نائن الیون حملوں میں مرنیوالوں کی یاد میں سوگ، امریکی پرچم سرنگوں

نائن الیون حملوں میں مرنیوالوں کی یاد میں سوگ، امریکی پرچم سرنگوں

واشنگٹن (اظہر زمان، بیورو چیف)اتوار کے روز امریکہ بھر میں ہونے والی تقریبات میں نائن الیون حملوں کا نشانہ بننے والوں کو یاد کیا گیا اور ملک بھر میں پرچم سرنگوں کردیئے گئے۔ سب سے بڑی تقریب نیویارک میں ’’گراؤنڈ زیرو‘‘ پر منعقد ہوئی جس میں دونوں بڑے صدارتی امیدواروں ہیلری کلنٹن اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کو معطل کرکے خصوصی شرکت کی اور اتوار کے روز اپنے صدارتی انتخابی اشتہار نہ چلانے کا اعلان کیا۔ واشنگٹن کے قریب پینٹا گون کی ماتمی تقریب میں صدر بارک اوبامہ نے اپنے جذباتی خطاب میں کہا کہ نائن الیون کو ضائع ہونے والی ’’تین ہزار خوبصورت جانوں‘‘ کو ہم کبھی نہیں بھلائیں گے۔ انہوں نے متاثرین کے لواحقین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جس حوصلے سے آپ نے اس صدمے کو برداشت کیا ہے وہ اس بات کا ثبوت ہے کہ امریکی قوم پر کبھی کوئی غلبہ نہیں پاسکتا۔ صدر اوبامہ نے بوسٹن، سان برنارڈینو اور اورلینڈو جیسے مقامات پر ہونے والی ’’ناقابل بیان تشدد‘‘ کی وارداتوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ داعش کو خبر ہے کہ وہ امریکہ جیسی مضبوط قوم کو شکست نہیں دے سکتی، اسی لیے وہ دہشت اور خوف پیدا کرنے والے حربے اختیار کرتے ہیں۔ پینٹاگون کی تقریب میں وزیر دفاع ایش کارٹر اور جائنٹ چیف آف سٹاف کمیٹی کے چیئرمین جنرل جوزف ڈلفورڈ کے علاوہ اعلیٰ فوجی حکام نے بھی شرکت کی۔ القاعدہ کے ہائی جیکرز نے نائن الیون کو ایک اغوا شدہ جیٹ مسافر طیارہ پینٹاگون کی ایک عمارت سے ٹکرا دیا تھا جس میں 180 افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ نیویارک میں ’’گراؤنڈ زیرو‘‘ پر ہونے والی سب سے بڑی تقریب میں ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دو طیاروں اور پینٹا گون پر ایک طیارے کے ٹکرانے اور پنسلوانیا میں ایک طیارے کے تباہ ہونے کے اصل لمحات اور اس کے بعد دونوں ٹاورز کے گرنے کے اوقات کے کل چھ مواقع کیلئے الگ الگ ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ نیویارک میں مین ہٹن کے مقام پر اس یادگار پلازہ میں تقریب کے دوران نشانہ بننے والے کل 2983 افراد کے ورثاء نے موسیقی کی ہلکی دھنوں کے درمیان ایک ایک کرکے ان کے نام پکارے۔ اس دوران ملک بھر کے گرجا گھروں اور مندروں میں گھنٹیاں بجائی گئیں اور مساجد میں خصوصی دعائیں مانگی گئیں۔ شام کو نائن الیون حملوں کا نشانہ بننے والوں کی یاد میں موم بتیاں روشن کی گئیں۔

مزید : صفحہ اول