چھریاں ،ٹوکے تیز،پیشہ ور کیساتھ اناڑی قصائی بھی میدان میں آگئے

چھریاں ،ٹوکے تیز،پیشہ ور کیساتھ اناڑی قصائی بھی میدان میں آگئے

لاہور( لیاقت کھرل‘ شہزاد ملک) عید الضحی سے ایک دو روز قبل قصائیوں نے چھریاں ‘ٹوکے اور بگدے تیز کر لئے اور لنگوٹ کس لئے ہیں ۔ اونٹ سے لے کر بکروں تک کو چھری پھیرنے کیلئے کل سے تین روز تک کیلئے قصائی میدان میں اتریں گے ۔ہزاروں کی تعداد میں پیشہ ور قصابوں کے ساتھ ساتھ اتنے ہی دیہاڑی دار موسمی قصائی بھی عید کے موقع پر جانورذبح کرکے اپنی عید بنائیں گے ۔مویشی منڈیوں میں اگرچہ گزشتہ ایک ہفتے سے خریدو فروخت مندی کا شکار تھی لیکن اتوار کے روز صوبائی دارالحکومت کی سات مویشی منڈیوں میں تیزی دیکھنے میں آئی اور سگیاں پل و شاہ پور کانجراں منڈی میں رات گئے تک گاہکوں کا رش دکھائی دیا ۔ہربنس پورہ میں قائم سرکاری منڈی میں بھی خرید و فروخت عروج پر رہی ۔جانور کی خریداری کرنے والے فرزندان توحید نے اونٹ بکرا گائے اوردنبہ خریدنے کے بعد قصاب کی بکنگ کیلئے دوڑ دھوپ شروع کردی اور شہر کے مختلف مقامات پر قصائی کی دکانیں بکنگ سینٹرز کا منظر پیش کرتی رہیں پوش ایریاز کے بعض قصابوں نے باقاعدہ رجسٹرڈبھی رکھے ہوئے تھے جن پر قربانی کرنے والوں کے نام پتے اور ٹیلی فون نمبرز بھی درج کئے گئے تھے ان قصابوں کی بڑی تعداد نے عید کے تینوں روز اپنے گاہکوں کی بکنگ کرکے مختلف اوقات میں جانور ذبح کرنے کا ٹائم دیا ہے۔روز نامہ پاکستان کی طرف سے کئے گئے سروے کے دوران معلوم ہوا کہ صوبائی دارالحکومت کے ماڈرن اور پرانے رہائشی علاقوں کے لئے قصابوں نے جانور ذبح کرنے کے مختلف ریٹس مقرر کررکھے ہیں جبکہ عید کے تینوں ایام میں بھی ریٹ ایک جیسے نہیں۔ اس حوالے سے قصابوں کا کہنا تھا کہ پوش ایریاز ڈنفیس ‘ماڈل ٹاؤن ‘جوہر ٹاؤن ‘ٹاؤن شپ‘گلبرگ‘ویلنشیاء ٹاون ‘بحریہ ٹاؤن ‘ ازمیر سوسائٹی ‘واپڈا ٹاؤن وغیرہ میں اونٹ آٹھ سے دس ہزار ‘ گائے پانچ سے چھ ہزار اور بکرا ذبح کرنے کے تین سے چار ہزار روپے کم از کم ریٹ مقرر کئے گئے ہیں جبکہ پرانی رہائشی بستیوں اچھرہ ‘سمن آباد ‘ اسلام پورہ ‘گڑھی شاہو ‘باغبانپورہ ‘مصری شا ہ میں جانور ذبح کرنے کے ریٹس مذکورہ بالا قیمتوں کی نسبت دو ہزار سے پانچ سو روپے تک کم رکھے گئے ہیں ۔جانور ذبح کرنے کے یہ ریٹس بھی کرکٹ میچوں کی طرح باقاعدہ بکیوں نے کھولے ہیں سینئرقصابوں نے بکیوں کا روپ دھار رکھا ہے ۔اکثر قصابوں نے شہر کے مختلف حصوں میں سجائی گئی عارضی دکانوں سے لکڑی کی مڈیاں نئی خریدی ہیں جبکہ کئی ایک پرانی مڈیوں پر ہی گذارا کریں گے۔

مزید : صفحہ اول