تم نے گائے کا گوشت کھایا‘ میوات میں دو مسلمان کزنوں سے ہندو غنڈؤں کی اجتماعی زیادتی، مسلمان سراپا احتجاج

تم نے گائے کا گوشت کھایا‘ میوات میں دو مسلمان کزنوں سے ہندو غنڈؤں کی ...
تم نے گائے کا گوشت کھایا‘ میوات میں دو مسلمان کزنوں سے ہندو غنڈؤں کی اجتماعی زیادتی، مسلمان سراپا احتجاج

روزنامہ پاکستان کی اینڈرائیڈ موبائل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے کے لیے یہاں کلک کریں۔

میوات (ویب ڈیسک) بھارتی ریاست ہریانہ کے مسلم اکثریتی شہر میوات میں دوہفتے قبل گائے کا گوشت کھانے کے الزام میں ہندو غنڈوں کے ہاتھوں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والی 2 نوجوان کزنوں کی زندگیاں انتہا پسند تنظیموں، پنچایتوں اور ہندو غنڈوں نے اجیرن کر دیں۔ 20 سالہ لڑکی اور اسکی 14 سالہ کزن کے ساتھ گھر میں گھس کر شیطانی کھیل کھیلا گیا۔ دھمکیوں اور بدنامی سے خوفزدہ دونوں لڑکیاں میوات سے فرار ہو کر نئی دہلی پہنچ گئیں اور انسانی حقوق کی رہنما شبنم ہاشمی کی مدد حاصل کر لی، دونوں میں سے ایک لڑکی نے کہاکہ اُنہوں نے استفسار کیا کہ ’کیا آپ گائے کا گوشت کھاتی ہیں ، نفی میں جواب ملنے پر اُنہوں نے کہاکہ تم کھاتی ہو اور ایسا کرکے ہمارے جذبات کو مجروح کیا‘۔

پولیس کاکہناتھا کہ اس سے پہلے تحقیقات کے دوران ایسی کوئی بات سامنے نہیں آئی ، نہ ہی متاثرہ فیملی نے ایسا کوئی بیان دیا تاہم ریاستی حکومت نے سی بی آئی سے تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے ۔ 

’اس ملک میں مجھے بہت بڑی تباہی نظرآرہی ہے‘ پیشن گوئیوں کے ماہرنے انتہائی خطرناک پیشن گوئی کردی، ایسی تفصیلات بیان کردیں کہ بڑے بڑوں کی نیندیں اڑادیں

20سالہ لڑکی نے شبنم ہاشمی نے اپنی 14 سالہ کزن کے ہمراہ بتایا کہ گاﺅں کے 6 ہندو غنڈے کئی روز سے اسے تنگ کر رہے تھے، 24 اگست کو انہوں نے انتہا کر دی اور گھر میں گھس آئے اور کہا تم نے گائے کا گوشت کھایا ہے اسکی تم کو سزا ملے گی۔ ہم نے بڑی صفائیاں دیں مگر وہ درندگی پر اتر آئے۔یہاں یہ امر بھی قابل ذکر ہے کہ اس سے پہلے متاثرہ لڑکیوں کے چچا اور چچی کو بھی گوشت کھانے کے الزام میں باندھ کر موت کے گھاٹ اتارے جاچکا ہے۔

 بھارتی ٹی وی کے مطابق ہریانہ پولیس نے گاﺅں کے 4 اوباش ہندو غنڈوں کو قتل اور زیادتی کے الزامات پر گرفتار کر کے مقدمہ درج کر لیا، ملزمان کی شہرت بھی اچھی نہیں اور وقوعہ کی صبح شراب نوشی کرتے دیکھے گئے ہیں۔ دوسری طرف میوات کے مسلمانوں نے اس شرمناک واقعہ اور ظلم پر زبردست احتجاج کیا جبکہ میوات میں ہندو مسلم کشیدگی عیدالاضحی کی آمد کے پیش نظر پہلے ہی عروج پر ہے۔ بھارتی ذرائع ابلاغ نے ملکی قوانین کے تحت زیادتی کا شکار دونوں لڑکیوں کے نام اور چہرے ظاہر نہیں کئے۔

یہ خاتون بارات لے کر اپنے سسرال پہنچ گئی،وجہ ایسی کہ آپ بھی اس کی ہمت کو داد دیں گے ،تفصیلات کیلئے یہاں کلک کریں۔

مزید : بین الاقوامی