2015میں پاکستان سے10لاکھ ڈالر بھارت منتقل ہوئے

2015میں پاکستان سے10لاکھ ڈالر بھارت منتقل ہوئے

واشنگٹن(نیوزڈیسک)عالمی بینک کی ایک رپورٹ آج کل پاکستانی میڈیا میں گردش کر رہی ہے جس کے مطابق پاکستان سے بھارت کو رقم کی منتقلی اور رقم کے حجم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے، ورلڈ بینک کی اس رپورٹ کے مطابق گزشتہ مالی سال میں 490ارب روپے کی خطیر رقم پاکستان سے بھارتی شہریوں نے اپنے ملک منتقل کی جبکہ اس سے پچھلے سال اس کا حجم 450ارب روپے تھا ، اس رپورٹ کو بنیاد بنا کر چند سینئر نیوز اینکر اور کالم نویس اعتراضات اٹھارہے تھے کہ پاکستان سے بے تحاشہ رقم بھارت بھیجی جا رہی ہے تاہم یہ حقیقت نہیں. امریکی اخبار وال سٹریٹ جنرل میں ایک نامور دانشور ’ایرک بیل مین‘ نے لکھاکہ اس بات میں کوئی صداقت نہیں کہ بھارت میں پاکستان کی سرمایہ کاری بڑھ گئی یا کثیر تعداد میں بھارتی باشندے پاکستان آگئے ، دراصل بھارتیوں کی معمولی تعداد پاکستان میں کام کررہی ہے۔بھارت کے مرکزی بینک کا کہنا ہے کہ 2015میں قانونی طریقوں کے تحت پاکستان سے صرف 10لاکھ ڈالرز کے قریب ترسیلات زرآئیں۔اعدادوشمار کا یہ فرق سوال اٹھاتا ہے کہ آخر ہو کیا رہا ہے؟عالمی بینک کے ماہر معیشت اور مائیگریشن اور ریمی ٹنس ڈویلپمنٹ پراسپکٹس گروپ کے منیجر دلیپ راٹھا کہتے ہیں کہ اس کا جواب تھوڑا تاریخی اور تھوڑا پرا سرار ہے۔ان کا کہنا تھا کہ یہ مصدقہ اعدادوشمار نہیں بلکہ فرض کی گئی ترسیلات زر ہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ جس رپورٹ کا حوالہ دیا جاتاہے ، وہ بھی انہی کی طرف سے مرتب کی گئی۔ان کے مطابق ورلڈ بینک نے ایک ماڈل بنایا ہے جس کے تحت وہ آبادی اور مہاجرین کے آبائی علاقوں کی بنیادوں پر اوسط آ مدن اور معیار زندگی کا تعین کرتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ اس رپورٹ میں ہجرت کر کے پاکستان آنے والوں کو بھارتی شہری تصور کیا گیا ہے لہذا ان کی آمدنی کو پاکستان سے بھارت ترسیلات تصور کیا گیا ہے. اس طرح یہ رقم پانچ ارب ڈالر تک جا پہنچتی ہے ، جو کہ دراصل بھارتی نہیں بلکہ بھارت سے پاکستان ہجرت کر کے آنے والے پاکستانی شہریوں کی آمدنی ہے اور یہ پیسہ باہر بھی نہیں لیجایا گیا. اسی طرح بھارت میں گیارہ لاکھ ایسے افرا د بھی مقیم ہیں جو کہ پاکستان میں پیدا ہوئے اور ہجرت کر کے بھارت چلے گئے ، ورلڈ بینک کی رپورٹ میں ان کی آمدنی کو پاکستانیو ں کی ترسیلات زر تصور کیا گیا ہے. اسے مان لیا جائے تو بھارت کی جانب سے بھی پاکستان کو دوارب ڈالر موصول ہوئے . سمجھنے کی بات یہ ہے کہ یہ دعوی ایک مفروضے کی بنیاد پر کیا گیا ہے جس میں ہجرت کے وقت دوسرے ملک جانے والوں کی شہریت کا تعین ان کی جائے پیدائش کے مطابق کیا گیا ہے. حقیقت اس سے بے حد مختلف ہے۔رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ دونوں ممالک کے شہریوں کے رشتہ دار سرحد کے آرپار موجود ہیں وہ لوگ بھی ایک دوسرے کو سپورٹ کرتے ہیں ،ملاقاتوں کے دوران نقد رقم کا تبادلہ بھی ہوتا رہتا ہے۔ایسی رقوم اورحوالہ کے ذریعے رقوم کی منتقلی کو بھی مفروضے میں شامل کیا گیا ہے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ پاکستان کے بہت سے ’دانشوروں‘نے تحقیق کے بغیر پاکستان سے بھارت سرمائے کی منتقلی کا شور مچایا جبکہ ورلڈ بینک کی طر ف سے کئی ماہ قبل وضاحت پیش کی جاچکی ہے .کہا جارہا ہے کہ گذشتہ تین سالوں کے دوران پاکستان سے 15 ارب ڈالر بھارت بھیجے گئے ہیں،اگر یہ بات درست مان لی جائے تو پاکستان بھارت کو زرمبادلہ بھیجنے والے بڑے ممالک میں شامل ہے.طاہر القادری نے بھی الزام عائد کیا تھا کہ پاکستان کی جانب سے بھاری رقوم بھارت منتقل کی گئی ہیں۔

مزید : صفحہ اول