید جیسے دن دیہاڑ پر ان تمام لوگوں کو یہ عذاب جھیلنا ہوتا ہے جو اپنے پیاروں کے ساتھ لاہور سے عید منانے کے لئے رخصت ہو رہے ہوں یا واپس آ رہے ہوں، پبلک ٹرانسپورٹ کی کمی تو ایک مستقل مشکل کے طور پر موجود ہے مگر جنہیں کسی بس یا ویگن میں جگہ مل جاتی ہے یا وہ اپنی گاڑی پر لاہور سے روانہ ہو رہے ہوتے ہیں تو وہ ملتان روڈ اور جی ٹی روڈ پرٹریفک میں پھنس جاتے ہیں اور گھنٹوں پھنسے رہتے ہیں ۔ بہت سارے لوگ کینال روڈاستعمال کرتے ہیں،وہ شہرسے آسانی سے نکلنے کی خاطر راوی کے پل سے کالاشاہ کاکو تک کی ذلت اور پریشانی سے بچنے کے لئے ٹھوکر نیاز بیگ سے بائی پاس کو استعمال کرتے ہوئے لاہور سے باہر نکلتے ہیں، تقریباً تیس سے چالیس کلومیٹر سفر بھی زیادہ طے کرتے ہیں اور ٹال پلازہ سے کالاشا ہ کاکو تک موٹر وے استعمال کرنے پر پچاس روپے بھی ادا کرتے ہیں ۔ ڈیفنس ، کینٹ اور ملحقہ علاقوں کے لوگ رنگ روڈ استعمال کرتے ہیں اور اگروہ راوی پل اور شاہدرہ چوک کی مشکل سے بچنا چاہیں تو انہیں سگیاں یا بابو صابو جانا پڑتا ہے۔ راوی پل والوں کی مشکل توبڑی حد تک آسان ہونے کی امید پیدا ہو گئی، وزیر اعظم نواز شریف نے اسی مہینے کے شروع میں ایسٹرن بائی پاس کا سنگ بنیاد رکھ دیاہے، اب جی ٹی روڈ کالاشاہ کاکو سے ہی بائی پاس کے ذریعے رنگ روڈ سے لنک ہوجائے گی اور دوسری طرف لاہور سیالکوٹ موٹر وے کی تکمیل کے بعد جی ٹی روڈ لاہور گوجرانوالہ پر بھی دباؤ کم ہو جائے گا۔ اس وقت لاہور سے گوجرانوالہ تک جی ٹی روڈ چھ اور بعض مقامات پر آٹھ رویہ ہونے کے باوجود موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر سلو موونگ ٹریفک کے باعث کسی ہائی وے کی شکل اختیار نہیں کرپاتی۔ کالا شاہ کاکو اورراوی پل کے درمیان ایک لمبے فلائی اوور کی تعمیر بھی اس علاقے کی مشکل اسی طرح آسان کرے گی جس طرح گوجرانوالہ شہر میں جی ٹی روڈ پرشیرانوالہ گیٹ سے آگے ریلوے اسٹیشن اور پرانے جی ٹی ایس سٹینڈ پر فلائی اوور نے گزرگاہ کو بہت ہی آسان بنا دیا ہے۔

جی ہاں ! راوی پُل سے جی ٹی روڈ پر گوجرانوالہ، گجرات، جہلم ، راولپنڈی اور پشاور تک جانے والوں کے لئے تواگلے سال، دو سال میں مشکل آسان ہوجائے گی مگر ملتان روڈ بارے ابھی کسی نے کچھ نہیں سوچا، لاہور سے اوکاڑہ ، ساہیوال، ملتان، صادق آباد اور بہت آگے تک جانے والی تمام ہلکی اور بھاری ٹریفک جب ٹھوکر نیاز بیگ پر اسلام آباد کی طرف مڑنے والے موٹر وے بائی پاس کو کراس کرتی ہے تو جگہ کی کمی کی وجہ سے اچانک ہی دو رویہ اور مجموعی طور پر چار رویہ ہوجاتی ہے اور یہ سلسلہ کئی کلومیٹر تک چلتا ہے۔بحریہ ٹاون اور ای ایم ای جیسی بہت ساری سوسائیٹیوں کے لئے نہر کے ساتھ متبادل سڑک نے ملتان روڈ کا بوجھ بہت حد تک اٹھالیا ہے مگرا سے بھی اب کھلا کرنے کی ضرورت ہے ۔ ملتان روڈ پر مسئلہ وہاں پیدا ہوتا ہے جہاں کوئی پارکنگ کر لے یا وہ یو ٹرن اور ڈائیورشنزمستقل پرابلم ایریا ہیں جہاں سے گاڑیاں واپس لاہور شہر کے لئے یا ملتان روڈ پر دوسری طرف کی سوسائیٹیوں میں جانے کے لئے مڑتی ہیں۔ دو رویہ سڑک پر جس وقت ایک لین مڑنے کے لئے رک جاتی ہے تو پھر پوری ٹریفک بلاک کردیتی ہے۔ پارک ویو وغیرہ جانے کے لئے ٹریفک پولیس نے ای ایم ای کے سامنے یوٹرن بند کر دیا ہے مگر یہ یوٹرن ہر سڑک کی ضرورت ہوتے ہیں۔ ٹریفک پولیس کے اہلکار یہاں موجود ہوتے ہیں مگر اتنی ڈھیر ساری ٹریفک کے سامنے وہ بے بس نظر آتے ہیں۔ ہفتے کے روز آخری ورکنگ ڈے کے بعد اوکاڑہ جانے والوں کا وقت دو حصوں میں تقسیم ہوا، آدھا وقت صر ف لاہور سے نکلنے میں لگا۔ایک شخص نے گاڑی سے منہ باہر نکالا اور چیخا، میاں صاحب ملتا ن نہیں جاتے، اسلام آباد جاتے ہیں لہذا اس طرف کی تمام سڑکیں کھلی ڈلی ہوتی جار ہی ہیں، ظاہر ہے، لوگوں کے شکوے تو اپنی جگہ موجود رہیں گے کہ فی الوقت ملتان روڈ کے اس حصے کو کھلا کرنے بارے کوئی کام ہوتا ہوا دکھائی نہیں دے رہا ہاں ، ایک امید کی جارہی ہے کہ رنگ روڈ بننے کے بعد کینال اور ٹھوکر پر ٹریفک کا لوڈ کم ہوسکتا ہے کہ ڈیفنس اور کینٹ کے مکین لاہور سے نکلنے کے لئے رنگ روڈ کو ہی استعمال کریں گے مگر دوسری طرف ملتان روڈ کو چھ سے آٹھ رویہ کرنے اور اہم مقامات پر یوٹرن دینے کے لئے بھی کام ہو سکتا ہے، ہر وہ جگہ جہاں سے یوٹرن دینا ہے سڑک کو دس لین کی کرنے کی ضرورت ہے، تین لین پر ٹریفک رواں دواں رہے ،بسوں اور ٹرکوں کے مڑنے کے لئے دونوں اطراف دد ، دو لین موجود ہوں۔ یہ کوئی بہت بڑا اور مہنگا منصوبہ نہیں ہے مگر اس سے ہزاروں نہیں لاکھوں مسافروں اور گاڑیو ں کو سہولت مل سکتی ہے۔ میں نے تسلیم کیا کہ ٹریفک پولیس کے جوان ایسے موقعوں پر موجود ہوتے ہیں مگر ہمارے دوستوں کو بھی تسلیم کرنا چاہئے کہ جب بارش ہو، کوئی خاص دن دیہاڑ ہو جس پر ٹریفک کا دباو بڑھ جائے تو ہماری ٹریفک پولیس اسے بہاومیں رکھنے میں ناکام ہوجاتی ہے، یہ اس کی نااہلی ہے۔ میں نے ٹریفک پولیس کے ذمہ داروں سے پوچھا، شہر میں اتنا زیادہ کام ہو رہا ہے ،آپ پھر بھی بہت ساری جگہوں پر بہت ساری مشکلات کا سامنا کرتے نظر آتے ہیں، جواب ملا، شہر میں ٹریفک کے لئے کی جانے والی منصوبہ بندی میں ٹریفک پولیس کو شامل ہی نہیں کیا جاتا، ازخود ہی منصوبے کا اعلان کر دیا جاتا ہے۔ میں نے بھی یہی محسوس کیا ہے کہ تمام بڑے بڑے منصوبوں میں بڑے بڑے خلا موجود ہیں مثال کے طور پر فیروز پور روڈ پرمسلم ٹاون کے علاقے میں نہر کے اوپر ایک بڑا فلائی اوور بنایا گیا ہے جو چھ رویہ ہے ، اس کی ہم کیس سٹڈی کر لیتے ہیں،آپ جس وقت مسلم ٹاؤن سے فیروز پورروڈ پر ٹرن لیتے ہوئے اچھرہ یا مزنگ چونگی جانا چاہتے ہیں تو آپ کو صرف دو لین ملتی ہیں حالانکہ اطراف میں مارکیٹیں موجود ہیں جہاں گاڑیاں پارک بھی ہوتی ہیں، یہ مشکل مسلم ٹاون سے شاہ جمال موڑ کے قریب تک برقرار رہتی ہے۔ ہمارے سامنے جناح فلائی اوور، میاں میر اور شیرپاؤ برج کی صورت کینٹ کو شہر سے ملانے والے ماڈل پل موجود ہیں جو صرف چار رویہ ہیں اور ٹریفک کے بہاو کو سنبھالے ہوئے ہیں،وجہ صرف یہ ہے کہ ان فلائی اووروں پر بریک لگانے اور پارکنگ کرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ دوسری طرف اگر آپ اچھرہ سے آتے ہوئے مسلم ٹاون کی طرف مڑنا چاہیں تو وہاں بھی آپ کو بہت ہی چھوٹی سے سرنگ نما سڑک ملتی ہے جو آگے قلفیوں کی مشہور دکانوں کے پاس اندھا دھند پارکنگ کی وجہ سے بند رہتی ہے۔ اسی فلائی اوور سے ایک راستہ وحد ت روڈکی طرف اترتا ہے اور اس کے نیچے سڑک بھی تین کی بجائے دو رویہ رکھی گئی ہے، فلائی اوور خالی رہتا ہے اور کھانے پینے کے ہوٹلوں اور بیکری کی مشہور دکان کے سامنے ٹریفک بلاک رہتی ہے۔ مسلم ٹاون وہ جگہ ہے جہاں فیروز پورروڈ سگنل فری نہیں رہتی حالانکہ بہت ساری جگہ جنگلوں کے ذریعے بند کر دی گئی ہے جسے استعمال کرتے ہوئے اس پیچیدہ چوک کو سگنل فری ڈیزائن کیا جا سکتا ہے۔

اسی فلائی اوور کی مزید سٹڈی کریں تو یہ شمع سٹاپ کے قریب نیچے اترتا ہے، آپ مسلم ٹاون موڑ پر کھڑے ہیں اور اپنے سامنے دائیں طرف نظر آنے والی جامعہ اشرفیہ میں جانا چاہتے ہیں تو آپ کو فلائی اوور کے ساتھ ساتھ نیچے سفر کرتے ہوئے رحما نپورہ پر واپڈا ہسپتال کے ساتھ ساتھ سے شمع، شاہ جمال موڑ اور اچھرہ بازار کے بس سٹاپ کراس کرنا ہوں گے، آپ کو واپسی کا قانونی راستہ اچھرہ اڈا قبرستان کے سامنے ملے گا جو مسلم ٹاون سے دو کلومیٹر سے بھی زائد فاصلے پر ہے گویا آپ نے اگر اپنی گاڑی کے پر اوپر جامعہ اشرفیہ کے اندر یا ساتھ ہی کسی مارکیٹ جانا ہے تو آپ کو پانچ کلومیٹر کااضافی سفر طے کرنا پڑے گا۔ یہی کچھ جیل روڈ اور فیروز پور روڈ پر ڈائیورشنز کے ساتھ کیا گیا ہے، دو چوکوں کے درمیان ڈائیورشن دینے کی بجائے ہر چوک پر دی گئی ہے جس کی وجہ سے ہر گاڑی کوواپسی کے لئے دوگناسفر کرنا پڑتا ہے، دوگنے سفر کی قیمت دوگنے تیل اور دوگنے وقت کی صورت ادا ہوتی ہے۔میں نہیں جانتا کہ شہر کے لئے منصوبے بنانے کے لئے کون سا دماغ کام کر رہا ہے مگر مجھے کہنے دیجئے کہ وہ کسی ٹیکنو کریٹ کی بجائے سرکار کے پیارے کسی بیوروکریٹ کاانوکھا دماغ ہے اور اسی کی وجہ سے اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہر میں ٹریفک کے مسائل اپنی جگہ موجود ہیں۔

مزید : کالم

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...