بکرے اور انا کی قربانی

بکرے اور انا کی قربانی
بکرے اور انا کی قربانی

تحریر: چوہدری ذوالقرنین ہندل

پاکستان دنیا کا واحد اسلامی ملک ہے جہاں عید پر مہنگائی عام دنوں سے کئی سو گنا بڑھ جاتی ہے ۔بڑی عید پر قربانی ایسا مسئلہ ہے جس کا حکومت نے حل نہ نکالا تو غربت کی چکی اور مہنگائی کے عفریت میں پھنسے مسلمان اسکا کوئی نادر حل نکالنے پر مجبور ہوسکتے ہیں۔عیدپر جانوروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کرتی ہیں۔یہ بڑھتی ہوئی قیمتیں امیروں کے لئے تفریح اور غریبوں کے لئے ناسور بن کر رہ گئی ہیں۔یہ ناسور ہر کسی کو دکھائی دیتا ہے لیکن ہر کوئی اپنی انا کے شیطانی جال میں پھنسا ہوا دکھائی دیتا ہے۔سچ تو یہ ہے عید پر اس انا کو قربان کر دیاجائے تو معاشرہ بربادہونے سے بچ سکتا ہے۔ہمارے وطن اور معاشرے میں انا و میں کی بھینٹ سینکڑوں لوگ چڑھ رہے ہیں۔یہ انا عید پر ہی نہیں زندگی کے ہر معاملے میں اکڑ جاتی اور معاشرے میں ناہمواری اور عدم استحکام پیدا کرتی ہے۔یہاں دو گز زمیں پر قتل ،گاڑی سٹینڈ کی پرچی پر قتل اور متعد واقعات پر جان کا خاتمہ۔معاشرے کو انا و¿ں کے خاتمے کی اشد ضرورت ہے۔یہاں ہر کوئی اپنی انا کی وجہ سے پھنے خاں بنا پھرتا اور دوسروں کو حقیر جانتا ہے۔لفظ مَیں اور انا ....ہر شخص میں رچ بس چکا ہے ۔چاہے وہ چھوٹا ہے ،بڑا ہے، بوڑھا ہے، غریب ہے ،امیر ہے ،سیاستدان ہے، حکمران ہے ،مذہبی اسکالر ہے ،صحافی ہے، پولیس آفیسر ہے ،مالک ہے یا ملازم.... کوئی شرط نہیں۔سب ”میں اورانا“ کے مرض میں مبتلا ہیں ۔کل کی بات ہے۔اپنے محلے میں بچوں کو قربانی کے بکروں سے کھیلتے ہوئے دیکھا تو انکی طرف متوجہ ہو گیا۔ اچانک بچے کھیلتے کھیلتے اس بحث میں لگ گئے کہ ”میرا بکرا بڑا ہے ،نہیں میرا۔میرا بکرا زیادہ خوبصورت ہے ،نہیں میرا“

بچوں کی بحث کا رنگ اچانک بدل گیااور بات اوقات اور ذات پر آن پہنچی”تمہاری اتنی اوقات نہیں کے تم اچھا بکرا خرید سکو“میں بڑا حیران ہوا کہ چھوٹے چھوٹے بچے اور اتنی زیادہ اکڑ اور انا ۔سوال پیدا ہوتا ہے کہ ان بچوں کو انااور اکڑ کی تربیت کہاں سے ملی،ظاہر ہے گھر سے۔ سچے دل سے سوچئے گا کہ کیا عید قربان پر ایسا رویہ عام دکھائی نہیں دیتا۔اب تو بڑے بچوں کو خوش کرنے کے لئے انکی مرضی کے مطابق جانور خریدتے ہیں تاکہ وہ سکول کالج اور محلے میں اپنی ناک اونچی کرکے بتا سکیں کہ انہوں نے کس قسم کا جانور کتنی قیمت میں خریدا ہے ہے۔کیا اللہ کو ہم سے اس جذبے اور نیت کے ساتھ قربانی مطلوب ہوتی ہے۔قربانی تو وفااور اطاعت کا نام ہے۔ لیکن ہم نے دوسروں کو جتلانے کے اس کا اہتمام کرنا ہوتا ہے۔کیا ایسی قربانی قبول ہوگی۔قیامت کے دن یہ اعمال اسی وجہ سے ہمارے منہ پر مارے جائیں گے۔جس معاشرے میں اللہ کے حکم کی نافرمانی عام ہوتی ہے اسے ریاکار اورمتکبرمعاشرہ کہا جاتا ہے۔قربانی کا اصل مقصدتو اللہ تعالٰی کی رضا اور تقویٰ ہے۔مگر ہم لوگ دکھاوے کے لئے اپنی انا کو اونچا کرنے کے لئے قربانی خریدتے ہیں۔کبھی دل سے اللہ کی رضا اور سنت ابراہیم کے لئے سوچنا شروع کردیں معاشرے میں مساوات اور سکون پیدا ہوجائے۔لیکن ہم توبس یہ سوچتے ہیں شیخ صاحب نے اونٹ لیا ہے تو ہم کیوں پیچھے رہیں، فلاں نے دس لاکھ کا جانور خریدا توہم اس سے کم تو نہیں۔قربانی کو بھی انا اور دکھاوے کے کھیل میں نمائش بنا کر رکھ دیا گیاہے اور یہ سب مناظر پاکستان میں دکھائی دیتے ہیں۔اگر ہم نظر اٹھا کر اسلامی ملکوں کے رسم و رواج کو دیکھیں تو یقیناً شعائر عید کے مطابق اپنی تربیت کرسکتے ہیں۔شعائر اسلامی پر عمل کرنے سے ہم اچھے مسلمان اور اپنے ملک کے لئے اچھے انسان بن سکتے ہیں۔

مزید : بلاگ

لائیو ٹی وی نشریات دیکھنے کے لیے ویب سائٹ پر ”لائیو ٹی وی “ کے آپشن یا یہاں کلک کریں۔


loading...