گستاخ قوال

گستاخ قوال
گستاخ قوال

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

قوالی قوالی ہوتی ہے اور گانا گانا.... دانا گلوکاراور موسیقار اس امتیاز کو قائم رکھتا ہے تو اسکی تخلیق کامیابی کے ڈنکے بجاتی ہے ،بصورت دیگر وہ بری طرح پٹ جاتاہے۔ کوک سٹوڈیو میں کچھ ایسے ہی مظاہرے دیکھنے کو مل رہے ہیں۔کوک سٹوڈیوموسیقی کی دلدادہ نئی نسل کو اپنے کلاسیک گیتوںسے موہ لینے کی کوششوں میں کامیاب ہوچکا تھالیکن اب اس کا حوصلہ ایسا بڑھا چکاہے کہ اس نے موسیقی کا تیاپانچہ اور حشر نشرکرنے کی ٹھان لی ہے۔اسی سٹوڈیو میں کئی نامور گلوکاروں نے اپنے سدا بہارگیتوں کو جدید موسیقی آلات کی مدد سے نوجوان نسل کے لئے ذرا آسان بنا کر پیش کیا ہے توسر ،لے، تال سے ناواقفوں کو اپنے ساتھ ملا کر راگ پورا کرنے کی کوششیں کی ہیں ۔اسکا نتیجہ یہ نکلا ہے کہ جب سے معروف سدا بہاراور کلاسیکل گیتوں اور قوالیوں پر مشق ستم کی جانے لگی ہے موسیقی کی دلدادہ پرانی نسل کے دلوں کے تارٹوٹنے لگ پڑے ہیں ۔ابھی کل کی بات ہے ۔ایک ایلیٹ سکول میں جانے کا اتفاق ہوا۔بچیوں نے ٹیبلو میں بڑے مان سے بتایا کہ وہ عاطف اسلم کی قوالی تاجدار حرم پیش کریں گی۔ یہ سنتے ہی میں نے چونک کر منتظمین کی جانب دیکھا لیکن کسی نے اس بات کا نوٹس نہ لیا کہ بچیاں جس قوالی کا ذکر کررہی ہیں وہ توکئی دہائیوں سے مقبول عام ہے اور اپنے زمانے کے ہر دلعزیز قوال غلام فرید صابری نے گائی تھی۔وہ امجد فرید صابر کے والد تھے جو حال ہی میں کراچی میں قتل ہوئے ہیں ۔بچیوں نے عاطف اسلم کے انداز میں قوالی پیش کی تو میرا دل بجھ سا گیا۔میں نے شام کو گوگل پر عاطف اسلم کی گائی ہوئی قوالی سنی تو سینہ کوبی کرنے کو دل چاہا کہ موصوف اگرچہ سر اور لے جانتے ہیں لیکن انہوں نے یہ قوالی غیرروائتی طور پر گیت کے انداز میں گائی گئی ہے ۔ ایک گیت اور قوالی کا انداز ہی دونوں اصناف اور انکے اثر کو بڑھاتا ہے ۔ان سے بہت بہتر انداز میں جدت کا تڑکا لگا کر امجد صابری یہی قوالی پیش کرچکے ہیں، لیکن عاطف اسلم نے تو مقبول عام قوالی کا ستیاناس کرکے رکھ دیا ہے ،ستم یہ کہ موجودہ نسل کو یہ علم ہی نہیں کہ جس عظیم قوال نے ”تاجدار حرم “ قوالی پیش کی تھی اسکا گائیکی میں کیا مقام تھا ۔اس قوالی کے کلام اور راگ و ساز سے وجد و حال پیدا ہوتا تھا اور آج بھی دنیابھر کے قوال اس قوالی کو گاتے ہیں تو محفلوں میں عشاق کے سینوں سے آہیں اور آنکھیں وفور الفت میں برسنے لگتی ہیں۔مشرقی موسیقی کی سب سے خوبصورت بات بھی یہ ہے کہ یہ من کی تاروں کو چھوتی اور تن کو بے حال کردیتی اور سرور کے جام پلاکر بے خود کردیتی ہے ۔اسکی ہر لے میں تناسب دلکشی اور مقناطیسیت ہوتی ہے جو روح کو سرشار کرتی ہے۔ایسی موسیقی کو ہی روح کی غذا کہا جاتا ہے جو کلام اور راگ سے روح کی لطافت پر وارد ہوتی ہے۔اطمینان پیدا کرتی ہے۔ ناکہ موجودہ بے سُروں اور گستاخ گلوکاروں کے ہیجان آمیزبدمزہ گیتوں کی طرح روح پر کثافت پھینکتی ہے۔غلام فرید صابری جب تاجدار حرم گاتے تھے تو انکی پرفارمنس کا اپنا حسن ہوتا تھا لیکن دوسری جانب انکے کلام کی تاثیر سے غیر مسلموں کی نبضیں بھی تیز ہوجایا کرتی تھی ۔وہ کہا کرتے تھے” مجھے یقین ہے یہ قوالی میری بخشش کا ذریعہ بن سکتی ہے کیونکہ میں اسکو عبادت سمجھ کر پیش کرتا ہوں،گاتا نہیں ہوں،میں بولتا چلا جاتا ہوں ،الفاظ سُروںکی پاکیزگی کا دامن پکڑ کر فضا میں ترنم بکھیر دیتے ہیں “لام فرید صابری تہجد گزار قوال تھے۔انکے گلے میں ہزاردانوں کی جو تسبیح نظر آتی تھی،رات کو انکے سرہانے پڑی ہوتی اور تہجد سے پہلے باوضو ہوکر اس پر ذکر اللہ کیا کرتے تھے۔تہجد کے بعد وہ باجا اٹھاتے اور راگ بھیروں میں ریاض شروع کردیتے تھے۔یہی وجہ تھی کہ دم آخر تک ان کیے سُر میں لے اور قوت کو زوال نہیں آیاتھا۔انکی قوالیوں میں پاکیزگی اور روحانی تصرف بھی اسی وجہ سے قائم تھا۔

اب ذرا عاطف اسلم کے گلے سے نکلنے والے سُروں اور اس سے زیادہ اسکی موسیقی کی ترتیب دینے والے کو دیکھیں توانکو دُرے مارنے کو دل چاہتا ہے کہ انہوں نے مقبول عام ایک پاکیزہ قوالی کے معروف جذبے اور بے خودی کو بالکل فراموش کردیا ہے،قوالی کی روح کو زخما دیا ہے۔ غلام فرید صابری قوال اپنے بھائی مقبول صابری کے ساتھ خود کلام سن کر راگنیوں سے چھیڑ خانی شروع کرتے اور اسکا راگ تیار کرتے تھے۔انہوں نے تاجدار حرم ایک مخصوص راگ میں گائی تھی لیکن عاطف اسلم نے کسی ایک راگ کو نہیں اپنایا بلکہ مختلف راگوں کا مربہ بناکر رکھ دیاہے۔ یہی قوالی وہ فریدہ خانم کی آواز میں بھی سن لیتے تو انہیں معلوم ہوجاتا کہ اس کلام اور راگ کا فنی اور روحانی تقاضا کیا ہے اور اسکے قوال کو کس قدر ماہر ہوناچاہئے۔میری معلومات کے مطابق جب ابھی امجد صابری حیات تھے۔انہوں نے عاطف اسلم کو یہ قوالی گاتے سنا تو کہاتھا” ابا جی کو خراج تحسین پیش کرنا اچھی بات ہے لیکن جس قوت اور جذبے کے ساتھ گانے کی ضرورت تھی وہ یہ پیدا نہیں کرپائے۔قوالی آسان کام نہیں۔میں نے اباجی کی زندگی میں جب پہلی بار لالوکھیت میں پرفارمنس پیش کی تو گھر واپس آکر ان سے داد حاصل کرنا چاہی تو انہوں نے مجھے باجے سے پیٹااور کہاتیرے پھیپھڑوں میں ابھی طاقت کم ہے،تو گایا نہ کر۔“ سچ تو یہ ہے ہمارے ہاں نوجوان گلوکاروں نے پھیپھڑوں ،سینے ،گلے اور پیٹ کی یکجائی سے سُر اورلے کو نہیں پہچانا ۔وہ ناک یا گلے کی ریاضت کرتے ہیں اور سمجھتے ہیں کہ موسیقی میں اندرونی جسمانی اعضا کو بھی موسیقی کی ریاضت کی ضرورت نہیں ہوتی۔استاد مہدی حسن کہا کرتے تھے کہ جب انکے بڑوں نے چاہا کہ وہ گلوکار بنیں تو انہیں اکھاڑے میں کشتیاں لڑائی جاتیں۔بہت سے پرانے کلاسیکل گلوکار جسمانی مشقت سانس کی پختگی کے لئے کیا کرتے تھے۔استاد نصرت فتح علی خان سے ایک بار میں نے پوچھا کہ کیا آپ بھی گائیکی کے لئے جسمانی مشقت کے قائل ہیں تو انہوں نے کہا تھا۔میرا وزن اور سٹیمنا اتنا بڑھ گیا ہے ریاضت کرتے کرتے کہ میں سینے اور پیٹ سے زور لگا کر سُروں کو کنٹرول کرتا ہوں اور ایک ہی سانس میں کئی پلٹے لگا سکتا ہوں۔۔۔۔خیر موجودہ نسل موسیقی کی بنیادی مشقتوں سے ناواقف ہے اور سانس کی کمزوری کو جدید آلات سے کنٹرول کرتی اور زیروبم میں کمی بیشی کرکے ترنم بکھیرنے کی کوشش کرتی ہے۔نئی نسلموسیقی کے معیار سے ناواقف ہے اسی لئے گستاخان موسیقی بے سرے گلوکارانہیں بے وقوف بنا کر اساتذہ کا فن مٹی میں رول دیتے ہیں۔ عاطف اسلم اگرچہ قدرے محنتی ہیں لیکن سُراورلے میں وہ استادانہ رموز پر ہاتھ ڈالنے کی کوشش نہیں کرتے جیسا کہ انہوں نے ”تاجدار حرم“ میں کیا ہے۔انہوں نے گاتے ہوئے مشکل ”جگہیں“ چھوڑ کر اپنے راک میوزک میں پناہ لینے کی کوشش کی ہے جس سے مقبول عام قوالی کا ستیاناس ہوگیاہے۔

مزید : بلاگ