زاہد ملک محب وطن پاکستانی اور قائد اعظمؒ کے سچے عاشق تھے: سی پی این ای

زاہد ملک محب وطن پاکستانی اور قائد اعظمؒ کے سچے عاشق تھے: سی پی این ای

لاہور(پ ر) زاہد ملک مرحوم ایک سچے اور محب وطن پاکستانی تھے ان کی صحافتی خدمات ناقابل فراموش ہیں وہ قائداعظم کے سچے عاشق تھے انہوں نے تمام زندگی اپنے قلم سے اسلام اور پاکستان سے سچی محبت کا پرچار کیا، ان کی رحلت سے پاکستان کی صحافت اپنے رہنما بالخصوص عالم اسلام اپنے ایک بہترین سفارتکار سے محروم ہوگیا۔ ان خیالات کااظہار ضیا شاہد کی زیر صدارت کونسل آف پاکستان نیوز پیپر ایڈیٹرز (سی پی این ای) کے زیر اہتمام لاہور میں منعقدہ تعزیتی ریفرنس میں مقررین نے کیا۔ ضیا شاہد نے تعزیتی ریفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ جانے والے لوگوں کو یاد کرکے دل آبدیدہ ہو جاتا ہے مرحوم ساری عمر پاکستان میں نظام کی بہتری کے خواہاں رہے۔ وہ پاکستان سے محبت کرنے والے انسان تھے۔ سقوط ڈھاکہ کے بعد ان کی خواہش تھی کہ جو پاکستان بچ گیا ہے اس کے لئے دعا گو رہنا چاہیے، وہ ہمیشہ پاکستان ٹوٹنے کے حوالے سے غلطیوں اور کوتاہیوں کی کھوج میں رہتے اور ان کے ازالے کے لئے کوششیں کرتے رہے۔ پاکستان میں کوئی ایسا شخص نہیں ہے جس کو زاہد ملک مرحوم سے کوئی شکایت رہی ہو۔ زاہد ملک مرحوم کی وفات صحافتی دنیا کا ایک بڑا نقصان ہے۔ ضیا شاہد نے کہا کہ مرحوم نے صحافتی زندگی میں ہمیں جو کچھ دیا اسے آگے بڑھانا چاہئے۔ مرحوم ہر دلعزیز شخصیت کے مالک تھے، میں نے اپنی زندگی میں صحافتی حلقہ میں مجید نظامی اور زیڈ اے سلہری جیسا محب وطن شخص نہیں دیکھا زاہد ملک وہ تیسرے شخص تھے جو ان جیسی سوچ کے مالک تھے انہوں نے اپنی ساری زندگی پاکستان کی محبت اور بہتری میں گزاری، جس طرح وہ پاکستان کی محبت سے سرشار تھے ایسے ہی ان کے دل میں کشمیر سے اور اس کی عوام سے بھی محبت تھی، جمیل اطہر قاضی نے مرحوم کی صحافتی خدمات پر شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے تمام زندگی نظریہ پاکستان کے تحفظ میں گزار دی ۔ وہ ایک ہردلعزیز شخصیت کے مالک انسان تھے۔ انہوں نے پاکستان میں نظریاتی صحافت کو فروغ دینے میں اہم کردار ادا کیا۔ انہوں نے ہفت روزہ حرمت اور ڈیلی پاکستان آبزرور کے ذریعے پاکستان کا پیغام پوری دنیا تک پہنچایا وہ ایک سچے، محب وطن پاکستانی تھے۔ مرحوم نے اپنے اخبارات کے ذریعے صحافت میں نئے اور جدید رجحانات کو فروغ دیا۔ جمیل اطہر قاضی نے کہا کہ صحافی وہ ہے جو اپنی زندگی میں ایک نصب العین سامنے رکھ کر اپنی صحافتی روایات نبھائے۔ زاہد ملک مرحوم اس نظریے کے عین مطابق زندگی گزار کر گئے۔ مجھے مرحوم کے ساتھ حج کرنے کی سعادت نصیب ہوئی اس دوران میں نے انہیں سچا عاشق رسول پایا۔ جب بھی پاکستان کو کسی بحران کا سامنا کرنا پڑا مرحوم کو ہمیشہ صف اول میں کھڑا پایا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ایٹمی پروگرام پر کام شروع کیا اور اس دوران انہیں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا تو زاہد ملک مرحوم نے ان کا بھرپور ساتھ دیا جس کی انہیں قیمت بھی ادا کرنی پڑی لیکن وہ ثابت قدم رہے۔عارف نظامی نے کہا کہ زاہد ملک نے اپنی ساری زندگی اس طرح سے گزاری کہ کوئی یہ نہیں کہہ سکتا کہ وہ اُن سے کسی بھی بات پر ناراض ہے۔شاہین قریشی نے زاہد ملک کے بارے میں اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ایسے لوگ ہمیشہ زندہ رہتے ہیں وہ ہمارے دلوں میں زندہ ہیں ،وہ ایک نظریاتی انسان تھے اُن کی موت صحافت کے لئے ایک بہت بڑا نقصا ن ہے۔ وقار ملک نے کہا کہ میں مرحوم کے بہت قریب رہا۔ انہوں نے 81ء میں ہفت روزہ حرمت کا اجراء کیا اور لفظ حرمت کی حرمت رکھتے ہوئے اس کی اشاعت کی ،انہوں نے کہا کہ میں نے ایک دفعہ اُن سے پوچھا کہ آپ نے ہر آمر کے دور میں اُس کے ساتھ ایسے بات کی جیسے عام حالات میں کرتے رہے ہیں جس پر اُن کا کہنا تھا کہ ’’ہر دور میں ہر بات کی جاسکتی ہے بس بات کرنے کا طریقہ آنا چاہیے‘‘ ۔ وہ ہمیشہ کہتے تھے کہ یہ نہ کہو کہ پاکستان نے ہمیں کیا دیا سوچو تم نے آج تک پاکستان کو کیا دیا ہے۔ امتیاز عالم نے اپنے تعزیتی کلمات میں کہا کہ اگرچہ مجھے براہ راست زاہد ملک مرحوم کے ساتھ کام کرنے کا موقع نہیں ملا اور ان کی زندگی میں نظریاتی اختلافات کے باوجود میں ان کا معترف ہوں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں برداشت کی خوبی سے نوازا تھا۔ وہ اپنی سوچ سے اختلاف رکھنے والوں کوبھی محبت کی نگاہ سے دیکھتے تھے جس کی واضح مثال مرحوم کی زیرادارت شائع ہونے والا اخبار پاکستان آبزرور ہے جس کے صفحات میں انہوں نے نظریاتی اختلاف رکھنے والوں کو بھی اظہار خیال کی مکمل آزادی دی۔ یہ ایک بڑے انسان کی اعلیٰ ترین خوبی ہے۔ امتیاز عالم نے کہا کہ زاہد ملک مرحوم نے اپنے اخبار میں لکھنے والوں پر کبھی کوئی پابندی نہیں لگائی۔ انہوں نے اپنے اخبارات میں لکھنے والوں کو کھلی بحث کا بھرپور موقع دیا۔ سرفراز سید نے کہاکہ زاہد ملک صحافتی حلقے میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ اُنہوں نے اپنی صحافتی زندگی سے یہ ثابت کیا کہ صحافت اگر اصولوں پر کی جائے تو صحافی ہمیشہ زندہ رہتا ہے۔ تعزیتی ریفرنس میں اعجاز الحق سیکرٹری جنرل (سی پی این ای) عرفان اطہر قاضی جوائنٹ سیکرٹری (سی پی این ای) رحمت علی رازی ، سید سجاد بخاری، نوید چوہدری، خالد چوہدری، ادیب جاودانی، محمد سلیم، عثمان غنی، صفدر علی خان، طلعت محمود، ایاز خان، ندیم چوہدری ،اخبارات و جرائد کے مدیران و صحافیوں کی کثیر تعداد نے شرکت کی۔ تعزیتی ریفرنس کے اختتام پرایصال ثواب کیلئے فاتحہ خوانی کی گئی۔

مزید : صفحہ آخر