سیاسی جماعتوں کے ساتھ این آراو زندگی کی بڑی غلطی تھی ،مشرف

سیاسی جماعتوں کے ساتھ این آراو زندگی کی بڑی غلطی تھی ،مشرف

اسلام آباد(آن لائن)سابق صدرپرویزمشرف نے کہاہے کہ نائن الیون کے بعد پاکستان ،افغانستان پرتنہاحملے کی مخالفت نہیں کرسکتاتھا،امریکہ کا ساتھ دیناوقت کی ضرورت تھی سیاسی جماعتوں کے ساتھ این آراوسائن کرنازندگی کی بڑی غلطی تھی ۔اتوارکے روزنجی ٹی وی سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ نائن الیون کے بعددنیامیں صورتحال یکسرتبدیل ہوچکی تھی پاکستان افغانستان پرحملوں کی تنہامخالفت نہیں کرسکتاتھا۔افغانستان پرحملے کیلئے پاکستان اپنے ائیربیس نہ دیتاتوبھارت امریکہ کواپنے ائیربیس دینے کیلئے تیارتھالہذاپاکستان نے صورتحال کودیکھ کرامریکہ کاساتھ دیکردرست فیصلہ کیا۔انہوں نے کہاکہ میراپانچ سالہ دورمیں بہت خوشحالی آئی ،ملک میں ترقی کی طرف بڑھ رہاتھااورہماری خارجہ پالیسی بھی درست سمت کی طرف گامزن تھی ۔بھارتی وزیراعظم واجپائی اورمنموہن سنگھ کے سامنے مسئلہ کشمیرکواٹھایااورمسئلہ کشمیرحل کی طرف بڑھ رہاتھا۔انہوں نے کہاکہ میرے دورمیں 3باربلدیاتی الیکشن ہوئے ،حکومتی پاورنچلی سطح پرمنتقل ہوئی ،مگرآنے والی حکومت نے بلدیاتی نظام کوختم کردیا۔جنرل(ر)پرویزمشرف نے مزیدکہاکہ میری زندگی کاسب سے بڑابلنڈریہ تھاکہ سیاسی جماعتوں کے ساتھ این آراوسائن کیا۔این آراومیں تیسری دفعہ وزیراعظم بننے کی اجازت دے دینی چاہئے تھی مگرسیاسی لوگوں کے اوپرجومقدمات تھے وہ ختم نہیں کرنے چاہئے تھے ۔لال مسجدآپریشن درست فیصلہ تھا،چیف جسٹس افتخارچوہدری کوہٹانادرست اقدام تھا،بارہ مئی کراچی کے واقعات میں میراکوئی تعلق نہیں تھا۔12مئی کے واقع میں سیاسی جماعتوں کے عسکری ونگ شامل تھے ۔انہوں نے مزیدکہاکہ بے نظیرکوپاکستان میں واپس لانے کیلئے امریکہ کاکافی پریشرتھامگربے نظیرمعاہدے کی خلاف ورزی کرکے پاکستان آگئی ،بے نظیرکے آنے کے بعدسعودیہ عرب نے نوازشریف کوپاکستان آنے کی اجازت دینے کیلئے کافی دباؤڈالا۔

مزید : صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...