سندھ کے تعلیمی اداروں کو عالمی معیار پر لا نا ضروری ہے، تاج حیدر

سندھ کے تعلیمی اداروں کو عالمی معیار پر لا نا ضروری ہے، تاج حیدر

کراچی (اسٹاف رپورٹر) سینیٹ میں پاکستان پیپلز پارٹی کے پارلیمانی لیڈر سینیٹر تاج حیدر نے ایک اخباری بیان میں وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ اور وزیر تعلیم جام مہتاب کو صوبے میں تعلیمی ایمرجنسی لگانے پر مبارکباد دی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تعلیمی ایمرجنسی پر پوری طرح عملدر آمد ہونا چاہئیے اورسندھ دھرتی کے ایک ایک فرد کو اس اقدام کے مثبت نتائج حاصل کرنے کے لئے اپنا بھرپور کردار ادا کرنا چاہئیے ۔ ہمارے تعلیمی اداروں کی بربادی اور ان کا گرتا ہوا معیار پورے سندھ کی بربادی ہے اور سندھ کی تعمیر نو کا آغاز سندھ کے تعلیمی اداروں کو عالمی معیار پر لا کر ہی ممکن ہوسکتاہے۔ پی پی پی میڈیا سیل سندھ سے جاری بیان میں انہوں نے بتایا کہ پارٹی کی تشکیل کے ابتدائی دنوں میں وہ کئی اقتصادی منصوبے لے کر شہید ذوالفقار علی بھٹو کی خدمت میں حاضر ہوئے تھے ۔ شہید بھٹو نے ان منصوبوں کو دیکھنے کے بعد ان سے کہا تھا ، ’’تاج حیدر ۔ بچوں کو تعلیم دے دو ۔ یہ بچے ہم سے کہیں بہتر منصوبے بنائیں گے اور ان پر عمل کرکے دکھائیں گے ۔ ‘‘ افسوس کی بات یہ ہے کہ سندھ جس کی درسگاہوں نے قائد اعظم محمد علی جناح ، شہید ذوالقار علی بھٹو ، شہید بی بی محترمہ بینظیر بھٹو صاحبہ اور کتنے ہی دوسرے علمی اور عملی مشاہیر پیدا کئے تھے آج جہالت کے اندھیروں میں ڈوب رہا ہے ۔ درسگاہیں اپنی جگہ ہیں ۔ تعلیمی بجٹ اپنی جگہ ہے ۔ ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اساتذہ موجود ہیں لیکن تعلیمی سرگرمی نہ ہونے کے برابر ہے ۔اساتذہ سے زیادہ اس بات کو کوئی نہیں سمجھتا کہ خرابیاں کہاں ہیں اور ان کو کس طرح ٹھیک کرنا ہے ۔ سندھ کی ہر ماں اپنے بچوں کو اعلی تعلیم دلانا چاہتی ہے ۔ آئین کی اٹھارویں ترمیم نے 5 سال سے16سال کی عمر تک کے ہر بچے کی تعلیم ریاست کی ذمہ داری ٹہرائی ہے ۔ صوبائی اسمبلی اس آئینی ذمہ داری پر عملدرآمد کے لئے ضروری قانون بھی پاس کر چکی ہے ۔ اللہ کی رحمتیں ان اساتذہ پر ہوں جنہوں نے پاکستان کی آزادی کے بعد ہمیں ٹاٹ اور ٹوٹی ہوئی بنچوں پر بٹھا کر زیور تعلیم سے مر صع کیا اور درسگاہوں میں دو منٹ سے زیادہ دیر سے پہنچنے پر ہمیں سزائیں دیں ۔ لاکھوں مہاجرین لٹ پٹ کر پاکستان پہنچے تھے ۔ خیموں میں اسکول لگائے گئے لیکن کسی بچے کا ایک بھی تعلیمی سال ضائع نہیں ہونے دیا گیا۔ بچے درسگا ہوں میں اس وقت آئیں گے جب اساتذہ خود وقت سے پہلے درسگاہوں میں موجود ہوں گے ۔ بچوں کا تعلیمی معیار صرف اس وقت بلند ہوگا جب اساتذہ اپنی قابلیت اور تدریسی معیار میں مسلسل اضافہ کرتے رہیں گے ۔ حیرت کی بات یہ ہے کہ ہمارے چند اساتذہ اسلام آباد میں واقع سپریم کورٹ تک تو پہنچ سکتے ہیں لیکن اپنے گوٹھ میں واقع اسکول تک نہیں پہنچ سکتے ۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے اسکول سال میں 154 دن کھلتے ہیں اور ان میں روزانہ ڈیوٹی کے اوقات صرف 4 سے 5 گھنٹے ہوتے ہیں ۔ کیا یہ اتنا زیادہ بوجھ ہے جو اٹھایا نہیں جاسکتا ۔ ایک دور آیا تھا جب قلم اور کتاب چھوڑ کر کلاشنکوفیں اٹھانے کی بات کی گئی تھی۔ یہ دور اب گزر چکا ہے۔ اب ہم سے ہر ایک نے بخوبی دیکھ لیا ہے کہ اصل طاقت قلم اور کتاب کی ہے ۔ اصل سرفرازی علم حاصل کرنے کی ہے ۔ سینیٹر تاج حیدر نے سندھ دھرتی کے نام پر سندھ کے ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ اساتذہ سے اپیل کی کہ وہ آگے بڑھیں اور اپنے تدریسی فرائض کو بہتر سے بہتر طور پر ادا کریں ۔ انہوں نے سندھ دھرتی کی ہر ماں سے اپیل کی کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ ان کا ہر ایک بیٹا اور بیٹی اسکول میں داخل ہو اور پابندی وقت کے ساتھ اسکول میں حاضر ہو ۔ تمام والدین سے انہوں نے اپیل کی کہ وہ اپنا فرض سمجھتے ہوئے اس بات پر نظر رکھیں کہ ہر درسگاہ میں پوری حاضری کے ساتھ تعلیمی سرگرمیاں جاری ہیں کہ نہیں ۔ اور اگر وہ کہیں دیکھتے ہیں کہ تساہل برتا جارہا ہے تو وہ اس کی اطلاع فوری طور پر تعلیمی کھاتے کے سیکر یٹری اور وزیر کو دیں ۔

مزید : کراچی صفحہ اول