چترال ،ٹریفک حادثات میں2افراد جاں بحق ،22زخمی

چترال ،ٹریفک حادثات میں2افراد جاں بحق ،22زخمی

چترال ( نمایندہ پاکستان ) عید کی خوشیاں گھر والوں کے ساتھ گزارنے کی آرزو لے کر پشاور سے چترال آنے والی دو مسافر گاڑیاں حادثے کا شکار ہوئیں جس میں مجموعی طور پر دو افراد جان بحق اور 22زخمی ہوئے۔ پہلا حادثہ لواری ٹاپ کے مقام مٹی خوڑ میں پیش آیا ۔ جس کے نتیجے میں دو افراد جان بحق اور 12افراد زخمی ہو گئے ۔ حادثہ ڈرائیور کو نیند آنے کی وجہ سے پیش آیا ۔ذرائع کے مطابق ہائی ایس نمبر K 1236جسے ڈرائیور آصف اللہ ساکن پشاور چلا رہا تھا ۔ گذشتہ رات پشاور سے چترال روانہ ہو ا ۔ اور اتوار کی صبح جب وہ لواری ٰ ٹاپ کراس کرکے چترال کے مقام مٹی خوڑ پہنچا ۔ تو رات بھر کی بے خوابی غالب آئی اور ڈرائیورچلتے میں ہی سو گیا ۔ اور ہائی ایس سڑک چھوڑ کر کر کھائی میں جاگری ۔ جس کے نتیجے میں صغیر ولد شمس الحسین ساکن بونی گول چترال اور کامران ولد خان ساکن تہکال بالا پشاور موقع پر ہی جان بحق اور عبدا لمجید ، احمد شریف اورعبدالوہاب ساکنان بیوڑی دروش ،امجد حسین بونی لشٹ ، قدیرالاسلام موری بالا ،عزیز ولی کجو ، سراج الدین چرون ، صدام حسین بکر آباد ، احسان علی بونی گول ، سجاد پشاور اور سمیع اللہ ساکن کریم آباد لٹکوہ زخمی ہو گئے ۔ جن میں سے بعض زخمیوں کو ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال اور بعض کو ٹی ایچ کیو ہسپتال دروش میں داخل کیا گیا ہے ۔ زخمیوں میں امجد حسین ساکن بونی لشٹ کی حالت نازک بتائی جاتی ہے ۔ جسے ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال سے پشاور ریفر کیا گیا ہے ۔ دوسرا حادثہ چترال آنے والی ایک اور ہائی ایس کے ساتھ دیر سائڈ پر پیش آیا ۔ جس میں اطلاعات کے مطابق دس افراد زخمی ہوئے ہیں ۔ چترال ڈی ایچ کیو ہسپتال چترال میں زخمیوں کے رشتے داروں اور مقامی لوگوں نے شدید غم و غصے کا اظہار کرتے ہوئے آئے روز پشاور سے چترال آنے والی مسافر گاڑیوں کے حادثات کے ذمہ دار پشاور انتظامیہ اور پشاور کے گلی کوچوں میں پولیس کے زیر انتظام چلنے والے بوگس اڈوں کو قرار دیا ۔ جو ملی بھگت کرکے گلی کوچوں میں چترال کیلئے ٹکٹ گھر کھول کر مسافروں کو رات کے وقت سفر کرنے پر مجبور کرتے ہیں ۔ اور درجنوں من سامان مسافر گاڑیوں کے چھت پر لوڈ کرکے لواری ٹاپ جیسے خراب سڑک پر رات کے وقت سفر کرتے ہیں ۔ اور نتیجتا سفر کے دوران ڈرائیوروں کو نیند آنے ا ور خراب سڑک کے باعث مسافر گاڑیاں حادثات کا شکار ہوتی ہیں ۔ اور قیمتی انسانی جانیں ضائع ہوتی ہیں ۔ انہوں نے آئی جی پشاور سے پُر زور اپیل کی ۔ کہ کابلی تھانے کی حدود میں چترال کیلئے قائم جعلی ٹکٹ گھروں کو ختم کرکے حاجی کیمپ اور لاہور اڈے میں قائم سٹینڈ سے چترال کیلئے دن کے وقت سروس کا انتظام کرواکر لوگوں پر احسان کریں ۔ تاکہ چترال کے لوگوں کی جانیں حادثات سے محفوظ ہوں اور جعلی ٹکٹ گھروالے مسافروں سے جو من مانی کرایہ وصول کرتے ہیں اُس کا بھی ازالہ ہو سکے ۔

مزید : راولپنڈی صفحہ آخر

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...